دیکھ لے ٹرمپ! امریکہ اذانوں سے گونج اٹھا.

تکلف برطرف : سعید حمید
کسی نے یہ سوچابھی نہیں تھا۔
اور امریکہ کے مسلمان تو بالکل مایوس ہوچکے تھے ۔ اس دن جب ڈونالڈٹرمپ نے صدر امریکہ کی کرسی سنبھالی۔
لیکن ۔۔۔
جیسا کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیئے ۔
آج مسلمانوں کے سامنے ایک معجزہ ہوگیا ۔
جس امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کو الیکشن میں اکثریت سے صدارتی الیکشن میں فتح حاصل ہوئی۔
اس امریکہ میں
صدرامریکہ کے ایک حکم کے خلاف ایسے زبردست مظاہرے ہوئے جس کی تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔۔
ڈونالڈ ٹرمپ ۔۔۔
جس امریکہ کے مسلمان گھبرائے ہوئے تھے کہ ٹرمپ کے دور اقتدار میں مسلم عورتوں کا حجاب پہن کر سڑک پر چلنا دشوار ہوجائیگا ۔
تم نے ایک حکم جاری کیا ۔
اور ایسے مظاہرے ہوئے ،
جن میں غیر مسلم مظاہرین نے مسلمانوں سے کہا : تم کھلے میدانوں میں ، سڑکوں پر چوراہوں پر۔ ائیرپورٹ پر ۔وہائٹ ہاؤس کے سامنے۔
اذانیں دو۔۔
نمازیں ادا کرو۔۔
دنیا نے دیکھا ۔۔
سارا امریکہ اذانوں سے گونج اٹھا ۔
تم مسلمانوں اور اسلام کے خلاف نفرت پیدا کرنا چاہتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہارے ایک مسلم دشمن حکم کی بدولت کروڑٰں امریکیوں کے دلوں میں اسلام اور مسلمانوں کے لئے ہمدردی پیدا کردی ۔
امریکہ میں جو ہوا ۔
اس سے انڈیا کے مسلم دشمن فرقہ پرست بھی سبق لیں اور ہوش میں آئیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی فتح پرہمارے ملک کے یہ مسلم دشمن ہندو تواوادی خوب بغلیں بجارہے تھے۔۔۔
گویا ان کا ابّا ہی صدر امریکہ بن گیا ۔
بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ ۔
ڈونالڈ ٹرمپ کی فتح پر ہمارے ملک کے مسلم دشمن فرقہ پرستوں کا یہ حال تھا۔۔۔
اور جو حال امریکہ کا ہوا ۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے پہلے آرڈر کے بعد ۔
۔۔۔ انہوں نے ۷؍مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ پر داخلے پر پابندی لگادی ۔
اس سے انہیں بھی ہوش کی دوالینی چاہئے ۔
جو امریکہ کے اسلام دشمنوں کی پرابلم ہے ۔
وہی انڈیا کے اسلام دشمنوں کی پرابلم ہے ۔
انہیں بھی الرجی ہے ۔
اسلام سے ۔
مسلمانوں سے ۔
مسجدوں سے ۔
نمازوں سے ۔
اذانوں سے ۔
حجاب سے ۔
ٹوپی اور داڑھی سے ۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے منہ کی کھائی۰
صدر امریکہ بننے کے فوراً بعد کوئی دوسرا اسقدر ذلیل وخوار نہیں ہوا ہوگا ۔ جس قدر ۔
ڈونالڈ ٹرمپ ذلیل ہوگیا ۔
اقتدار کے نشے میں جوچور ہوا ۔
پاش پاش اس کا غرور ہو ا۔
نمرودوفرعون سے لیکر ڈونالڈ ٹرمپ تک یہ بات باربار سچ ثابت ہورہی ہے ۔
تو پھر اپنی آنکھیں کھولو۔۔۔
اے ہندوستان کے اسلام دشمنو!
دیکھو۔۔۔
ڈونالڈ ٹرمپ کیسے ذلیل ہوا۔؟
صدر امریکہ نے کرسی سنبھالتے ہی ۷؍مسلم ممالک کے مسلمانوں پر امریکہ کے دروازے بند کردیئے۔
پھر کیا ہوا ۔ ؟
قدرت کا معجزہ ہوا ۔
یوں امریکہ میں کروڑوں افراد جن میں اکثریت غیر مسلموں کی تھی۔
سڑکوں پر چوراہوں پر اُتر آئے ۔
ایئرپورٹس پر پہنچ گئے ۔
مسلمانوں سے ہمدردی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا نیویارک ۔ واشنگٹن ۔ لاس اینجلز۔ سان فرانسسکو ۔ بوسٹن ۔ڈلاس ۔ شکاگو۔ کنسازاور دیگر شہروں میں راستوں پر مسلمانوں کی ہمدردی میں مظاہرے ہوئے۔
مظاہرین ائیرپورٹ پہنچ گئے ۔
امریکہ کے کئی بڑے ائیرپورٹس مظاہرین نے گھیر لئے ، جن کو یہ اطلاع ملی کہ مسلمانوں پر پابندی کی وجہ سے کچھ مسلم مہاجرین کو حراست میں لیا گیا ہے
اور روکا گیا ہے ۔
ان مظاہرین میں اکثریت غیر مسلموں کی تھی۔
کچھ مسلمان تھے ۔
اور مسلمانوں کو کہا گیا کہ آپ ائیرپورٹس پر اور مظاہروں کی جگہوں پر اذانیں دیں۔ نمازیں ادا کریں ۔
تب کیا ہوا ۔
پورا امریکہ اذانوں سے گونج اٹھا ۔
پورے امریکہ میں جگہ جگہ نمازیں ہوئیں ۔
یہاں تک کہ ۔۔۔
صدر امریکہ کی رہائش گاہ وہائٹ ہاؤس کے سامنے کھلے میدان میں اذان ونماز ہوئی۔ ۔۔
یہ سلسلہ امریکہ سے برطانیہ تک پہنچ گیا ۔
مسلمان اگر بڑی مہم چلاتے ۔
تب بھی ایسا مشکل تھا۔
لیکن ۔۔۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔
تمہارے ایک حکم کی وجہ سے امریکہ میں کیا سے کیا ہوگیا ۔۔۔؟
امریکی مسلمان تو بہت مایوس تھے ۔
کہ ڈونالڈ ٹرمپ جیت گیا ۔
اب کیا ہوگا ۔
جیسا کہ نیویارک کی ایک مسلم طالبہ ۱۵؍ سالہ سارہ حسن نے کہا ۔
’ کل ہم نے انسانیت پر اعتماد چھوڑ دیا تھا۔
کل تک ہم ناامید تھے ۔
ہم کل تک یہ سمجھ رہے تھے کہ ہرایک امریکی ڈونالڈ ٹرمپ کی طرح ہے ،
لیکن آج یہ بات غلط ثابت ہوئی۔
سارہ حسن بھی ٹرمپ مخالف اور مسلمانوں کی حمایت میں ہونے والے مظاہرہ میں کچھ مٹھی بھر مسلمانوں میں شامل تھی۔
بنگلہ دیش کی ایک دوسری مسلم طالبہ ماروہ غریب نے کہا ۔ ہمیں لگتا ہے ہم اب تنہا نہیں ہیں ۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے نفرت انگیز حکم کے خلاف جس طرح امریکی شہروں کی سڑکوں پر عوام کا سیلاب امڈ آیا ۔
وہیں امریکی عدالت نے بھی اس ملک کے دستور کی لاج رکھ لی۔
نیویارک کی ایک عدالت کی جج این ڈونل نے صدر امریکہ کے مسلمانوں پر پابندی کے حکم کے خلاف اسٹے جاری کردیا ۔
ایسی روشن مثال کیا ہمارے ملک میں مل سکتی ہے ۔۔۔؟
ڈونالڈ ٹرمپ نے اس ذیلی عدالت کے اسٹے آرڈر کے خلاف فیڈرل کورٹ میں دوڑ لگائی
لیکن ۔۔۔۔
وہاں بھی اسے منہ کی کھانی پڑی ۔
امریکہ کی فیڈرل کورٹ نے بھی ذیلی عدالت کا اسٹے آرڈر برقرار رکھا ۔
اسلئے ۔۔۔
امریکہ کے تمام ائیرپورٹس پر جس مسلم ممالک کے رفیوجی، مہاجرین، روکے گئے تھے حراست میں لئے جاچکے تھے ۔
اور جن کو ڈی پورٹ کرنے کی تیاریاں ہورہی تھیں ۔۔۔
ا ن سب کو آزاد کیا گیا ۔
وہ سب کے سب امریکہ میں داخل ہوئے ۔
اور ۔۔۔
امریکہ کے انصاف پسند شہریوں نے جو ائیرپورٹس کے باہر مسلسل مظاہرے کررہے تھے ۔ ان مسلم مہاجرین کا پرجوش استقبال کیا ۔
یہ نظارے پوری دنیا نے دیکھے ۔
ہمارے ملک میں بھی اسکی ویڈیو چلیں
بڑے پیمانے پر دیکھی گئی۔
اسلئے۔۔۔
اب دیسی ڈونالڈ ٹرمپ، جو ہمارے ملک میں اسلام دشمن ، مسلمان دشمن
زہر پھیلانا چاہتے ہیں ۔
ہوش کے ناخن لیں ۔
جس طرح امریکہ میںکروڑوں ایسے غیر مسلم ہیں۔ جن میں عیسائی، یہودی شامل ہیں ۔
جو نفرت میں یقین نہیں رکھتے ۔
اسی طرح ۔۔۔
ہمارے انڈیا میں بھی کروڑوں ایسے غیر مسلم ہیں ، جن میں ہندو ۔ بدھسٹ ۔ سکھ ۔ عیسائی شامل ہیں
جو نفرت سے نفرت کرتے ہیں ۔
اس لئے ۔۔۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے راستہ پر مت چلو۔
ملک کی سالمیت کو خطرے میں مت ڈالو۔
گنگا جمنی ذہنیت کو چیلنج مت کرو ۔
ورنہ ۔۔۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے خلاف جس طرح عوامی غصے کا طوفان امریکہ میں آیا ۔
اسی طرح کا طوفان ہندوستان میں بھی آسکتا ہے۔
مسلمان کتنا ہی کمزور سہی
لیکن ۔۔۔
اللہ تبارک وتعالیٰ پر اس کا پختہ یقین ہے ۔
اور اس یقین نے امریکہ میں ڈونالڈ ٹرمپ کے حکم کا جو حال کردیا ۔
ایسا ہمارے ملک میں بھی ممکن ہے ، انشاء اللہ
(مضمون نگار ممبئی اردو نیوز میں ایڈیٹر ہیں)
(بصیرت فیچرس)