عبدالعزیز
ہم مسلمان منافقت اور منافق کی اصطلاح سے کما حقہ واقف ہیں مگر اس کی جو پہچان اللہ کے رسولؐ نے بتائی ہے شاید کم لوگ واقف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اچھے سے اچھے لوگ اس مرض میں مبتلا ہوتے ہیں مگر ان کو اپنی بیماری کا حال معلوم نہیں ہوتا اور جو لوگ معاشرہ کو پاکیزہ اور بہتر بنانے کی کوشش کرتے ہیں اگر ایسے لوگوں کو جو منافقت کے مرض کے شکار ہیں انھیں ان کی حالت سے آگاہی نہیں دیتے تو دوسرے لوگ بھی اس بیماری میں دیر سویر مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اللہ کے رسولؐ منافقوں کی منافقت کو ایک عرصہ تک در گزر کرتے رہے لیکن جب اسلام اور مسلمانوں کو طاقت مل گئی تو اللہ کی طرف سے ان کے ساتھ سختی برتنے کا حکم دیا گیا۔ ان کی نماز جنازہ پڑھانے سے بھی اللہ نے رسولؐ کو منع کر دیاتھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا: ’’اے نبی! تم خواہ ایسے لوگوں کیلئے معافی کی درخواست کرو یا نہ کرو اگر تم ستر مرتبہ بھی انھیں معاف کر دینے کی درخواست کروگے تو اللہ انھیں ہر گز معاف نہیں کرے گا‘‘ (سورہ توبہ 80)۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منافق کی چار صفتیں بیان کی ہیں:
’’چار صفتیں ایسی ہیں کہ جس شخص میں پائی جائیں وہ خالص منافق ہے اور جس میں کوئی ایک صفت ان میں سے پائی جائے تو اس کے اندر نفاق کی ایک خصلت ہے جب تک کہ وہ اسے چھوڑ نہ دے۔ یہ کہ جب امانت اس کے سپرد کی جائے تو اس میں خیانت کرے اور جب بولے تو جھوٹ بولے اور جب عہد کرے تو اس کی خلاف ورزی کرجائے اور جب لڑے تو اخلاق و دیانت کی حدیں توڑ ڈالے‘‘ (بخاری و مسلم)۔
خدا نخواستہ کوئی ان چاروں خصلتوں کا پیکر ہو تو اسے پکا اور خالص منافق کہا گیا ہے۔ اب ہر شخص مذکورہ حدیث کی روشنی میں اپنی تصویر دیکھ سکتا ہے اور سمجھ سکتا ہے کہ آیا وہ منافقت کی لعنت میں مبتلا ہے یا نہیں؟ اگر کوئی ایک صفت بھی کسی میں منافق کی ہے تو اسے اپنے ایمان کی خیر منانا چاہئے اور جس قدر جلد ممکن ہو اسے چھوڑ دے۔ اگر چاروں خصلتیں ہوں تو ایک ایک کرکے اسے چھوڑ دے اور توبہ کرے کہ آئندہ ان بد خصلتوں سے دور رہے گا۔ جو لوگ ان خصلتوں کے حامل ہوتے ہیں منافقت کو چھوڑ دینے کی فکر نہیں کرتے ان کو دنیا میں بھی بہت بڑی رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور آخرت میں انھیں سخت ترین عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ جہنم میں منافق سب سے نیچے درجے میں رہے گا۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اے نبیؐ! کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ، آخر کار ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے‘‘ (سورہ توبہ:73)۔
سورہ توبہ میں بڑی تفصیل سے منافقوں پر لعنت و ملامت کی گئی ہے۔ آیت 73میں ان سے سختی سے پیش آنے کی بات بھی کہی ہے۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’اس وقت تک منافقین کے ساتھ زیادہ تر درگزر کا معاملہ ہورہا تھا اور اس کے دو وجوہ تھے۔ ایک یہ کہ مسلمانوں کی طاقت ابھی اتنی مضبوط نہ ہوئی تھی کہ باہر کے دشمنوں سے لڑنے کے ساتھ ساتھ گھر کے دشمنوں سے بھی لڑائی مول لے لیتے۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے جو لوگ شکوک و شبہات میں مبتلا تھے، ان کو ایمان و یقین حاصل کرنے کیلئے کافی موقع دینا مقصود تھا۔ یہ دونوں وجوہ اب باقی نہیں رہے تھے۔ مسلمانوں کی طاقت اب تمام عرب کو اپنی گرفت میں لے چکی تھی اور عرب سے باہر کی طاقتوں سے کشمکش کا سلسلہ شروع ہورہا تھا، اس لئے ان آستین کے سانپوں کا سر کچلنا اب ممکن بھی تھا اور ضروری بھی ہوگیا تھا تاکہ یہ لوگ بیرونی طاقتوں سے ساز باز کرکے ملک میں کوئی اندرونی خطرہ نہ کھڑا کرسکیں۔ پھر ان لوگوں کو پورے 9 سال تک سوچنے، سمجھنے اور دین حق کو پرکھنے کا موقع بھی دیا جاچکا تھا جس سے وہ فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ اگر ان میں واقعی خیر کی کوئی طلب ہوتی، اس کے بعد ان کے ساتھ مزید رعایت کی کوئی وجہ نہ تھی۔ اس لئے حکم ہوا کہ کفار کے ساتھ ساتھ اب ان منافقین کے خلاف بھی جہاد شروع کر دیا جائے اور جو نرم رویہ اب تک ان کے معاملہ میں اختیار کیا جاتا رہا ہے، اسے ختم کرکے اب ان کے ساتھ سخت برتاؤ کیا جائے۔
منافقین کے خلاف جہاد اور سخت برتاؤ سے مراد یہ نہیں ہے کہ ان سے جنگ کی جائے۔ در اصل اس سے مراد یہ ہے کہ ان کی منافقانہ روش سے جو چشم پوشی اب تک برتی گئی ہے، جس کی وجہ سے یہ مسلمانوں میں ملے جلے رہے اور عام مسلمان ان کو اپنی ہی سوسائٹی کا ایک جز سمجھتے رہے اور ان کو جماعت کے معاملات میں دخل دینے اور سوسائٹی میں اپنے نفاق کا زہر پھیلانے کا موقع ملتا رہا، اس کو آئندہ کیلئے ختم کر دیا جائے۔ اب جو شخص بھی مسلمانوں میں شامل رہ کر منافقانہ روش اختیار کرے اور جس کے طرز عمل سے بھی یہ ظاہر ہو کہ وہ خدا اور رسولؐ اور اہل ایمان کا مخلص رفیق نہیں ہے تو اسے کھلم کھلا بے نقاب کیا جائے، علانیہ اس کو ملامت کی جائے، سوسائٹی میں اس کیلئے عزت و اعتبار کا کوئی مقام باقی نہ رہنے دیا جائے، معاشرت میں اس سے قطع تعلق ہو، جماعتی مشوروں سے وہ الگ رکھا جائے، عدالتوں میں اس کی شہادت غیر معتبر ہو، عہدوں اور مناصب کا دروازہ اس کیلئے بند رہے، محفلوں میں اسے کوئی منہ نہ لگائے، ہر مسلمان اس سے ایسا برتاؤ کرے جس سے اس کو خود معلوم ہوجائے کہ مسلمانوں کی پوری آبادی میں کہیں بھی اس کا کوئی وقار نہیں اور کسی دل پر پردہ نہ ڈالا جائے، نہ اسے معاف کیا جائے، بلکہ علیٰ رؤس الاشہاد اس پر مقدمہ چلایا جائے اور اسے قرار واقعی سزا دی جائے‘‘۔
یہ ایک نہایت اہم ہدایت تھی جو اس مرحلہ پر مسلمانوں کو دی جانی ضروری تھی۔ اس کے بغیر اسلامی سوسائٹی کو تنزل و انحطاط کے اندرونی اسباب سے بھی محفوظ نہیں رکھا جاسکتا۔ کوئی جماعت جو اپنے اندر منافقوں اور غداروں کی پرورش و پرداخت کرتی ہو اور جس میں گھریلو سانپ عزت اور تحفظ کے ساتھ آستینوں میں بٹھائے جاتے ہوں، اخلاقی زوال اور بالآخر کامل تباہی سے دوچار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔ نفاق کا حال طاعون کا سا ہے اور منافق وہ چوہا ہے جو اس وبا کے جراثیم لئے پھرتا ہے۔ اس کو آبادی میں آزادی کے ساتھ چلنے پھرنے کا موقع دینا گویا پوری آبادی کو موت کے خطرے میں ڈالنا ہے۔ ایک منافق کو مسلمانوں کی سوسائٹی میں عزت و احترام کا مرتبہ حاصل ہونے کے معنی یہ ہیں کہ ہزاروں آدمی غداری و منافقت پر دلیر ہوجائیں اور یہ خیال عام ہوجائے کہ اس سوسائٹی میں عزت پانے کیلئے اخلاص، خیر خواہی اور صداقت ایمانی کچھ ضروری نہیں ہے بلکہ جھوٹے اظہار، ایمان کے ساتھ خیانت اور بے وفائی کا رویہ اختیار کرکے بھی یہاں آدمی پھل پھول ہوسکتا ہے۔ یہی بات ہے جسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مختصر سے حکیمانہ فقرے میں بیان فرمایا ہے کہ ’’جس شخص نے کسی صاحب بدعت کی تعظیم و توقیر کی وہ در اصل اسلام کی عمارت ڈھانے میں مددگار ہوا‘‘۔
قرآن اور احادیث میں پڑھنے یا سننے کے بعد بھی کوئی شخص اپنی منافقت سے اگر باز نہیں آتا تو اس کی بہت بڑی بدنصیبی ہے۔ ایسے بدنصیب شخص سے دوری بنائے رکھنا ہی بہتر ہے۔ کیوں کہ منافق کبھی کسی کا نہیں ہوسکتا۔ اداروں اور تنظیموں میں اس طرح کے لوگ زہر ہلاہل سے کم نہیں ہوتے۔ یہ ایک دوسرے کو لڑانے میں سرگرم عمل رہتے ہیں۔ ان سے اگر ادارے پاک نہیں ہوتے تو اداروں یا تنظیموں کی ترقی رک جاتی ہے۔ اسی طرح معاشرہ میں بھی اگر ان کی چلت پھرت پر نظر نہ ہو اور ان کو بے نقاب نہ کیا جائے تو معاشرہ بھی تباہ و برباد ہ
وجاتا ہے۔
| پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کا ملک کے عوام کو بڑی بےصبری سے انتظار تھا۔ ان انتخابات کو نریندرمودی کی حکومت کے لیے سیمی فائنل مانا جارہا تھا۔ بالآخر 11/دسمبر کو دوپہر تک مطلع صاف ہوگیا اور تین ریاستوں میں کانگریس پارٹی کی شاندار کامیابی کے ساتھ واپسی ہوئی اور پانچ ریاستوں میں بھاجپا کو بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ چاروں شانے چت ہوکر رہ گئی، بھاجپا کے خیمے میں ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا اور دوسری طرف کانگریس پارٹی کے خیمے میں جشن کا ماحول تھا شادیانے بجائے جارہے تھے اور مٹھائیاں تقسیم کی جارہی تھی۔ ملک کے مسلمانوں کی اکثریت کانگریس پارٹی کی غیر معمولی شاندار کامیابی اور بھاجپا کی ذلت آمیز شکست کی وجہ سے بہت خوش نظر آرہی تھی۔ ہمیں کانگریس کو تین ریاستوں میں نئی زندگی ملنے سے بالکل خوشی نہیں ہوئی بلکہ ہمیں خوشی اس بات کی ہوئی کہ بھاجپا کے غرور کا سر سرعام ملک کی عوام کے سامنے نیچا ہوا۔ بی جے پی بدنام زمانہ فسطائی تنظیم آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے اور اس کی بنیاد ہی اسلام اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہے۔ آر ایس ایس اس ملک سے اسلام اور مسلمانوں کا دیس نکالا چاہتی ہے، ملک کی آزادی سے پہلے سے وہ اس ایجنڈے پر مسلسل کام کررہی ہے۔ مودی حکومت کے برسراقتدار میں آنے کے بعد اس میں بڑی تیزی آئی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے آثار مٹانے کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ موب لینچینگ کے ذریعے مسلمانوں کو قتل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہروں کے نام تبدیل کیے جارہے ہیں، مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو سبھی داؤ پر لگے ہوئے ہیں اور یہ سب چیزیں ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے اس لیے ہمیں ان سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ |
کانگریس پارٹی نے آزادی کے بعد سے اس ملک پر مسلسل حکومت کی ہے اور مسلمان کانگریس پارٹی کو ہی ووٹ دیتے ہوئے آئے ہیں اور اس پارٹی نے غیر محسوس طریقے سے مسلمانوں کو زہریلے ناگ کی طرح سے ڈسنے کا کام انجام دیا ہے اور پچھلے ساٹھ سالوں میں منصوبہ بند طریقے سے ہمیں دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی نیچے دھکیل دیا ہے، سچر کمیٹی کی رپورٹ اس کی زندہ مثال ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں ہی فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے ہماری معیشت کو تباہ وبرباد کیا گیا، بابری مسجد کو متنازعہ بنانے میں بھی کانگریس کا ہاتھ تھا اور بابری مسجد کا تالہ کھولوانے سے لیکر بابری مسجد کی شہادت تک میں کانگریس کا نمایاں ہاتھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ کانگریس اس وقت سے لیکر آج تک سنبھل نہیں پائی ہے۔ کانگریس میں جو مسلمان لیڈر ہے وہ اپنا ضمیر ہائی کمان کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ مسلمانوں کے وفادار کم ہائی کمان کے وفادار زیادہ دیکھائی دیتے ہیں۔ سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھ کر کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو مسلسل دھوکہ دیا ہے، کانگریس پارٹی میں شروع دن سے ہی آر ایس ایس نواز کروپ رہا ہے اور وہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت پر ہاوی رہا ہے اور ڈسیزن میکنگ میں اسی کروپ کا نمایاں ہاتھ رہا ہے،اس کی زندہ مثال پی وی نرسمہا راؤ ہے جنہوں نے بابری مسجد کی شہادت میں اہم رول ادا کیا تھا۔
اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ہماری ساری شکایت کانگریس پارٹی سے ہی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرے اور سب سے پہلے اپنے اندر موجود آر ایس ایس نواز کروپ کو باہر کا راستہ دکھائے اور مسلمانوں سے انتخابات سے قبل جو وعدے کیے ہیں وہ پورا کریں۔
محمد خالد داروگر* دولت نگر، سانتاکروز، ممبئی
نیب پراسیکیوٹر مظفر عباسی نے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل پر جواب الجواب جمع کراتے ہوئے کہا کہ نواز شریف اور ان کے وکیل کا موقف مختلف ہے، نواز شریف نے 342 کے بیان میں حسن اور حسین نواز کی دستاویزات کو تسلیم کیا اور جے آئی ٹی کے سامنے حسن اور حسین نواز کی دستاویزات کی تصدیق بھی کی۔نیب پراسیکیوٹر مظفر عباسی نے کہا کہ اثاثے بچوں کے قبضے میں ہیں اور بچے نواز شریف کے بے نامی دار ہیں، اثاثوں کے حقیقی مالک نواز شریف ہیں، ہم نے ثابت کیا کہ بچے اپنا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں رکھتے تھے، کوئی ایسا ثبوت نہیں دیا گیا کہ اثاثہ جات حسین نواز نے اپنے ذرائع سے بنائے، بار ثبوت ملزمان پر ہوتا ہے۔
فاضل جج ارشد ملک نے خواجہ حارث سے کہا کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ نواز شریف صادق اور امین نہیں ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف کو ہم یہاں کیسے سچا مان لیں، خواجہ حارث اس نکتے پر عدالت کو مطمئن کریں۔
دبئی کی جیل میں قید چند خواتین نے سزا پوری ہونے کے باوجود باہر نکلنے سے انکار کیوں کیا ؟
دسمبر 13,2018دبئی(پیغام میڈیا/ذرائع) سزا پوری ہونے کے بعد بھی کسی کو جیل میں رہنا اگر پسند ہے تو وہ دبئی کی خواتین ہین جنھوں نے جیل سے نکلنے سے انکار کر دیا ہے ،، دبئی کی جیل میں قید چند خواتین کو سلاخوں کے پیچھے گزرا وقت اس قدر بھا گیا کہ انہوں نے جیل کو ہی اپنا گھر سمجھ لیا اور باہر جانے سے انکار کردیا،،
متحدہ عرب امارات کے میڈیا رپورٹ کے مطابق دبئی کی جیل میں قید خواتین میں 11 کی سزائیں پوری ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود وہاں یہاں سے جانے سے انکاری ہیں۔ دبئی کی خواتین جیل کی ڈائریکٹر کرنل جمیلہ خلیفہ الزابی نے کہا کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی ان 11 خواتین قیدیوں کوجیل عملے کے اچھے برتاو¿ اور میسر سہولیات اس قدر پسند آئیں کہ انہوں نے یہاں سے جانے سے انکار کردیا۔انہوں نے کہا کہ دبئی کی جیل میںخواتین کو اچھی غذا اور طبی سہولت کی فراہمی کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں صحت مند زندگی کی طرف لوٹانے کے لیے خصوصی پروگرام بھی ترتیب دیا گیا ہے، وہ قید کے دوران اپنے اہلخانہ بالخصوص اپنے بچوں سے رابطے میں بھی رہ سکتی ہیں جبکہ انہیں پرامن ماحول فراہم کیا جاتا ہے۔ایک عرب ملک کی خاتون قیدی نے، جو اپنی سزا پوری کر چکی ہیں کہا کہ انہوں نے قید کی زندگی خوش رہ کر گزاری اور انہیں ایسا ماحول فراہم کیا گیا جو انہیں اپنے آبائی ملک میں بھی میسر نہیں تھا۔انہوں نے کہاکہ قید کے دوران ان سے نہ صرف اچھا سلوک کیا گیا بلکہ ان کی نئے ہنر سیکھنے اور اپنے مشاغل پورے کرنے، جیسے مصوری کرنے کی بھی حوصلہ افزائی کی گئی۔ایک اور غیر ملکی خاتون قیدی نے کہا کہ خواتین کی جیل عقوبت خانے سے کہیں زیادہ ہے جہاں ایک بڑی لائبریری، کھیلوں کے لیے ہال، ڈرائینگ روم، کئی میچز کے لیے بڑا ایریا اور دیگر سہولیات موجود ہیں جن سے قیدی ہر وقت فائدہ اٹھا سکتی ہیں
قلندر کی بات
————متین خان ————
ایک بھیک مانگتے ہوئے نوجوان کو دیکھ کر میں نے کہا کہ اچھے خاصے ہٹے کٹے ہو بھیک مانگتے ہوئے شرم نہیں آتی.... اس نے کہا صاحب شرم کرنے کا حق مجھ سے چھین لیا گیا ہے.... میری ہی طرح شہر کی سڑکوں پر انکار و تسلیم سے بے نیاز بھیک مانگتے ہوئے بچے جوان بوڑھے مردوں اور عوتوں کو آپ نے دیکھا ہوگا بعض کے علاؤہ یہ سبھی اپنی مرضی سے بھیک نہیں مانگتے اور نہ ہی انہیں شعور کہ دنیا میں کوئی مرضی نام بھی شئے ہے کسی کی ٹوٹی ہوئی ٹانگیں ، کسی کے کٹے ہوئے بازو بھی آپنے دیکھے ہوں گے۔
یہ ان کی مرضی سے نہ ٹوٹے نہ توڑے گئے ، اور کٹے نہ کاٹے گئے ہیں بلکہ اپنی کمائی بڑھانے کے لئے ان کے پیدا کرنے والوں نے یا خریدنے والوں نے توڑ دئیے ہیں۔ یا کاٹ دئے ہیں
اگر کبھی ملنے کی توفیق ہو تو انسے پوچھئے گا ..... اگر آپ میں شرم ہوگی ہوگی تو..... انکی داستان الم سنکر آپکو اپنے مہذب معاشرے پر شرم آئے گی وہ بھی میری طرح اپنی مرضی سے بھیک نہیں مانگتے بلکہ انکے گردے بھی آپ جیسے زندگی کے اصل حقداروں کی قیمتی جان بچانے کے کام آئے ہیں۔
آپنے بھیک مانگنے ہوئے اندھے بھی دیکھے ہوں گے کبھی انسے بھی ملئے گا جنہوں نے اپنی زندگی تاریک کرکے کسی ایسے شخص کی زندگی کو روشن کیا ہوگا جسکا دنیا کے کاروبار دیکھنا ضروری تھا .
کبھی آپنے یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی کہ کھیتوں میں نہ اگنے والے اور کسی کمپنی میں نہ بننے والے انسانی اعضاء وافر مقدار میں آتے کہاں سے ہیں.
صاحب.. ہم سبھی آزاد نہیں ہوتے بلکہ بندھوا یا غلاموں کی طرح پیدا ہی کسی کی بے چوں چرا خدمت گزاری اور مار کھانے کے لئے ہوتے ہیں۔ ہوش سنبھالتے ہی بتا دیا جاتا ہے کہ یہ دنیا ان کی ہے جو انہیں روٹی دیتے ہیں، کپڑے دیتے ہیں اور انکا فٹپاتھ میں رہنا گورا کرلیتے ہیں ہم سے بہتر اوقات تو امیروں کے گھروں میں پلنے والے کتے اور بلیوں کی ہے جو انکے صوفوں پر بیٹھ سکتے ہیں جس کی اجازت ہمیں نہیں۔ ہم میں اور کیڑے مکوڑوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ وہ کسی کام کے نہیں ہوتے اس لئے ان کو تلف کردیا جاتا ہے اور ہمیں زندہ صرف کام کرتے رہنے کی شرط پر رکھا جاتا ہے جب کام کے نہیں رہتے تو سانس بھی بند کردی جاتی ہے ہمارے باس ہوتے ہیں جو کڑی نظر رکھتے ہیں اس دلدل سے ہم مرکر ہی نکل پاتے ہیں۔ اور منسپلٹی والے ہماری تدفین یا انتم سنسکار کرکے ہماری زندگی بھر کی خدمات کا صلہ دیتے ہیں ۔
آپ تو پڑھے لکھے ہیں صاحب اخباروں میں اکثر پڑھتے ہونگے کہ فلاں علاقہ کی جھگیوں میں کس طرح آگ لگ گئ جھلس کر وہاں رہنے والے مر گئے
اس تباہی کو میڈیا کوریج بھی اپنی ٹی آرپی بڑھانے کے لئے دیتا ہے یا کسی سیاسی مفاد کی غرض سے.
سب ختم ہوجانے کے بعد مخیر حضرات ان گندی بستیوں میں مدد لکیر پہچتے ہیں جب تک سانس چلتی ہے کوئ ہمدرد نظر نہیں آتا کیونکہ اسوقت وہاں پر میڈیا نہیں ہوتا کوئ فوٹو کھنچنے والا نہیں ہوتا ۔
ہماری فکر چھوڑئے صاحب... اپنے مہذب معاشرے کے ان نونہالوں کی فکر کیجئے جو محلے کے بچے غلط صحبت میں پڑکر مختلف قسم کے نشہ کے عادی ہوجاتے ہیں انکے والدین اصلاح کی تمام کوششیں کرکے تھک چکے ہوتے ہیں اور نشہ مکتی کیندر بھیجنے کی طاقت نہیں رکھتے ان بچوں کو کبھی نشہ کی طلب بیقرار کرتی ہے تو چوری کرتے ہیں یا تو مایوس ہوکر قسمت کو کوس رہے ہوتے ہیں رات کی سردی یا گرمی میں تاریک مسقتبل سے مایوسی انہیں سونے نہیں دیتی تو یہ زمین کا بوجھ کم کرنے کے لئے نکل پڑ تے ہیں گلی کوچوں میں کھڑی ہوئی گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں سے پٹرول چرا کر سونگتے ہیں اور نیم بے ہوشی کی حالت میں سو جاتے ہیں یا پھر کسی موچی کی سلوشن کی ٹیوب چرا کر سونگتے ہیں اور نتیجے میں رفتہ رفتہ اہپنے علاقے سے دور خود کی زندگی کا چراغ بجھا کر زمین کا بوجھ کم کردیتے ہیں تاکہ انکے حصہ کی آشائسیں آپکے کام آئیں بہت کم ہیں جنہوں نے آپکو اپنے تدفین کی بھی زحمت دی ہوگی یہ کام بھی سرکاری محکمہ کردیتا ہے بعض تو ایسی جگہ مرتے ہیں کہ کسی کو خبر بھی نہیں ہوتی اور اسکی لاش پر کتے دعوت اڑانے ہیں۔
میں نے صرف یہ بتانے کے لئے آپکا قیمتی وقت ضائع کیا ہے کہ اپنے مہذب معاشرے کے بچوں کو بچا لیجئے یہ کمپنوں اور کارخارنوں میں آپکی خدمت گزاری کرینگے اگر آپنے انکو صحیح تعلیم اورتر بیت گاہ فراہم کردی تو ملک اور قوم کا روشن مستقبل تعمیر کریں گے .اور یہ کام آپکے حق میں قیمتی زخیرہ آخرت ہوگا۔
قلندر کی بات
———متین خان ———
جج ... تمہارا نام کیا ہے...
عورت.. حضور والا ۔جسم پر لگے زخموں کے نشانات میرے تعارف کے لئے اگر نا کافی ہیں تو آپکو سمجھانے کے لئے میرے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میرا نام کیا ہے میں کون ہوں کس کی اور کس قوم کی بیٹی ہوں، میں یہ بھی نہیں جانتی کہ جو مجھے اپنی بیٹی کہتے ہیں میں ان کی کیا لگتی ہوں۔
مجھے اب یہ بھی یاد نہیں رہا کہ میرے خریداروں نے مجھے کتنی بار فروخت کیا اس خریدو فروخت کے اذیت ناک مرحلے سے میں کتنی بار گزری ہوں.
لیکن یہاں سے جانے کے بعد مجھے وہی کام پھرکرنا ہے، برتن مانجھنے ہیں، جھاڑو دینا ہے۔ ہر ٹوٹتے برتن کا خمیازہ جاڑو کی مار میری قسمت میں لکھی ہے جسے آپ بدل نہیں سکتے ہیں
جج صاحب مجھے ہرشام روتے ہوئے دل کے ساتھ لبوں پر تبسم سجائے کسی کی رات روشن کرنا ہے.
حضور والا اگر آپ میرے لئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو مجھ جیسی بدنصیبوں کو پیدا ہونے سے روکیں۔
میں اِس روشن خیال معاشرے کے تاریک گوشے سے تعلق رکھنے والے اُس خاندان میں پیدا ہوئ ہوں جنکے بھائی اور باپ غربت سے تنگ آکر بچوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ موت اور پیدائش ہمارے قبیلے میں ایک واقعہ سے زیادہ اہمت نہیں رکھتی.
پیدا ئش کے بعد ہمارے پیدا کرنے والوں کو ہمیں کام پر لگانے کی جلدی ہوتی ہے تاکہ وہ پیدا کرنے کی قیمت وصول کرسکیں اور ہم اپنی پیدائش کا قرض جلدی چکاسکیں
ہمارے یہاں شرابی شوہر ہمارے جسم کی دلالی کرکے نان و نفقہ سے دس گنا ذیادہ قیمت وصول کرتا ہے۔
حضور والا ۔ آپ کے شہرکے قحبہ خانے بھی مجھ جیسی بدنصیوں کے دم خم سے ہی آباد ہیں کبھی کبھار آپکی پولس ان بدنام جگہوں پر چھاپے مارتی ہے اور ان بکنے والے جسموں کو تھانے میں لاکر بند کر دیتی ہے اور آپکے سامنے پیش کرتی ہے جن کو عدالت سے ان کے خریدار ضمانت پر چھڑا لےجاتے ہیں
حج صاحب اتنا تو آپکو بھی معلوم ہے کون کس کی ضمانت کیوں دے رہاہے؟
جج صاحب ہمارے علاقے میں فلاحی ٹیمیں بھی حفظان صحت کے اصولوں کے پیمانے لیکر آتی ہیں ہم سے ہمدرری اسی حد تک ہے کہ ہم وہ طریقے اپنائیں جو مہذب معاشرے کی بقا اور تحفظ اور یہاں پر آنے والے شرفا کے بدنما چہرے چھپانے کے لئے ضروری ہیں تاکہ یہاں کی کوئ مذموم بیماری غفلت کے نتیجے میں انکے گھروں تک نہ پہنچ جائے اسلئے گناہ کو محفوظ بنانے بنانے کے لئے تمام ضروری چیزیں ہمیں مفت فراہم کی جاتی ہیں تاکہ انکے اعمال ہمارے کوٹھوں کی نالیوں سے بہہ کر سمندر میں جاملیں.
ہمارے بھائیوں کی قسمت بھی ہم سے بہتر نہیں ہوتی جن کا جسمانی اور نفسیاتی ا ستحصال ہماری ہی طرح ہوتا ہے ۔ آپ نے سنا ہوگا اونٹوں کے ساتھ دوڑ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کی نکلتی چیخوں سے پاسبان حرم کس طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔
حضور ۔آپ تو معاشرہ کے شرفاء کے بچوں کی بنتی فحش فلموں اور جنسی استحصال کو نہیں روک سکے کمپنیوں اور دفتروں میں کام کرنے والی شریف عورتوں اور لڑکیوں کا استحصال نہیں روک سکے بچہ مزدوری کا مکمل خاتمہ کرکے پوری طرح صحیح تعلیم تربیت کا انتظام نہیں کرسکے تو ہم جیسے رینگتے کیڑے مکوڑوں کی اوقات ہی کیا ہے
حضور ۔ میں نے سنا ہے پڑوسی ملک کے تبلیغی جماعت کے مولانا طارق جمیل نے اپنے ملک کے ایک گندے اور بدنام بازار کی گندگی صاف کرکے وہاں کی بدنام عورتوں کو عزت کی زندگی بخشی ہے جو کام وہاں کی حکومت نہیں کرسکی ایک مولوی نے کر دکھایا ہے ان عورتوں کے نکاح کا انتظام کرکے انکو معاشرے میں باعزت جینے کا حق دیا ہے اللہ اس مرد مجاہد کو جزائے خیر دے
لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں پوری انسانیت کو جنت میں لے جانے کی فکر کرنے والے ان جنتیوں کا جنتی ٹولا ہمارے علاقے میں کبھی نظر نہیں آتا
ہر جمعرات کو گلے میں عقیق کے ہار پہنے ہاتھ میں مور پنکھ کا جھاڑو لئے ہوئے ڈھونگی پیر فقیر لوبان کی دھونی دینے والے نظر آتے ہیں جو دو روپئے لیکر کاروبار میں برکت کی دعا دیکر چلے جاتے ہیں۔
حضور ! میرے لئے وقت ضائع نہ کریں آپکا وقت بہت قیمتی ہے پہلے ہی عدالت میں کروڑوں اور اربوں کے اہم معاملات حل طلب ہیں ان پر توجہ دیں جو اس شریف معاشرے کو چلانے کے لئے ضروری ہیں۔
[Paigham Media پیغام میڈیا]
https://m.facebook.com/Paighammedia
قلندر کی بات
———متین خان———
آج علماء اسلام کے سامنے سابقہ تمام مشکل ترین چیلنجز سے ذیادہ مشکل جدیدیت کا چیلنج درپیش ہے یہ چیلنچ اس لئے مشکل ترین ثابت ہو رہا ہے کہ آج اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اہل علماء بہت کم دستیاب ہیں،
علماء اسلام کی اکثریت جمود پسند ہے اور اسے توڑے بغیر جدیدیت کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے اور جدیدیت، اسوقت علماء اسلام کیلئے ایک ڈراونے خواب کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
ماضی میں یہی صورت حال عیسائیت کو بھی درپیش ہوئی تھی لیکن عیسائی راہنما اپنے مذہبی تعلیمات کی روشنی میں براہ راست امت کی رہنمائ کرنے میں ناکام ثابت ہوئے کیوں کہ مذہب کی کچھ حدیں ہیں ایک مقام وہ آتا ہے جب براہ راست مذہب کی روشنی میں اجتہاد کئے بغیر قوم کی رہنمائ ناممکن ہوجاتی ہے ایک طرف تو مسلمان یہودیت کو فتح کرتے جارہے تھے دوسری طرف یہودیوں کو مذہب سے سربلندی کے لئے کوئ رہنمائ نہیں مل رہی تھی اس فکری جمود کا نتجہ یہ ہوا کہ اس دبی کچلی قوم نے اپنی پستی اور ذلت کا سبب مذہب کو سمجھ لیا اور نتیجہ میں مذہبی راہنما اور مذہب سے دامن چھڑا لیا انکے یہاں مذہبی تصور برائے نام رہ گیا انہیں میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے پوری طرح مذہب کو چھوڑ دیا اور مسلمانوں کی چاپلوسی کرنے لگے اور مسلمانوں سے علوم فنون کے حصول کو اپنا نصب العین بنایا پوری طرح مہارت حاصل کی اسکے بعد مسلمانوں کے مقابلے میں اترے اور مسلمانوں سے مفتوحہ علاقے دوبارہ حاصل کرلئے ۔
آج مسلمان بڑے فخر سے دنیا کو بتاتے ہیں کہ جدید سائنس جن بنیادوں پر قائم ہے مسلمانوں کی فراہم کردہ ہے ، اور مغرب نے سائنسی علوم مسلمانوں سے حاصل کئے ہیں اگر یہ حقیقت ہے تو آج مسلمان اپنے اجداد کی میراث سائینسی علوم کو اپنانے میں دنیا سے پیچھے کیوں ہیں؟
اگر آج مسلمانوں کو چارلس ڈارون، آئن اسٹائن، اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات سے اختلاف ہے اور انہیں ہم غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انکے پائے کے ہمیں مسلمان سائنسدان پیدا کرنا ہوں گا
ماضی میں علماء کو ایسے چیلیج کا سامنا اسوقت ہوا جب مسلمانوں کو عرب سے باہر کی ثقافتوں کے ساتھ میل جول کا موقع میسر آیا، تو ایسے مسائل درپیش ہوئے جن کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی واضح رہنمائی میسر نہیں تھی
لیکن اس زمانے کے فقہاء، علماء، اور محدثین نے اسلام کو جمود کا شکار ہونے سے بچایا اسلامی تعلیمات کی تشریحات کو زمانے کی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی علماء اسلام نے اس بدلتی ہوئی صورت حال کے تقاضوں کے مطابق اسلام میں ایک نئی اصطلاح متعارف کرائی جسے “فقہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔اور اسطرح “کتاب و سنت” کے علاوہ “قیاس” اور “اجماع” کو اسلامی قانون سازی کے بنیادی مصادر میں شامل کرکے اسلام میں ایک نئی روح پھونک کر زمانے کی ترجیحات سے ہم آہنگ کردیا۔
موجودہ وقت میں یہ صورت حال بھی بڑی دلچسپ ہے کہ عالم اسلام کے کچھ ممتاز علماء کرام قرآن سے سائنس کو ثابت کرنے کی جہدو جہد کرہے ہیں اسکے برعسک کچھ ایسے علماء کرام بھی ہیں جو قرآن سے ہی سائنس کو غلط ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور یہ صورت حال اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں نے سائنس کے صحیح اور غلط ثابت کرنے کے لئے قرآن کو معیار بنا لیا ہے، جبکہ قرآن سائنس کی کتاب ہی نہیں ہے اور نہ ہی سائنس قرآن کے صحیح اور غلط ثابت کرنے کے نکتہ نظر سے کام کرتی ہے بلکہ سائنس کے اپنے وضع کردہ وصول ہیں
جس عمارت کی بنیادیں ہمارے اجداد کی فراہم کردہ ہیں وہ عمارت آج ایک بلند ترین خوشما عمارت میں ڈھل چکی ہے تو آج اس عمارت سے کفر و بدعت کی بدبو کیوں آنے لگی؟ اگر گذشتہ کل اہل مغرب آپ سے سائنسی علوم مستعار لے رہے تھے تو یہ گذرا ہوا ماضی آپ کیلئے اس حد تک قابل فخر ہے کہ اسے بیان کئے بغیر آپ کی عظمت رفتہ کی داستان مکمل نہیں ہوتی، اور آج اہل مغرب سے اپنی گم گشتہ میراث کو دوبارہ حاصل کرتے ہوئے آپ کو اپنا ایمان خطرے میں محسوس ہوتا ہے۔
علم مومن کی گم کشتہ میراث ہے جہاں سے ملے حاصل کرلو مطلوبہ صلاحیت کے افراد اگر آج عالم اسلام کو میسر آ جائیں، تو جدیدیت کے بھنور سے نکلنا بہت آسان ہے بلکہ امت مسلمہ کو تعلیم اور ترقی کی نئی راہیں دستیاب ہونگی جسکے نتجے میں مسلمان ، اقوام عالم کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اور اسلام کی صحیح ترجمانی کرسکتا ہے ۔
حفیظ الرحمٰن
انیسویں صدی میں کابل سے پنجاب(دریائے ستلج ) تک پھیلی ہوئی سکھ حاکمیت کا حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ تھا، جس پر تاریخ میں بے شمار کتابیں لکھی جا چکی ہیں۔ ان مطبوعات میں رنجیت سنگھ کے نہ صرف انگریزوں کے ساتھ بلکہ دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقاّت پر بھی تذکرہ ملتا ہے۔ مگر فینی ایڈن کی مہاراجہ کے بارے میں رائے پڑھ کر کافی محظوظ کن واقعات ملتے ہیں۔
فینی اور ایملی ایڈن آک لینڈکے بادشاہ جارج کی غیر شادی شدہ بہنیں تھیں۔جارج کلکتہ میں بحیثیت گورنر جنرل بھی تعینات رہا۔ جارج بادشاہ خودبھی غیر شادی شدہ تھا اور یہ دونوں بہنیں ہی گھر داری کرتی تھیں۔دونوں بہنیں اکثر ہندوستان میں اپنی طرز زندگی کے علاوہ دیگر واقعات بھی لکھتی رہتیں۔ یہاں پر فینی ایڈن کی کتاب’’ چیتے ، دربار اور بادشاہ‘‘
(Tigers, Darbars & kings)
میں سے چند اقتباسات درج کئے جارہے ہیں۔
رنجیت سنگھ سے متعلق سوانحی خاکے کتاب کے اس حصے سے لئے گئے ہیں جس میں آک لینڈ کے بادشاہ کا پنجاب میں 1839ء میں داخل ہو کر انگریز سکھ تعلقات کو مضبوط کرنا تھا۔پہلا حصہ جو کہ رنجیت کی شخصیت سے تعلق رکھتا ہے وہ فیروز پور سے شروع ہوتا ہے فینی ایڈن لکھتی ہے کہ ہمارا واسطہ یہاں پر خوفناک سڑکوں سے پڑتا ہے۔ مزید آگے لکھتی ہے کہ’’ اگرچہ رنجیت سنگھ سڑکیں تعمیر کرنا انگریزوں کا احمقانہ رواج خیال کرتا ہے مگر امید ہے کہ وہ ان سے بہتر سڑکیں ہی تعمیر کرائے گا۔ رنجیت سنگھ کے خیال میں سڑکیں دشمنوں کو اپنے ملک میں داخل کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ روزانہ اپنے غلاموں، نوکروں کو مٹھائی کے بھرے سینکڑوں برتن بھجواتا جنہیں پا کر نوکر بے تحاشہ مسرور ہوتے‘‘۔
ان دنوں میں بادشاہوں کے عیاشانہ طرز زندگی کوفینی نے بہت خوبصورتی سے بیان کیاہے۔’’ جب رنجیت سنگھ نے گورنر جنرل اور اس کے مصاحبین سے ملاقات کی غرض سے آناتھا تو رنجیت نے اپنے خیمے کے اردگرد خوبصورت باغ بنوانے کے لئے چھ سو(600)مالی بھیجے، اور ایسا لگ رہا تھا جیسے اس نے یہاں پر کوئی دس دن گزارنے ہیں‘‘۔
رنجیت سنگھ سے رسمی ملاقات سے کچھ روز قبل، اس کے بیٹے کھڑک سنگھ کو آک لینڈ کے بادشاہ اور بہنوں سے ملاقات کی غرض سے بلایا گیا۔ رنجیت سنگھ کو اپنا وارث ، یعنی اپنا بیٹا کھڑک سنگھ ناپسند تھا۔شہزادہ کھڑک سنگھ سے متعلق ایک قصّہ بھی ہے جو کہ ایڈن کی تحریروں میں نہیں بلکہ ویسے ہی مشہور ہے۔ کھڑک سنگھ گھوڑوں کے اصطبل کا معائنہ کر رہاتھا۔ وہ جونہی ایک خاص گھوڑے کے قریب آیا تو اس نے وہاں پر موجود نگہبان سے پوچھا، کیا یہ وہی گھوڑا نہیں ہے جو کہ نوشہرہ کی لڑائی میں مارا گیا تھا۔ اس آدمی نے سپاٹ چہرے سے جواب دیاکہ نہیں سرکار وہ تو کوئی اور گھوڑا تھا ۔
29نومبر کو ، آک لینڈ کے بادشاہ نے مہاراجہ کے اعزاز میں ایک دربار لگوایا۔ فینی لکھتی ہے ہم نے مہاراجہ کا بیرونی خیمے سے استقبال کیا۔ اور وہ صوفے پر ہمارے درمیان آلتی پالتی (چوکڑی ) مار کر بیٹھ گیا۔ وہ ایک پستہ قد کا آدمی تھا جس کی سفید رنگ کی لمبی داڑھی تھی۔ اس نے کوئی بھی جڑاؤّ زیور نہ پہن رکھا تھا۔ ایملی نے ملکہ وکٹوریہ کی ایک تصویر بھی بنائی جس میں ملکہ نے تخت نشینی کا مخصوص لباس پہن رکھا تھا۔ اور یہ تصویر رنجیت سنگھ کو بھی دی گئی۔ رنجیت سنگھ نے حکم دیا کہ جب وہ یہ تصویر اپنے کیمپ میں لٹکائے گا تو سو توپوں کی سلامی اس کوپیش کی جائے۔
دودسمبرکو ، گورنر جنرل اور اس کے مصاحبین نے مہاراجہ کے اعزاز میں تعظیماً ایک ملاقات دریائے ستلج کے کنارے رکھی جہاں مہاراجہ کا پڑاؤ تھا ۔دریا کو ہاتھیوں پر سوار ہو کر پار کیاگیا فینی یاد کرتے ہوئے لکھتی ہے کہ خیموں تک کا راستہ انتہائی دلکش اور خوبصورت تھا۔خیمے کشمیری کڑھائیوں اور شال سے بنائے گئے تھے۔ اور تمام بڑے لوگ جڑاؤ زیورات اور اسلحے اور سلوٹوں والے قیمتی کپڑے پہنے ہوئے تھے۔
فینی لکھتی ہے کہ میں پہلی دفعہ جب ایک سکھ خاندان سے ملی تو کافی جھجھک رہی تھی۔تاہم ، ھیرا سنگھ ، رنجیت سنگھ کا بیٹا بہت خوش گو تھا ۔اس کا رنجیت اور شیر سنگھ (جو کہ رنجیت کے مرنے کے بعد تخت و تاج پر آنکھ رکھے ہوئے تھا اور بڑا سپاہی تھا) پر کافی رعب و دبدبہ تھا۔ مجھے چاندی کی ایک کرسی کی طرف لے جایاگیا جہاں جارج اور رنجیت سنگھ بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم ایک طرح سے کھلے احاطے میں ہی تھے جو کہ صرف چاندی کے ستونوں سے بنایا گیا تھا ۔ یہاں فوراً ہی افسر اور ناچنے گانے والی لڑکیاں اکٹھی ہو گئیں مجھے ان لڑکیوں کو دیکھ کر بہت مایوسی ہوئی کیونکہ یہ ذرا خوبصورت نہ تھیں۔
اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے فینی کہتی ہے کہ رنجیت کے سامنے چاندی کی مضبوط میز پڑی تھی اور ساتھ ہی فرش پر دو بڑی موم بتیاں پڑی تھیں۔ میز سونے کے کپ اور بوتلوں کے علاوہ کچھ سکھوں کے مخصوص کھانوں سے بھری پڑی تھی۔رنجیت سنگھ شراب کو جلتی ہوئی آگ کے طور پر بیان کر رہا تھا ، جو کہ برانڈی سے زیادہ طاقتور اور پر اثر ہے۔ اور اس کو مزید خوشی اس وقت ہوتی جب وہ لوگوں کو اس شراب کو پینے پر آمادہ کرتا۔
آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ مہاراجہ مہمانوں کو شراب پینے پر کتنے شریرا ورشیطانی انداز میںآمادہ کرتا تھا اور مجھے یعنی (فینی) کو بھی اسنے ایسے ہی کیا۔ وہ مجھیشراب سے بھرا جام پینے کو کہتااور پر اصرار کرتا رھا۔ میں اس کوپئے بغیر ہی رکھ دیتی اور تاثر دیتی کہ میں نے اس میں سے تھوڑی سی پی لی ہے۔ مگر مہاراجہ کو شک ہو گیا، اس نے کپ کو اچھی طرح سے دیکھا اور اپنے سر کو زور سے ہلا کر مجھے واپس وہ پیالہ کپ دے دیا۔ اگلی دفعہ اس نے اندازہ کرنے کے لیے اپنی انگلی کو پیالے میں ڈال کر دیکھا کہ میں نے کتنی شراب پی ہے۔
اس وقت فینی نے اپنے اے ۔ڈی ۔سی میجر ویڈ سے کہا کہ مہاراجہ کو واضح کر دے کہ انگلستان میں عورتیں اتنی شراب نہیں پیتیں۔ مہاراجہ نے چھپا کر اپنے بازو کے نیچے سے مجھے شراب کا پیالاپکڑایا۔ اس کے خیال میں میرا بھائی ظالم ہے جو مجھے شراب پینے سے منع کرتاہے۔ اس لئے جب جارج کا دھیان ادھر ادھر ہوا تو اس نے مجھے یوں فوراً شراب دینے کی کوشش کی۔
ایک شام رنجیت سنگھ نے فینی کو ہیرے کے کنگن، ایک بڑے ہیرے کی انگوٹھی اور موتیوں کی لڑی پیش کی۔ وہ بہت چالاک اور ہوشیار لگ رہا تھا۔ اگرچہ وہ اکثر بوڑھے مجسمے کی طرح بیٹھا رہتا۔ ہم رخصت ہونے لگے اور وہ ابھی تک پی رہا تھا لڑکیاں(طوائفیں) ناچ رہی تھیں اور ان کو دیکھ کر اندازہ ہوا کہ سکھ کوئی سخت مذہبی اور اخلاقی زندگی نہیں گزارتے۔
چاردسمبر کو مہاراجہ اور گورنر جنرل نے کابل جانے والے دس ہزار فوجی دستوں کا معائنہ کیا۔ رنجیت سنگھ کو یہ سب دیکھنے میں صرف دلچسپی ہی تھی۔ اس کے سوال جواب سن کر میں بہت حیران ہوئی کہ وہ کافی ہوشیار تھا۔ اور میں نے اس کو پہلے کبھی ایسا نہ پایاتھا۔ جونہی وہ دستوں کے قریب ہوتا وہ بچوں کی طرح فوجی دستوں کو دیکھتا جاتا جیسا کہ کوئی نئی کھیلنے کی چیز ہو۔ اس نے پوری قطار جو کہ تقریباً 3میل پر محیط تھی، کا معائنہ کیا۔
اگلی شام کو آک لینڈ کے بادشاہ جارج نے بھی جواباً ایک ناچ گانے والی پارٹی مہاراجہ کے اعزاز میں دی۔ جہاں اس نے بیٹھنا تھا وہاں پر ایک روشنیوں کا باغ تھا۔ایک ماتحت کیپٹن کننگھمنے اس کا سارا انتظام سنبھالا تھا۔ کیپٹن نے بتایا کہ کچی مٹی کے بنے ہوئے یہ لیمپ (دئیے) ناکافی ہونگے جو کہ صرف (51,000)اکیاون ہزار تھے۔ اس پارٹی کا اپنا الگ بینڈ تھا مگر مہاراجہ نے اس کو بند کروا کے طوائف لڑکیوں کو گانے کے لئے کہا۔
فینی کے اقتباسات پڑھ کر اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ مہاراجہ کی فوج کیسی تھی، اس فوج کی تربیت کی حالت اور مستعدی وغیرہ کس انداز کی تھیں۔ ہمارے سب لوگ ان لوگوں کے نظم و ضبط کی حالت پر کافی حیران تھے اور کافی متجسّس بھی۔
ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گورنر جنرل کی پارٹی کاتمام اہتمام اور ہزاروں کی تعداد میں فوجی دستوں کی فراہمی مہاراجہ نے ہی کرکے دی تھی۔ فینی اس شاہانہ اور عیاشانہ انداز مہمانداری پر کافی حیران ہوئی ۔مگر جیسا کہ وہ لکھتی ہے کہ یہاں کا یہ رواج تھا کہ جو ساتھی سلطنت میں آتے تھے ان کو کھلایا جاتا اور جو ایسا نہ کرتا اس کو قومی شرمندگی سمجھا جاتا۔
گیارہ دسمبر کے حوالے سے لکھا گیا ہے کہ مجھے نہیں اندازہ کہ کتنے سینکڑوں قسموں کے پھل اور سبزیوں کی ٹوکرے اس دن ہمارے کیمپ میں رنجیت نے بھیجے۔دونوں بہنیں ، فینی اور ایملی تصویریں بہت اچھی بناتی تھیں۔ اور ان کی کتاب میں بے شمار تصویری خاکے موجود ہیں۔ دو اکالیوں کے بارے میں اس نے چند الفاظ جو کہ اس کے تصویری صورت میں بیان کئے ہیں۔ وہ مزاحیہ اور معلوماتی ہیں۔ مثال کے طور پر فینی کہتی ہے۔
“وہ سب سے زیادہ قانون شکن لوگ تھے۔ ایک وقت تھا کہ وہ ہر طریقے سے رنجیت کو بے عزت کرتے اور رنجیت یہ سب کچھ برداشت کرتا کیونکہ وہ اکالی اس کی نظر میں مبلغ بھی تھے۔ اگرچہ وہ بدمعاش جھگڑالو قسم کے سپاہی بھی تھے۔ رنجیت نے کئی لوگوں کی تربیت کی اور یہ دو اکالی بھی لوگوں میں سے تھے۔ اور رنجیت کی فوج سے تعلق رکھتے تھے۔ مگر وہ ابھی تک وہی معمولی اور گھٹیا لباس پہنتے اور اپنا اسلحہ نیزے ، تلواریں اور پستول وغیرہ ساتھ رکھتے۔ بہت ہی عجیب الخلقت لوگ تھے اور عموماً ہر ایک کی توہین اور بے عزتی کرتے۔
سولہ دسمبرکو رنجیت سنگھ نے گورنر جنرل کے اعزاز میں ایک اور ناچ پارٹی کا اہتمام کیا۔ پارٹی/دعوت کا انتظام بالکل پہلے جیسا ہی رکھا گیا تھا۔ سوائے اس کے کہ رنجیت پہلے سے زیادہ پی رھا تھا اور خوب مدہوش ہو رہا تھا اور کوشش کر رھا تھا کہ آک لینڈ کا بادشاہ بھی اس کی رفتار کو تھامے رکھے۔
وہ (رنجیت) پیتا جاتا او رکہتا چلاجاتا کہ جب آدمی شراب پیتا ہے تو اس کا نشہ دل خوش کر دیتا ہے اور انسان ہر قسم کی بیہودہ بات کر تا جاتا ہے۔ پھر وہ پوچھتا کیا یہ درست ہے کہ انگلستان میں شراب کے خلاف کتابیں لکھی گئی ہیں۔ پھر وہ اپنا سر جھٹکتا اور کہتا کہ کتنی احمقانہ اور جا ہلانہ کتابیں وہ ہوں گی!!۔
بیس دسمبر کو شالیمار باغ میں دعوت کا انتظام کیا گیا۔ فینی کے بقول یہ شاندار آثار قدیمہ تھا مگر اس کی ہر چیز زوال پذیر اور ختم ہوتی ہوئی لگتی تھی۔فینی اپنے بھائی کی، رنجیت سنگھ کی طرف سے دی جانے والی شرابی دعوتوں کاکافی شوقین ہونے پر کافی متعجب تھی۔ رنجیت سنگھ جارج بادشاہ کو اکساتا اور کہتا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ تمہاری ایک بھی بیوی نہیں۔ کیونکہ یہاں تو سکھوں کی، اکثر 25، 25بیویاں بھی ہوتی ہیں۔ “جارج جواباً کہتا کہ انگلستان میں لوگ ایک آدھ اور شادی بھی کر لیتے ہیں وہ بھی اس صورت میں کہ دوسری بیوی کے حقوق ادا کیے جا سکیں۔” جس پر رنجیت کہتا کہ اگر اس کی بیوی اس کے لئے پریشان کن ثابت ہو تو وہ اس کو مار پیٹ بھی کر لیتاہے۔
فینی 23دسمبر کے حوالے سے لکھتی ہے کہ “کل ہم نے رنجیت سنگھ کے حفاظتی دستے کو (لاہور میں)دیکھا۔ وہ ہمارے قریب سے گزرے۔ رنجیت کا ذاتی گھوڑا سب سے آگے تھا، رنجیت کے پسندیدہ گھوڑے درمیان میں تھے جن پرزمرد (قیمتی پتھر) کے انبار تھے جن کی مالیت تقریباً 36لاکھ روپے یا 3لاکھ پاؤنڈ اسٹرلنگ تھی ۔درمیان میں اس نے آکر جارج کو درخواست کی کہ اگر اس کو کوئی بھی گھوڑا پسند آجائے تو وہ لے جا سکتا ہے۔ مگر جارج نے ایسا نہ کیا۔“
فینی کے کچھ اقتباسات میں رنجیت سنگھ کی ہر نئی اور غیر ملکی چیزوں میں غیر معمولی دلچسپی کا ذکر موجود ہے۔مثال کے طور پر اس نے اپنا ایک پرانا فقیر مسٹر ومبرلے کی طرف بھیجا۔ ومبرلے جو کہ ایک پادری تھا۔ رنجیت ومبرلے سے چرچ کے دو وعظوں کا ترجمہ فارسی میں کرانا چاہتا تھا۔ دراصل رنجیت اتوار کے دن ہماری مصروفیات کے بار ے میں جاننے کے لئے بے چین تھا۔
آخر میں 28دسمبر کے حوالے سے ایک تذکرہ موجود ہے کہ “آج ہم محل میں رنجیت کی ایک بیگم سے ملنے گئے محل کا اندرونی راستہ انتہائی خوبصورت تھا۔ جارج ہم سے پہلے اندر داخل ہوا۔ ہم نے جارج اور رنجیت کو ایک الگ تھلگ دربار میں بیٹھے دیکھا۔ رنجیت بہت کمزور و ناتواں اور بیمار دکھائی دے رہا تھا۔ بیماری کے دوران رنجیت ہمارے ڈاکٹر ڈرمونڈسے دوائی لیتا تھا اور بتائی گئی دوائی کا صرف ایک چوتھائی حصہ ہی لیتا۔کھڑک سنگھ اور ھیرا سنگھ ہمیں زنان خانے کی طرف لے گئے۔ دو نوکرانیاں دروازے پر آئیں اور ہم دونوں کو عطر ملنے لگیں۔
تمام رانیاں نوجوان تھیں۔ ان میں سے ایک حقیقت میں خوبصورت تھی اور کافی سفید رنگت کی حامل تھی۔ باقی اوٹ پٹانگ اور عجیب الخلقت دکھائی دیتی تھیں اور ان سب سے جو بڑی تھی وہ دیوھیکل تھی اور کافی موٹی تھی۔ انہوں نے ناک میں نتھلیاں پہنی ہوئی تھیں۔ ان کی پیشانیاں جڑاؤ زیورات سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ ان کے چہروں پر باریک جالی دار نقاب ہوتے، بھڑکیلے چغے اور چست پاجامے ان سب نے پہنے ہوئے تھے۔ کھڑک سنگھ نے ہمیں تین مرتبہ اپنی ماں کی موت کے بارے میں بتایا اور ھیرا سنگھ نے ہمیں بتایا کہ قانونی طور پر ہماری بہت ساری بیگمات اندر کمروں میں ہیں۔ وہ ہم سے بڑے بچگانہ قسم کے سوالات پوچھتے اور زور زور سے بے تحاشا ہنستے۔ ہمیں تو ان کی ہنسی کی بالکل سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ اتنا کیوں ہنسی جارہے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ وہ زیادہ تر سوئے ہی رہتے تھے۔
اکتیس دسمبر 1839ء کو گورنر جنرل کے ہمراہیوں نے لاہور کو الوداع کہا اور پانچ روز میں ہی وہ رنجیت سنگھ کے تسلطّ سے آزاد تھے۔ شیر سنگھ نے ان کی سرحد تک راہنمائی کی۔ایک بات کی میں مزید وضاحت کرنا چاہو ں گی کہ 1840ء میں رنجیت سنگھ کی وفات کے بعد ریاست بد نظمی اور افراتفری کا شکار ہو گئی ۔ شیر سنگھ، ھیرا سنگھ اور کھڑک سنگھ باہمی لڑائیوں میں ہی مارے گئے۔ اور ریاست کو 1849ء میں برٹس انڈیا میں ضم کر دیا گیا۔
© Copyright PAIGHAM MEDIA