عمر ثانی‘‘ کا خطاب پانے والے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ 

عمر ثانی‘‘ کا خطاب پانے والے حضرت عمر بن عبد العزیزؒ  شہزادہ ہونے کے باوجود کس طرح سادگی اور قناعت کی زندگی اختیار کی .
حضرت عمر بن عبد العزیزؒ بنو امیہ کے شاہی خاندان کے فرد تھے اور خلیفۂ وقت کا بھتیجا ہونے کے ساتھ ایک عرصہ تک مدینہ منورہ کے گورنر بھی رہے۔ اس دور میں ان کے شاہانہ ٹھاٹھ باٹھ کا یہ عالم تھا کہ تاریخی روایات کے مطابق دمشق سے مدینہ منورہ کا سفر کرتے ہوئے ان کا ذاتی سامان سو اونٹوں پر لد کر جاتا تھا۔ وہ اپنی خوش پوشاکی میں اپنے تمام معاصرین میں ممتاز تھے۔ عمدہ سے عمدہ لباس پہنتے، دن میں دو بار لباس تبدیل کرتے، اور جو لباس ایک بار پہن لیتے اسے دوبارہ ان کے جسم کے ساتھ لگنا نصیب نہ ہوتا۔ خیبر کا معروف باغ ’’فدک‘‘ ان کے ذاتی تصرف میں تھا جس کا تقاضہ دختر رسول سیدہ فاطمہؓ نے خلیفۂ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ سے کیا تھا، لیکن حضرت صدیق اکبرؓ نے اسے بیت المال کی ملکیت قرار دیتے ہوئے وراثت کے طور پر منتقل کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عمر بن عبد العزیزؒ کے علم، تقویٰ، اور ذوق عبادت کے باوجود ان کی یہ خوش پوشاکی اور نازک مزاجی ان کے معاصرین میں ان کے لیے طعن و تعریض کا عنوان بن گئی تھی۔

اسی دوران انہیں کسی دوست نے اپنا خواب سنادیا۔ خواب یہ تھا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، ان کے دائیں بائیں حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ بیٹھے ہیں جبکہ سامنے عمر بن عبد العزیزؒ ہیں جنہیں مخاطب ہو کر رسول اللہؐ فرما رہے ہیں کہ:

’’اگر تمہیں حکومت ملی تو ان دونوں کی طرح حکومت کرنا۔‘‘

چنانچہ جب انہیں خلافت کے منصب کے لیے چنا گیا اور لوگوں نے ان کے ہاتھ پر بیعت کر لی تو انہیں رسول اللہؐ کا یہ حکم یاد آیا، اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی خلافت کا دور ان کی نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ مؤرخین بتاتے ہیں کہ اس وقت صورت حال یہ تھی کہ بیت المال یعنی قومی خزانے کی اسی فیصد رقوم اور اثاثے شاہی خاندان کے افراد کے تصرف میں تھے۔ اور خود ’’باغ فدک‘‘ عمر بن عبد العزیزؒ کے قبضے میں تھا۔ اب یہ تو ممکن نہیں تھا کہ قومی خزانہ شاہی خاندان کے قبضے میں رہتا، زندگی کے تکلف و تعیش کے انداز بھی باقی رہتے، اور ’’خلافت راشدہ‘‘ کی یاد بھی تازہ ہو جاتی۔ عمر بن عبد العزیزؒ نے ’’عمر ثانی‘‘ بننے کا فیصلہ کر لیا اور دنیا کو بتا دیا کہ اگر ارادہ مضبوط اور عزم راسخ ہو تو تعیش اور سہولت کی زندگی ترک کر کے فقر و فاقہ کی راہ اختیار کرنا کوئی مشکل امر نہیں ہے۔ انہوں نے سب سے پہلے ’’فدک‘‘ کا باغ یہ کہہ کر بیت المال کو واپس کیا کہ

’’جس باغ پر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا حق تسلیم نہیں ہوا، مجھے اس پر قبضہ جمانے کا کیا حق ہے۔‘‘

پھر اہلیہ محترمہ سے بات کی کہ ان کے زیورات اور گھر کا بہت سا سامان بیت المال کی دولت سے بنا ہے، اس لیے وہ سب کچھ قومی خزانے کو واپس لوٹانا ہوگا۔ ان کی اہلیہ فاطمہ بنت عبد الملکؒ جو خلیفہ کی بیٹی، گورنر کی اہلیہ، اور اب نئے خلیفہ کی بیوی تھی۔ اس نے بھی تامل نہیں کیا اور اپنے زیورات سمیت قومی خزانے کی اشیاء بیت المال کو واپس کر دیں۔ اس کے بعد امیر المومنین عمر بن عبد العزیزؒ نے شاہی خاندان کا اجلاس بلا لیا اور سب کو مخاطب کر کے کہا کہ میں نے اپنا باغ واپس کر دیا ہے، فاطمہ کے زیور اتروا دیے ہیں، اور اب تمہاری باری ہے کہ جس جس کے پاس بیت المال کی جو چیز بھی ہے، دو ہفتے کے اندر وہ واپس کر دے ورنہ میں کوئی اور راستہ اختیار کروں گا۔

تاریخ گواہ ہے کہ دو ہفتے کے اندر بیت المال کو اس کے اثاثے اور رقوم واپس مل چکی تھیں اور امت مسلمہ ایک بار پھر خلافت راشدہ کی برکات سے مستفید ہو رہی تھی۔ پھر دمشق کے شہزادے پر یہ وقت ضرور آیا کہ ایک روز عمر بن عبد العزیزؒ گھر آئے، اہلیہ محترم سے پوچھا کہ اگر ایک درہم کہیں رکھا ہوا ہو تو مجھے دے دو، راستے میں ایک دکان پر انگور دیکھ کر کھانے کو جی چاہا لیکن جیب میں پیسے نہیں تھے۔ اہلیہ نے جواب دیا کہ جب آپ کے پاس نہیں ہیں تو میرے پاس کہاں سے آئیں گے؟ نازونعم میں پلے ہوئے اس شہزادے پر یہ وقت بھی آیا کہ ایک دفعہ بیماری کی حالت میں برادرنسبتی مسلمہ بن عبد الملک بیمار پرسی کے لیے آئے،