ایک وہ بھی وقت تھا جب امیر عنبسہ ملک فرانس پر چڑھائی کی
ایک وہ بھی وقت تھا ؟؟؟؟؟
جب امیر عنبسہ ملک فرانس پر چڑھائی کی -علاقہ ناربون مسلمانوں کے قبضہ میں موجود تھا -اس لئے جبل البرتات سے پوری شان کے ساتھ گزرنے والے مسلمانوں کے قدم جس نے فرانسیسی فوج کے قدم اکھاڑ کے رکھ دیئے -امیر عنبسہ نے جنوبی فرانس کو فتح کر لیا -اور فرانس کے وسط میں پہنچ کر مشرق و مغرب کی جانب فوجیں پھیلا دیں اس وقت مال غنیمت کی کثرت سے مسلمان بوجھل ہو گئے تھے-فرانسیسیوں نے اپنی تمام فوجوں کو فراہم کر کے اپنے نصف سے زیادہ ملک کی پامالی کا تماشہ دیکھا آخر ایک موزوں اور مناسب وقت و مقام پر انہوں نے اپنی پوری طاقت سے اسلامی لشکر کا مقابلہ کیا -اس مرتبہ بھی مسلمانوں نے اپنی انتہائی بہادری کا ثبوت دیا اور فراسسیوں کے دانت کٹھے کیئے --
مگر آج اپنی تاریخ کو بھولے ھوئے ہمارے بھولے بھالے مسلمان مزاروں گدی نشینوں راہبوں اور میڈیائی مفتیوں کے چکروں سے باہر نکلنے کو تیار ہی نہیں .
آج صرف اس عالم کو سنا جاتا ہے جو جہاد سے فرار کے نصوص پیش کر کے عوام کو اتحاد کی سولی دے کر مغربی تہذیب کے افکار کی نظر کر کے خیالی معرکے سر کر ہے -
آج حرام ہے کے ایک ادنا سا گاؤ ماتا کا پیشاب پینے والا اسلام و توحید
کے علمبرداروں کے قہر کا ذرا بھی ڈر محسوس کرتا ہو ،آج گھر میں گھس کر مارنے کی دھمکیاں سن کر جنگ تبوک کی مہم جس نے بغیر جنگ کے روم کی فصیلوں کو ہلا کے رکھ دیا تھا آج مسلمانوں کا دبدبہ صرف اقتدار و عیاش لوگوں اور مغربی سیاست دانوں کے جوتے کی نوک سے اوپر آنے تک کا اثر کھو چکا ہے -
آج ہمارے خکمران اپنی کرسی کے کھو جانے کے ڈر سے جہاد جیسے فریضہ کو اپنانے سے خوف کھاتے ہیں -آج عمبر و شہد کو شہادت کا نام دینے والے اور موت کو اپنی محبوبہ سمجھنے والے دوبارہ قبروں سے اٹھ کر نہیں آئیں گے -جہاد وقت کی ضرورت اور مسلمانوں کو تباہی انتشار نااتفاقی ظلم اور غلامی سے نجات دلانے کے لئے فرض کفایہ سے بڑھ کر فرض عین ہو چکا ہے تمام مسلمان اپنی پشتوں پر جہاد سامان رکھنے کی تیاری کر لیں اس سے پہلے کے دشمن تمہارے خوف کو تمہاری کمزوری سمجھ کر تمہارے گھر میں گھس آئے ؟؟؟
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں