قربانی کے سلسلے میں امت کا تعامل حقائق، مسلّمات اور غلط فہمیاں (۲) از: مفتی رشید احمد فریدی‏،مدرسہ مفتاح العلوم تراج، سورت، گجرات

قربانی کے سلسلے میں امت کا تعامل حقائق، مسلّمات اور غلط فہمیاں (۲)

از: مفتی رشید احمد فریدی‏،مدرسہ مفتاح العلوم تراج، سورت، گجرات

(۶) تعدد وتکرار کی بحث راقم کا مقالہ تحقیق الکلام فی بیان السبب لوجوب الاحکام سے تعدد وتکرار وجوب کی بحث یہاں نقل کی جاتی ہے۔ احناف کے نزدیک یہ اصول طے شدہ ہے ان الامر لا یقتضی التکرار ولا یحتملہکہ امر بالذات نہ مقتضی تکرار ہے اورنہ محتمل تکرار۔ دوسری طرف خطاب الٰہی جس پر صیغہٴ امر دال ہے وہ موجود علی الدوام ہے اور بندوں کے احساس سے غائب وپوشیدہ ہے پس ضروری ہوا کہ عبادت بدنی ومالی کی ادائیگی کو کسی ایسے امر کے ساتھ مربوط کیا جائے جس میں تکرار پایا جاتا ہو تاکہ اس کے تکرار سے یہ سمجھا جائے کہ خطاب الٰہی گویا از سر نو بندوں کی طرف متوجہ ہورہا ہے۔ وما تکرر من العبادات فباسبابہا لا بالاوامر. جواب سوال یرد علینا: وہو ان الامر اذا لم یقتض التکرار ولم یحتملہ فبأی وجہٍ تتکرر العبادات مثل الصلاة والصیام وغیر ذلک، فیقول ان ما تکرر من العبادات لیس بالاوامر بل بالاسباب لان تکرار السبب یدل علی تکرار المسبب(نورالانوار:۳۵). قولہ لیس بالاوامر والا لاستغرقت العبادات الاوقات کلہا لدوام الامر (حاشیہ) چنانچہ شارعِ حکیم کے کلامِ اضافی سے استدلال کرتے ہوئے ائمہ مجتہدین نے ملک نصاب کو وجوب زکوٰة کیلئے اور رأس موصوف بالولایة والموٴنةکو وجوبِ صدقہ کیلئے سبب قرار دیا؛ کیونکہ ملکیت میں باعتبار نصاب کے اور موٴنت و ولایت میں باعتبار رأس کے تعدد وتکرار پایا جاتا ہے اور جب ”ملک نصاب“ اور ”رأس یمونہ ویلی علیہ“ کو سبب قرار دیدیا تو وقت وجوبِ اداء کو شرط کہا گیا (اگرچہ وقت کے تکرار سے حکم میں تکرار بھی مسلّم ہے مگر دو چیزوں کا ایک نام تجویزکرنا غیر مناسب معلوم ہوا) اور نماز، روزہ اور قربانی میں اوقات وایام مخصوصہ کو سبب قرار دیا کہ وقت میں تکرار کا ہونا مشاہد ویقینی ہے۔ اور حج زندگی میں فقط ایک مرتبہ ہے اس لئے حج کی اضافت بیت اللہ کی طرف کی گئی جو غیر متکرر ہے اور استطاعت (قدرت علی الزاد والراحلہ) کو باوجودیکہ وجوبِ حج اس پر موقوف ہے یعنی نفس وجوب کی شرط ہے اور وجوب ہی چونکہ مفضی الی الاداء ہوتا ہے اس اعتبار سے استطاعت کو سبب کہا جاسکتا ہے مگر چونکہ اس میں تکرار کا بھی تحقق ہوتا ہے اس لئے سبب (بالمعنی الاصطلاحی) قرار نہیں دیاگیا۔ وفی الذخیرة: وقد رتب اللّٰہ سبحانہ وتعالٰی وجوب الحج علی الاستطاعة وترتیب الحکم علی الوصف یشعر بسببیّة ذلک الوصف لذلک الحکم، کقولنا: زنی فرجم، وسہا فسجد، وسرق فقطع، فتکون الاستطاعة سببا لوجوبہ(حاشیہ چلپی علی التبیین: ۲/۲۳۶) والمال لیس بسبب فیہ ولکنہ معتبر لیتیسر بہ الوصول الی مواضع اداء ارکانہ(مبسوط، کتاب الحج) غرض جس شئی کو سبب قرار دیا جارہا ہے اس میں تعدد وتکرار کا خاص معنی ملحوظ ہے اسی وجہ سے واجبات کی نسبت اسباب کی طرف ہوا کرتی ہے فالواجبات تضاف الی اسبابہا(مبسوط:۲/۴) قطع نظر اس سے کہ وہ سبب فی معنی العلة ہے یا سبب فی معنی الشرط ۔ اب فقہاء کا کلام ملاحظہ فرمائیے: (۱) اعلم ان الصلاة فرضت لاوقاتہا، قال اللّٰہ تعالٰی: اقم الصلوٰة لدلوک الشمس ولہذا تکرر وجوبہا بتکرار الوقت وتودّی فی مواقیتہا(مبسوط:۱/۱۴۱). (۲) وسبب الاوّل الشہر ولہذا یضاف الیہ ویتکرر بتکررہ(ہدایہ:۱/۲۱۱کتاب الصوم) (۳) فشہود جزء منہ سبب لکلہ ثم کل یوم سبب وجوب ادائہ، غایة الامر انہ تکرر سبب وجوب صوم الیوم باعتبار خصوصہ کما فی الفتح(شامی:۳/۳۳۳) (۴) ولان سببہ البیت وانہ لا یتعدد فلا یتکرر الوجوب(ہدایہ: ۲۳۲) (۵) وقد علم ان السبب اذا لم یتکرر لا یتکرر المسبب وانما کان سببہ البیت لاضافتہ، الیہ یقال حج البیت، والاضافة دلیل السببیة(بنایہ:۴/۶) (۶) وسبب وجوب الحج ما اشار الیہ اللّٰہ تعالٰی فی قولہ وللّٰہ علی الناس حج البیت فالواجبات تضاف الی اسبابہا ولہذا لا یجب فی العمر الا مرة واحدة لان سببہ وہو البیت غیر متکرر، والاصل فیہ حدیث الاقرع بن حابس.... والوقت فیہ شرط الاداء ولیس بسبب ولہذا لایتکرر بتکرر الوقت(مبسوط:۲/۴) (۷) الاضافة ای اضافة الصدقة الی الفطر باعتبار انہ وقتہ ای وقت الوجوب فکانت اضافتہ مجازیة وہذا یتعدد بتعدد الرأس مع اتحاد الیوم ای لاجل تعدد الصدقة بتعدد الرأس ان لم یتعدد الفطر فعلم ان الرأس ہو السبب فی الیوم(بنایہ: ۳/۵۷۲) (۸)... ولانہ یتضاعف بتضاعف الروٴس فعلم ان السبب ہو الرأس وانما یعمل فی وقت مخصوص وہو وقت الفطر ولہذا یضاف الیہ فیقال صدقة الفطر والاضافة فی الاصل وان کان الی السبب فقد یضاف الی الشرط مجازا فان الاضافة تحتمل الاستعارة فاما التضاعف بتضاعف الروٴس لایحتمل الاستعمارة(مبسوط:۲/۱۰۱) (۹) النصاب انما یکون سببا باعتبار صفة النماء فان الواجب جزء من فضل المال قال اللہ تعالٰی: یسئلونک ماذا ینفقون فل العفو ای الفضل، فصار السبب النصاب النامی ولہذا یضاف الی النصاب والی السائمة یقال زکاة السائمة وزکوٰة التجارة والدلیل علیہ ان الواجب یتضاعف بتضاعف النصاب فان قیل الزکوٰة تتکرر فی النصاب الواحد بتکرر الحول ثم الحول شرط ولیس بسبب الخ(دیکھئے مبسوط:۲/۱۵۰) پس اگر نصاب اور رأس کے بجائے وقت کو سبب قرار دیاجاتا تو تکرارِ وقت سے وجوب ضرور مکرر ہوتا لیکن متعدد وجوب نہ ہوتا۔ اوراگرایامِ حج سے وجوبِ اداء کا تعلق ہوتاتو ہر سال حج کرنا ضروری ہوجاتا جیسے قربانی۔ اما حدیث الاقرع بن حابس رضى الله تعالى عنه فہو ماروی ابو ہریرة رضى الله تعالى عنه ان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال ایہا الناس قد فرض اللّٰہ علیکم الحج فحجوا فقال الاقرع بن حابسرضى الله تعالى عنهأکلّ عام یا رسول اللّٰہ فسکت حتی قالہا ثلثا فقال لو قلتُ نعم لوجب ولما استطعتم. والمنعی لو قلت ”نعم“ لتقرر الوجوب کل عام علی ما ہو المستفاد من الامر قلنا لا بل معناہ لصار الوقت سببا لانہ علیہ الصلاة والسلام کان صاحب الشرع والیہ نصب الشرائع(تلویح:۴۲۱) اور جب وقت کو سبب وجوب قرار دیا جاتا تو وجوب اداء مختص بالوقت ہوکر متکرر ہوتا۔ قربانی کے سبب وجوب کے بارے میں فقہاء کا اختلاف اور بالآخر وقت کی سببیت پر سب کا متفق ہونا سببیت کے خاص معنی کے لحاظ سے ہے، اور اِس معنی کے اعتبار سے وجوبِ اضحیہ کا سبب نہ غنا ویسار ہے اورنہ ہی رأس یمونہ ویلی علیہ ہے۔ ورنہ متعدد قربانی واجب ہوتی جیسے زکوٰة وصدقة الفطر، البتہ ایام نحر کی آمد سے وجوب مکرر ہوتا رہتا ہے اس لئے وجوب اداء یعنی وجوب اضحیہ کا سبب وقت کو قرار دیاگیا ہے۔ ان سبب وجوب الاضحیة الوقت وہو ایام النحر والغنٰی شرط الوجوب .... الا یری انہ لایقال اضحیة المال ولا مال الاضحیة فلا یکون المال سببا(تکلمة فتح القدیر) ولان سبب الوجوب ہناک رأس یمونہ ویلی علیہ وقد وجد فی الولد الصغیر ولیس السبب الرأس ہہنا الا یری انہ یجب بدونہ وکذا لایجب بسبب العبد (بدائع: ۵/۶۵کتاب الاضحیة) واعلم ان عبارة البعض تفید ترجیح کون السبب ہو الرأس کصاحب الکافی حیث قال وسببہا الرأس کما فی صدقة الفطر وقیل: الیوم، وعبارة الدر تفید عکس ذلک. ومنہم من جزم بان السبب ہو الیوم قال للاضافة لقولہم یوم الاضحٰی ولتکررہا بتکررہ (فتح المعین علی شرح الکنز لملا مسکین: ۳/۳۷۶) (۱۰) ثم ہہنا تکرر وجوب الاضحیة بتکرر الوقت ظاہر(تکملہ فتح القدیر: ۹/۵۰۶) یہی وجہ ہے کہ مولانا عبدالحئی لکھنوی رحمة الله عليه نے وجوب صدقة الفطر میں رأس کیلئے سبب کا لفظ استعمال کیا اور قربانی میں مال کیلئے نہیں کیا۔ قلنا سبب وجوب الفطرة رأس ای نفس یمونہ ای یتولیہ ویکفلہ فیجب الصدقة علی الرأس ... ولکن الاضحیة علی المال فان لم یکن لہ مال لایجب علیہ فافہم(عمدة الرعایہ:۴/۳۸) لیکن قربانی کے وجوب فی الذمہ کی علت بہرحال غنا ویسار ہے اس میں فقہاء کا کوئی اختلاف نہیں ہے (کما ستعلم ان شاء اللّٰہ) اس لحاظ سے اگر کسی فقیہ کے کلام میں بسبب الغنا کا لفظ آیا ہے تو وہ سبب فی معنی العلة ہے۔ (دیکھئے: تبیین الحقائق:۶/۴۷۸). الحاصل وقت کو سبب قرار دینا تکرارِ وجوبِ اداء کیلئے ہے۔ (۷) تواتر وتعامل کے خلاف دئیے گئے فتاویٰ میں تعارضات وقت مخصوص کی آمد سے نفس وجوب کے ثبوت کی بنیاد پر دئیے گئے فتاویٰ میں اصولی وفقہی متعدد غلطیوں کے علاوہ جن کی طر ف راقم نے اپنے مضمون ”تعقب الفرید علی تخصیص الوجوب بصبح العید“ میں نشان دہی کی ہے یہاں آپ کو ان فتاویٰ کے درمیان تعارضات دکھائے جاتے ہیں۔ توارث وتعامل کے معارض ہونے کے ساتھ فتاویٰ کا آپس میں متعارض ہونا اہل علم خود فیصلہ کریں یہ کس بات کی علامت ہے۔ پہلے ان فتاویٰ کی بنیادی عبارتیں پیش کی جاتی ہیں پھر تعارضات ملاحظہ فرمائیں گے۔ (الف) دارالعلوم کراچی کے مفتی عصمت اللہ صاحب کے فتویٰ کی بنیادی عبارت: ”الجواب“ قربانی کے نفس وجوب کا سبب وقت ہے جو کہ یوم النحر کے طلوع صبح صادق سے شروع ہوکر بارہویں تاریخ کے غروب آفتاب تک ہے اور غِنٰی یعنی مالک نصاب ہونا یہ شرط وجوب ہے۔“.... ”اگر یوم النحر ہوچکاہے تو نفس وجوب ہوگیا۔ اب دیگر شرائط کے پائے جانے کی صورت میں خود قربانی کرے یا اس کی اجازت سے دوسرا کوئی آدمی کرے دونوں صورتوں میں یہ قربانی شرعاً اداء ہوجائے گی۔“ قال العبد: حاصل یہ کہ نفس وجوب کا سبب پورا وقت ہے اور غِنٰی کو شرط وجوب یعنی صرف وجوب اداء کی شرط مانا گیا، پھر آگے چل کر وقت خاص کے جزء اوّل کو متعین طریقہ پر سبب مانا ”اگر یوم النحر ہوچکا یعنی صبح صادق ہوگئی تو نفس وجوب ہوگیا۔“ بہرحال بارہویں کے غروب کے بعد نفس وجوب نہیں ہے۔ (ب) مفتی عمر فاروق صاحب لندن کے فتویٰ کی بنیادی عبارت: ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ مالدار شخص اپنی قربانی وکیل کے معرفت کرنا چاہے تو ضروری ہے کہ مالدار پر قربانی واجب ہوچکی ہو اور مالدار پر قربانی دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے واجب ہوتی ہے۔ اب جو مالدار شخص جہاں رہتا ہو وہاں قربانی کا وقت شروع نہ ہوا ہو یعنی وہاں دسویں تاریخ کی صبح صادق نہ ہوئی ہوتو چاہے وکیل جہاں رہتا ہے وہاں دسویں تاریخ کی صبح صادق ہوچکی ہو وکیل کے لئے اپنے مقام پر اصل مالک کی طرف سے اس کی قربانی کرنی صحیح نہیں... دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کسی شخص کے ذمہ قربانی واجب ہونے کے بعد اس کی ادائیگی جائز اور صحیح ہونے کے لئے جس جگہ پر قربانی کا جانور ہو وہاں قربانی کا وقت شروع ہوجانے کے بعد باقی رہنا ضروری ہے چاہے اصل مالک (موکل) کے مقام میں قربانی کا وقت ختم ہوگیاہو۔ قال العبد: حاصل یہ کہ مالدار پر نفس وجوب یوم النحر کی صبح صادق سے ہوتی ہے یعنی جزء اوّل متعین ہے اور نفس وجوب کے بعد اداء کے لئے وقت اضحیہ کا رہنا ضروری ہے۔ چاہے من علیہ الاضحیہ کے یہاں وقت نہ ہو۔ (ج) حضرت مفتی محمد تقی صاحب عثمانی مدظلہ العالی کی تائیدی تحریر کی عبارت: ”نیز احتیاط اس میں ہے کہ جب قربانی کسی ملک میں کی جائے تو جس شخص کی طرف سے قربانی کی جارہی ہے اس کے ملک میں بھی ایامِ اضحیہ ختم نہ ہوئے ہوں۔“ قال العبد: گویا صحت اضحیہ کیلئے دونوں جگہ وقت اضحیہ کا رہنا بہتر ہے لیکن اگر من علیہ الاضحیہ کے اعتبار سے وقت ختم ہوگیا اور مکان