والدین کے لئے دقت طلب بچوں کی کیفیت آٹزم
والدین کے لئے دقت طلب بچوں کی کیفیت آٹزم
متین خان
آٹزم اس کیفیت کو کہتے ہیں جس میں متاثرہ شخص حقیقی دنیا سے الگ ہوکر صرف اپنی ذات اور خیالی دنیا میں کھویا رہتا ہے
اس کیفیت سے متاثر بچے کو اشیا کا سمجھنا اور اسکے متعلق بیان کرنے میں بڑی دشواری ہوتی ہے
بچے کی عمر کے ابتدائی سالوں میں یہ علامات ظاہر ہو جاتی ہیں ۔ دماغی کیمسٹری میں خرابی یا ردوبدل کو اسکی اہم وجہ مانا جاتا ہے جس کا براہ راست اثر دماغ کے ان حصّوں پر پڑتا ہے جو رابطے کی صلاحیت اور سماجی تعلقات کے لیے مخصوص ہیں۔
امریکن سا ئکائٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق مندرجہ ذیل علامات اگر بچے کی عمر کے ابتدائی تین سالوں میں ظاہر ہوں تو اسے آٹزم کہا جاتا ہے ۔
ایسے بچے سماجی میل جول میں واضح طور پر دوسرے بچوں کی بنسبت پیچھے رہتے ہیں انمین اپنے ہم عمر بچوں یا رشتہ داروں سے رابطے کی صلاحیت بہت کم ہوتی ہے، اپنے گرد و نواح میں دلچسپی نہ لینا، اردگر کی چیزوں پر توجہ نہ دینا. اکیلے رہنے کو ترجیح دینا، کسی خیالی یا انجانی چیز میں کھوئے رہنا اور بیکار کھیل کھیلتے رہنا، خطرے کو محسوس نہ کرنا یا احساس نہ ہونا، اپنے پورے جسم کو ہلاتے رہنا، کھانے پینے اور سونے میں معمول کا عام روویہ نہ اپنانا، خود کو زخمی کرنا اپنے آپ کو دانتوں سے کاٹنا، درد یا تکلیف میں کمی یا ذیادتی کا قطعی احساس نہ ہونا یا بہت ذیادہ ہونا وغیرہ ۔
آٹزم کی وجوہات کے سلسلے میں پہلے ماہرین کا یہ خیال تھا کہ بچے کے ساتھ ماں کا سرد روویہ اس کی اہم وجہ ہے لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا ماہرین کی نئی تحقیق کے مطابق موروثی اور عصبی عوامل بھی اسکی وجوہات ہیں ۔ لیکن موروثی طور پر کس جین کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ۔ ماہرین کے اندازے کے مطابق والدین کی کئ بیماریاں جن میں کینسر، ذیابیطس، اور امراض قلب بھی اس کا سبب ہو سکتے ہیں۔بچیوں کی بنسبت بچے انٹزم کا زیادہ شکار ہوتے ہیں۔
اس کیفیت کا سبب دماغی و اعصابی خرابی بھی بتایا جاتا ہے۔ ابھی ماہرین کو یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ دماغ کے کس حصّہ کی ساخت یا کس مخصوص حصّے کی صحیح نشوونما نہ ہونا اسکی اہم وجہ ہے
آٹزم سے متاثرہ بچوں کے ابتدائی دو سال تک صحیح تشخیص نہیں ہو سکتی ہے کیونکہ اس عمر میں بیماری کی علامات پوری طرح واضح نہیں ہوتیں تقریبا چھہ سال کی عمر تک کچھ علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں۔
اگر بچہ مندرجہ ذیل پانچ عوامل پر پورا نہ اترے تو کسی حد تک ایسے بچے کو انٹرم سے متاثر سمجھا جا سکتا ہے
اگر بچہ 12 ماہ کی عمر تک مختلف آوازیں نہ نکالے اور اشارہ، ہاتھ ہلانا اور چیزوں کو پکڑنا شروع نہ کرے۔
اگر 16 ماہ کی عمر تک کوئی لفظ بھی ادا نہ کرے۔
اگر24 ماہ کی عمر تک 2 لفظ ملا کر ادا نہ کرے.
ایسے بچوں کی صحیح پروش اور نشوونما پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے.
صرف تعلیم یا صحت پر توجہ دینا کافی نہیں ہے یا بچے کی کسی بھی ایک کام میں فعالیت یا درستگی کو دیکھتے ہوئے اسے صحیح نہیں کہا جا سکتا ہے بلکہ بچے کی تمام حرکات کو پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ہر بچے کی عادات مختلف ہوتی ہیں اسکے مطابق ہی پروگرام ترتیب دیا جائے کوئی ایک طریقہ کا ایسے ہر بچے کے لئے مفید ثابت نہیں ہوتا یہ بہت پیچیدہ مرض ہے ابھی پوری طرح سے ماہرین بھی نہیں سمجھ سکے کہ اسکا صحیح علاج کیا ہے.
کچھ باتوں پر توجہ دیکر بڑی حد تک بہتری لائی جا سکتی ہے مثلاً سمعی تربیت، وٹامنز کے ذریعہ علاج، ذباندانی کی تربیت، موسیقی سے علاج، جسمانی تربیت، سماجی تربیت، روز مرہ زندگی کی مہارتیں، رؤے کی درستگی، رابطے اور میل جول صحیح تربیت شامل ہیں ۔ والدین اور اساتذہ کے لئیے ضروری ہے کہ ہر بچے کے متعلق خاص مسائل کی نشان کرکے اس کی روشنی میں اپنی ترجیحات طے کریں۔
والدین کے لیے ضروری ہے کہ بچے کے ساتھ محبت اور پیار کا، والہانہ روویہ اپنائیں بار بار بچے سے اظہار کریں کہ وہ والدین کے لئے کتنا خاص ہے وہ بچے سے بہت پیار کرتے ہیں ۔
سماجی تقریبات میں ساتھ لے کر جائیں اور بچے کو خاندان، دوستوں، اور ملنے جلنے والوں سے باعزت طریقے سے متعارف کرائیں بچے کی موجودگی میں کسی سے اسکی بیماری یا کمی کا تذکرہ نہ کریں عام بچوں کی طرح ہی انکے ساتھ کا سلوک رکھیں ایسا رویہ جس سے بچہ احساس کمتری کا شکار ہو سکتا ہو اسکے لئے بہت نقصان دہ ہوگا ۔ جب بچہ سکول جانے کی عمر کو پہنچے تو قریبی اسکول کا انتخاب کریں یا ایسے اسکول جہاں ان بچوں کی ضرویات کا خیال رکھا جاتا ہو داخلہ کرائیں۔
بچے کا نصاب اساتذہ کے ساتھ ان کی ترجیحات اور بچے کی کیف کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا جاۓ۔کیونکہ یہ بچہ عام بچوں کی طرح نہ جلدی پڑھ سکتا ہے اور نہ بآسانی کچھ سمجھ سکتا ہے
والدین سکول انتظامیہ کے ساتھ ہمیشہ رابطے میں رہیں تاکہ بچے کے مثبت اور منفی پہلو پر نظر رکھی جائے اور بات ہو سکے۔
بچے کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے اسکی عمر کے مطابق روزمرہ کے ضروری کام سکھانا، انسے نئے تجربات کروانا ، دوڑ میں دوسرے بچوں کے ساتھ مقابلہ کرانا بتدریج عمر کے مطابق انہیں نئے چیلنج دینا ، چھوٹی چھوٹی خوشیاں دینا، ان کی ہمّت بندھانا، ان کی حوصلہ افزائی کرنا، یہ طریقہ کار بچے کی بہتری اور ذہنی بالیدگی میں معاون ثابت گا.
آٹزم کا طبی علاج نہیں ہے کیونکہ یہ ایک کیفیت ہے بیماری نہیں ہے.
mateenkhan@live.in
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں