طارق فتح کے مذموم عقائد اور زی نیوز میں اسلام کے خلاف کی گئ گفتکو سے چند اہم اقتباسات .

 ائمہ وخطبا کو جمعہ کی تقریر کے لیئے

طارق فتح  کے مذموم عقائد اور زی نیوز میں اسلام کے خلاف کی گئ گفتکو سے چند اہم اقتباسات .

تیشئہ قلم :یاسر ندیم الواجدی

*مسلمانانِ ہند کی غیرت کے حوالے*

گذشتہ چند دنوں سے زی نیوز پر بدنام زمانہ طارق فتح کا ”فتح کا فتویٰ“نامی جو شو چل رہا ہے،وہ درحقیقت ایک خاص ذہنیت اور ایجنڈے کو سامنے رکھ کر چلایا جارہا ہے اس کا مقصد صرف اور صرف اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنا ہے،اول تو اس شو میں اسلام کی نمائندگی کرنے والے اکثر ایسے حضرات ہوتے ہیں جو محض اپنی شہرت اور کچھ دنیوی مقاصد کے لئے زی نیوز کی دعوت پر جاتے ہیں،دوسرے یہ کہ اگر ان حضرات کی طرف سے کوئی بات طارق فتح کے مقصد کے خلاف ہوجاتی ہے تو اس کو کمال مہارت سے ایڈیٹنگ کرکے حذف کردیا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ طارق فتح کبھی اس بات کے لئے تیار نہیں ہوتا کہ اس کا سامنا اسٹوڈیو کی چہار دیواری سے نکل کر ایسے لوگوں سے ہو جو اس کے حقیقی مشن کو آشکارا کردیں،میں نے دو ہفتے پہلے طارق کو علی الاعلان مناظرے کا چیلنج دیا تھا لیکن اس نے حسب عادت اور حسب توقع سامنے آنے سے انکار کردیا۔

طارق فتح کے تعلق سے فاضلِ دیوبند حضرت مولانا یاسر ندیم الواجدی کی کئی ویڈیوز آچکی ہیں سب سے پہلی ویڈیو میں اس کا تعارف اور اس کے کچھ اعتراضات کے جوابات دیئے گئے تھے،دوسری ویڈیو میں بھی ”فتح کا فتویٰ“کا پوسٹ مارٹم کیا گیا تھا،تیسری ویڈیو اس کے عقائد کا مختصر تعارف ہے بلکہ تعارف کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی غیرت کا امتحان بھی ہے،طارق اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے اور ہم بھی بفضلہ تعالیٰ مسلمان ہیں *اس لئے میری برادران وطن سے گزارش ہے کہ وہ اپنے کو اس مسئلے سے الگ کرلیں،* *کیونکہ یہ مسلمانوں کا داخلی معاملہ ہے،* مگر افسوس کہ بہت سے ہندوشدت پسندوں کی وجہ سے مسلمانوں کا یہ یقین مضبوط ہورہا ہے کہ اس شخص کو مذموم مقاصد کے حصول کے لئے تیار کرکے باہر سے لایا گیا ہے تاکہ ہندو اور مسلمان کبھی امن سکون کے ساتھ نہ رہ سکیں۔

ہماری اس تحریک کے مخاطب برادران وطن نہیں ہیں،بلکہ ملک کے بیس کروڑ مسلمان اور ان کی غیرت ہیں ،آپ اس کی ویڈیو میں ملاحظہ کریں گے کہ کس طرح طارق فتح نے اللہ،اللہ کے رسول ﷺ،قرآن اور اسلام کا مذاق اڑایا ہے اور خدا اور رسول خدا کی شان میں گستاخی کی ہے،یوٹیوب پر اس کی کچھ پرانی ویڈیوز ہیں،ان میں سے ایک ویڈیو میں وہ یہودیوں کے ایک مجمع کے سامنے تقریر کررہا ہے،وہ کہتا ہے: *”میری ماں چونکہ مسلمان تھی اس لیے میں کبھی بھی اس کا دل دکھانا نہیں چاہتا تھا،اس لے میں نے کبھی بھی اس کے مذہب کی بے عزتی نہیں کی حالانکہ میں اگر چاہتا تو یہ پوچھ سکتا تھا کہ محمد (ﷺ)کو اگر معراج پر جانا ہی تھا تو وہ پروں والے گھوڑے پر سوار ہوکر کیوں گئے،وہ کسی سوان یا بطخ پر بھی تو اڑسکتے تھے“(مجمع نے خوب قہقہہ لگایا)*

اس ویڈیو میں آگے چل کر وہ رسول اللہ ﷺ کی شان میں ایسی گستاخی کرتا ہے کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان کے بھی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں،تاریخ کے مختلف ادورا میں بہت سے لوگوں نے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے لیکن جس طریقے سے طارق فتح نے ناموس رسالت پر حملہ کیا ہے شاید ڈنمارک کے کارٹونسٹ کا ذہن بھی وہاں تک نہ گیا ہو،اس نے انگریزی میں جو الفاظ ادا کئے ہیں یہاں ان کا ترجمہ لکھتے ہوئے روح کانپ اٹھتی ہے *اس شخص نے العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ کو سات سو لوگوں کا قاتل اور زناکار ”قرار دیا ہے“میرے نزدیک گستاخ رسول کی گستاخی کو نقل کرنا بھی گناہ عظیم ہے،اگر طارق فتح کے جرائم سے امت کو باخبر کرنا مقصود نہ ہوتا تو نبی کی شان میں یہ الفاظ نقل کرنے کی جرأت نہ کی جاتی۔*
اب فیصلہ آپ لوگوں کے ہاتھ میں ہے،

آگے چل کر وہ اپنا واقعہ سناتے ہوئے قرآن کا مذاق اڑاتا ہے،وہ کہتا ہے جس زمانے میں ہم یونیورسٹی میں پڑھتے تھے تو میرے سارے جاننے والے ملحد(منکر خدا)تھے ہم جب بس میں بیٹھ کر جاتے تھے تو راستے میں قرآن کی آیتوں کا مذاق اڑاتے ہوئے چلتے تھے۔یہ شخص قرآن پر ایمان نہیں رکھتا،اپنی تقریر کے دوران یہ اس بات پر اصرار کرتا ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے قرآن پر ایمان لانا ضروری نہیں ہے،وہ کہتا ہے کہ ”نبی (ﷺ)کی بعثت کے بعد مسلمان تیرہ سال مکہ میں رہے اور پھر ہجرت کرکے”یہودیوں کے شہر“مدینہ آئے یہاں پر بھی ان کے پاس نہ مکمل قرآن تھا اور نہی تمام احادیث تھیں اس کے باوجود وہ مسلمان تھے لہٰذا اگر میں قرآن پر ایمان لائے بغیر اللہ کی وحدانیت کا قائل ہوجاؤں اور یہودیت کی اتباع شروع کردوں تو بھی میں مسلمان ہوں“اس شخص نے اپنا عقیدہ اور اپنا ایجنڈا بڑے واصح انداز میں بیان کردیا ہے،کیا ابھی بھی کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ شخص مسلمان ہے؟کیا ابھی بھی کچھ لوگوں کے نزدیک یہ ہندوستانی مسلمانوں کو آئینہ دکھانے آیا ہے؟

اب آئیے ایک دوسری ویڈیو کی طرف یہ فریڈم آف ایکسپریشن کے موضوع پر ایک انٹریو دیتے ہوئے سورہ فاتحہ پر اعتراض کرتا ہے کہ کہتا ہے کہ ”قرآن کی پہلی ہی سورت میں یہود ونصاریٰ کے خلاف آیتیں ہیں کیا اس کتاب ہیں کیا اس کتاب پر پابندی نہیں لگانی چاہئے“؟اسی انٹرویو میں یہ اللہ رب العزت کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ”جب مصیبت آتی ہے تو لوگ خوب نوافل پڑھتے ہیں اس کے بعد اپنی راہ لیتے ہیں،اگر اوپر آسمانوں میں کوئی الہ ہے تو وہ بھی سوچتا ہے کہ دیکھو میں نے تو اس کا مسئلہ حل کیا اور اس نے مجھے شکریہ کا کارڈ بھی نہیں بھیجا“گویا خود اس کو اللہ کے ہونے نہ ہونے میں شک ہے،اب آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ *کیا ایسے شخص کو مسلمان قرار دیا جاسکتا ہے،کیا ایسے شخص پر اعتماد کیا جاسکتا ہے؟کیا اس کی باتوں میں کوئی سچائی ہوسکتی ہے؟آپ کو یقینا اندازہ ہوگیا ہوگا کہ اس کا خفیہ ایجنڈا کیا ہے،اب سوال اس ملک کے بیس کروڑ مسلمانوں کی غیرت کا ہے،اس حقیقت کو جاننے کے بعد کہ تاریک پتّہ گستاخ رسولﷺ ہے اور مسلمانوں کو ان کے نبیﷺ سے بدگمان کرنا چاہتا ہے کے آپ اپنی غیرت کا جائزہ لیجئے،اگر دل میں غیرت موجود ہے تو سبحان اللہ اور اگر نہیں ہے تو آپ بھی گھر بیٹھیں اور ہم بھی بیٹھتے ہیں مگر یہ یاد رکھئے* کہ رسول خدا ﷺ کو منھ دکھانا ہے۔

یاد رکھئے کہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو واجب القتل قرار دیا گیا ہے، ہندوستان میں اگر اسے انجام تک نہیں پہنچایا جاسکتا تو کم از کم اس کے خلاف کم از کم اتنی کاروائی تو ہونی چاہئے کہ ان کا شو فوراً بند ہوجائے اور جس چینل پر یہ شو چل رہا ہے اس پر فوراً پابندی لگے،

اس سے میں آپ کو اور آپ کی غیرت کو دعوت دیتا ہوں کہ اٹھئے اور عصمت رسول کی حفاظت کیجئے۔
اگر آپ لوگ ہندوستان جیسے ملک میں رہ کر اس مردود کے خلاف دستوری دفعات کا پاس رکھتے ہوئے کچھ کرنا چاہتے ہیں تو، بتائیں آج رات تک ہم لائحہ عمل مرتب کریںگے ۔

یاسر ندیم واجدی صاحب کے یو ٹیوب چینل سے مذید مواد حاصل کیا جاسکتا ہے چینل کا لنک یہ ہے
https://youtu.be/w7A5K9w1n8Q

[PAIGHAM MEDIA]
http://paighammedia.blogspot.in/?m=0