مجھے چودہ سو سال پرانا اسلام دے دو
یہاں وسیم صاحب دنیا سے رخصت ہوئے ....اور وہاں ان کے گھر میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہوگی...دونوں بیٹے آمنے سامنے آگئے...وجہ ......نہ مکان کا جھگڑا ...نہ دکان کا جھگڑا اورنہ ہی روپے پیسے، جائداد یا خاندان کا جھگڑا....آپ کہیں گے کہ پھر کائے کا جھگڑا...
جھگڑا...مسلک کا جھگڑا...فرقے کا جھگڑا.......اعتقادات کا جھگڑا....جہالت اور عدم برداشت کا جھگڑا...بڑے بیٹے نے کہا کہ نماز_جنازہ دیوبندیوں کی مسجد میں ہوگی...چھوٹے بیٹے نے کہا کہ نہیں بریلویوں کی مسجد میں...خاندان کے کچھ لوگ بڑے بیٹے کی حمایت میں آگئے اور کچھ چھوٹے کی...دور پرے کے رشتے دار اور محلے والے پریشان ...کہ جلدی فیصلہ کریں...
میت کو زیادہ دیر گھر میں رکھنا درست نہیں...
مگر کوئی اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں...
ہم بھی اپنے پیارے دوست مولوی کے ساتھ تدفین میں حاضر تھے...
ہم نے مولوی کے کان میں آہستہ سے کہا
" اگر ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے موقف سے نہ ہٹا تو پھر اس مسئلے کا حل مجھے تو یہ نظر آتا ہے کہ نماز_جنازہ اہل_حدیث کی مسجد میں پڑھا دی جائے..."
مولوی نے میرا ہاتھ دباتے ہوئے کہا ..
"چپ کر جاؤ... ابھی یہ دونوں بھائی ایک دوسرے کا گریبان چھوڑ کر تمہارا پکڑ لیں گے"
میں نے آہستہ سے کہا..."یار مولوی! ایک تو میں مسئلے کا حل بتا رہا ہوں ...میرا گریبان کیوں پکڑیں گے...
میرے پاس تو ابھی اور بہت سے آپشنز موجود ہیں...."
مولوی نے غصے سے مجھے دیکھا " مجھے پتہ ہے تم ابھی کہو گے...چرچ... مندر...وغیرہ"
میں نے کہا "چرچ مندر کیوں کہوں گا....ہمارے فرقے ..مسلک ختم ہو گئے ہیں کیا ؟"ایک خاندان کے بزرگ نے درمیان میں مداخلت کی اور بڑے بیٹے سے پوچھا"بیٹا ! تمہارے ابا کونسی مسجد میں نماز پڑھتے تھے؟"بڑے بیٹے نے کہا "دیوبندیوں کی"
چھوٹا بیٹا پھٹ سے بولا "یہ جھوٹ بولتا ہے ابا بریلویوں کی مسجد میں پڑھتے تھے....."دوبارہ دونوں فریقوں کی جانب سے شورو غوغا شروع ہو گیا...
وہ بزرگ کہنے لگے...
"دیکھو بیٹا! ابھی ابھی تو تمہارے ابا کو کفن پہنایا گیا ہے ...
ابھی کفن میلا بھی نہیں ہوا..
اور تم لوگوں نے لڑنا شروع کر دیا...
بجائے مرحوم کی بخشش کے لئے دعا کرنے کے ...
اپنی والدہ بہنوں کا سہارہ بننے کے....انھیں دلاسا دینے کے ...
اپنے اپنے اعتقادات کے مورچوں میں گھس کر تم اپنے باپ کی روح کو تکلیف دے رہے ہو...
تمہیں تو چاہیے تھا کہ بڑا بھائی کہتا کہ جو چھوٹے کی مرضی وہ کرلو....
اور چھوٹا کہتا کہ نہیں بڑا بھائی باپ کی جگہ ہے وہ جو کہے وہ کر لو....
اس کی بجائے تم لوگوں نے تو اپنے باپ کی میت کو تماشا بنایا ہوا ہے...
اب میری سمجھ میں ایک حل آتا ہے اگر تم دونوں قبول کرو تو..."
آس پاس لوگ مجمع کی صورت میں جمع ہوچکے تھے...
سارے مجمع کی نظریں اس محترم بزرگ پر جم گئیں...
دونوں بھائی بھی ان کی طرف دیکھنے لگے...
بڑا بھائی بولا " جی...فرمایئے"
بزرگ نے چھوٹے کی طرف دیکھا..."اور تمہیں قبول ہے؟"
چھوٹا کچھ سوچتے ہوئے بولا "آپ پہلے حل بتائیے "
بزرگ نے کچھ سوچا اور پھر کہنے لگے
"تم دیوبندیوں کی مسجد میں نماز_جنازہ پڑھانے کے حق میں نہیں اور تمہارا بھائی بریلویوں کی مسجد کا منع کرتا ہے....
ہم یہ کرتے ہیں کہ نماز_جنازہ یہیں گھر کے باہر سڑک پر پڑھا دیتے ہیں...."
مجمع میں سے آواز آئ "مگر نماز پڑھائے گا کون...دیوبندی مولانا یا بریلوی؟"
وہ بزرگ کہنے لگے "اگر آپ لوگ مناسب سمجھو تو میں پڑھا دیتا ہوں..." ..
بڑے بھائی نے کہا "ٹھیک ہے مجھے منظور ہے...."
چھوٹے نے سر کھجاتے ہوئے کہا .." ٹھیک تو ہے...مگر آپ کونسے مسلک سے ہیں؟"
بزرگ کچھ پریشان سے نظر آئے...
"بیٹا میں نے ابھی کوئی مسلک اختیار نہیں کیا...
شاید میں ابھی آپ دونوں جتنا باشعور نہیں ہوا....
ابھی تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے 14 سو سال پرانے اسلام کو چھاتی سے لگائے چل رہا ہوں..
اور اب تو عمر بھی زیادہ ہو گئی ہے...
اس آخری عمر میں کہاں مسلک اور فرقے سمجھنے اور سیکھنے بیٹھوں گا....
راہ چلتے چلتے جہاں نماز کا وقت ہو جاتا ہے ..جو بھی قریب مسجد ہوتی ہے اس میں چلا جاتا ہوں....دیکھتا بھی نہیں ہوں کس کی ہے...
اب تو اللہ سے یہی دعا کے مجھے اس 14 سو سال پرانے اسلام کے ساتھ ہی اٹھائے..."بزرگ کی آنکھوں میں دو آنسوں تیرنے لگے.
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں