جب ذات سلاسل بجتے تھے ہم اپنے لہو میں سجتے تھے
دارالعلوم دیوبند کے جاں باز اور غوغائے حکمت و مصلحت!!""
میں نے شاتمِ رسولﷺ تاریک پتّے کے خلاف اپنی پہلی تحریر میں ہی یہ عرض کیا تھا کہ تحفظ ناموس رسالتﷺ مسلمانوں کا وہ خود کار جذبہ ہے جس کی لچک فطری ہے اس کی شعلہ انگیزی قدرتی ہے، چودہ سو سالہ تاریخ شاہد ہیکہ جب کبھی کسی نے ناموس رسولﷺ کو داغدار تو درکنار غلطی سے بھی اس پر انگلی اٹھائی ہے تو اسے کیفر کردار کو پہنچایا گیا،
اگر کسی سے نادانستہ طور پر بھی شان رسالتﷺ میں نازیبا کلمات کا صدور ہوا تو خود رحمٰن و رحیم رب نے اس کا سخت نوٹس لیا اور مسلمانوں پر نبی کی شان میں ان الفاظ کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی جن سے گستاخی کا شائبہ تک ہو، مسلمان آقاﷺ کو ""راعنا"" کہ کر اپنے حال پر رعایت کی فریاد کرتے تھے لیکن بدباطن خبیث یہودی اس لفظ کا کوئی اور ہی معنیٰ لیکر ٹھٹھا بازی کرتے تھے بارگاہ ایزدی نے بارگاہ رسالتﷺ کی خاطر ان الفاظ کو بھی برداشت نہیں کیا، اور ارشاد باری ہوا،
""یٰا یھاالذین اٰمنوا لا تقولوا راعنا، و قولوا انظرنا، وللکٰفرین عذابٌ الیم"" سورۂ بقرہ ۱۰۴
۔ائے ایمان والوں راعنا مت کہو بلکہ انظرنا کہو، اور کافر لوگوں کے المناک عذاب ہے،
خالق دینِ متین ایک اور جگہ نبیﷺ سے اونچی آواز میں بات کرنے والوں کو وارننگ دیتے ہوئے فرماتے ہیں، ائے لوگوں نبی کے سامنے اونچی آواز میں بات مت کرو ورنہ تمہارے اعمال غارت کردیے جائیں گے، سورۂ حجرات۔
سورۂ مجادلہ میں ارشاد باری ہے،
""ان الذین یحادّون اللّٰہ و رسولہ کبتوا کما کبت الذین من قبلھم""
جو لوگ اللّٰہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرینگے ان کو ذلیل کیا جائے گا، جیسا کہ ان سے پہلے مخالفت کرنے والوں کو ذلیل کیا گیا۔
کعب بن اشرف آقاﷺ کی شان میں گستاخی کرتا تھا عمر بن دینار حضرت جابر بن عبداللہؓ سے نقل کرتے ہیں کہ اس کے متعلق آقاﷺ نے کہا: کعب بن اشرف کو کون ٹھکانے لگائے گا اس نے اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کو ایذاء پہنچائی ہے، چنانچہ محمد بن مسلمہؓ نے اسے قتل کردیا، بخاری مسلم۔
حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو انبیاؑ کو گالی دے وہ قتل کیا جائے گا، اور جو صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے لگائیں جائیں گے۔
یہ تو کچھ نمونے تھے جو ہم نے قرآن و سنت کی روشنی میں پیش کیے ایسے دلائل و براہین و جرأت مندانہ اقدام سے سیرت و تاریخ لبریز ہے،
حالیہ دنوں میں گستاخان رسولﷺ اور شاتمین صحابہ کرامؓ کے خلاف اقدامات کو جذباتیت اور حکمت و مصلحت سے عاری سمجھنے والے کیا بالکل ہی کورِ چشم ہیں، ""ہاں ہم یہاں شاتمین کو قتل نہیں کرسکتے ہیں تو کیا دستوری روشنی میں ملعونین کے لیے پھانسی کا مطالبہ کرکے اینما ثقفوا اخذوا وقتّلوا تقتیلا کو بروئے کار نہیں لاسکتے، قرآن کہتا ہے ان کو ذلیل کیا جائے گا تو ہما شما کون ہیں اس کی تاویل کرنے والے!""
کیا انہیں غیرت ایمانی کی ذرا بھی قدر نہیں،
حکمت حکمت کی رٹ لگانے والے رٹّو طوطے کیا اللّٰہ اور آقاﷺ سے بھی بڑھ کر حکیم و مصلح ہوگئے ہیں،
کوئی بھی تاریخ اسلام کا جائزہ لیگا تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو جس دور میں قتل کرنے کا حکم دیا گیا وہ زمانه ابتداء اسلام کا تھا، اغیار اس ابھرتے دین حنیف پر اسوقت اعتراضات کا طومار باندھ سکتے تھے کہ یہ مذہب تو تقدس شخصی کی دعوت دیتا ہے، اس مذہب کے پیغمبر سے بدتمیزی کرنے والوں کو تو یہاں قتل کیا جاتا ہے، یہ اور اس جیسے بے شمار اعتراضات نیز امت دعوت و اجابت کی حکمت و مصلحت ظاہر بین نگاہوں میں اس کے برعکس ہوتی، لیکن اس نازک دور میں بھی اللّٰہ حکیم و علیم نے اسی کو عین حکمت و مصلحت جانا کہ اسلام، رسول اور صحابہ کا گستاخ واجب القتل ہوگا،
لیکن ناس ہو ان مصلحت پرست بے غیرتوں کا جنہوں نے کل طلباء دارالعلوم دیوبند کے غصے کو جذباتیت کہ ڈالا، اور بعض تو دو قدم آگے بڑھ گئے اور تحفظ ناموس رسالتﷺ کے لیے کوشش کرنے والوں کے اقدام کو غیر ضروری قرار دے دیا، کیا ان لوگوں کو اللّٰہ اور اس کے رسولﷺ کے حضور پیشی کا کوئی خوف نہیں بچا ہے!
کیا یہ لوگ عصمت رسولﷺ کی حفاظت کرنے والوں کی برسر عام مخالفت کرکے اپنی عاقبت سنوار رہے ہیں!
""آخر کیا وجہ ہیکہ"'مسجد و مدرسہ کے لیے تو سڑکوں پر نکلو، طلاق اور نکاح کے لیے شور مچاؤ، اپنے ماں باپ کو گالی ملے تو ناک بھوں چڑھاﺅ، سیمینارز اور سمپوزیم کرو لیکن ناموس رسالتﷺ کے لیے کچھ مت کرو، کچھ مت کہو صرف اس ڈر سے کہ اس کی تشہیر ہوجائے گی،
اگر ایسا ہی ہے تو سب سے پہلے مسجد اور مدرسے اور طلاق و نکاح کے لیے سڑکوں پر نکلنا بند کرنا چاہیے، ان کے لیے کانفرنسز اور جلوس کو ختم کرنا چاہیے، کیوں کہ ان شعائر پر یلغار بھی ایک ناحیے سے اسلام پر یلغار ہے، لیکن بالواسطہ
ماتم در ماتم ہے کہ بالواسطہ یلغار پر تو شور و غوغا اور بلا واسطہ ناموس پر یلغار کی جائے تو خاموشی اور حکمت کی تلقین!! یا اللّٰہ رحم بغرما! ۔
ماتم ہے ان کی عقلوں پر، واویلا ہے ان کی چاپلوسی پر، تف ہے ان کی خود نمائی پر جو ایک موافق رخ کے خلاف صرف اسلئے لکھنے کہنے لگتے ہیں تاکہ الگ پہچان بنے،
اور یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر گستاخ رسول کی تشہیر ہوئی ہے، عبرتناک تشہیر، اور ہر گستاخ کی عبرتناک تشہیر ہوتی رہے گی، یہ قومِ مسلم کی پہچان ہے!
""دارالعلوم دیوبند کے طلباء کا احتجاج"" عین اسلام ہے، حکمت و مصلحت کی حقیقی ترجمانی ہے، انہوں نے محمد بن مسلمہ اور غازیان کی ریت باقی رکھی، اور ان کی جانشینی کا حق ادا کیا ہے، ایمانی غیرت و ناموس کی نشانی ہے، ان کے طریقہ کار سے اختلاف کرنے والوں کو تو کچھ نہیں کہتا، لیکن انہیں بلاوجہ کی نصیحتیں کرنے والے اور ان کے اقدام پر نکتہ چینی کرنے والوں کو احمق، بدترین مصلحت پرست سمجھتا ہوں،
""اور امت سے اپیل کرتا ہوں کہ"" آئینی و دستوری روشنی میں جگہ جگہ آواز بلند کریں، اور اب طارق فتح کو ملک بدر نہیں بلکہ ملک میں دنگے کروانے کے جرم میں پھانسی پر چڑھانے کی مانگ کریں،
""تعلیمی ادارے امت کی روح اور ریڑھ ہیں اس کے جیالے بھی آگے آئیں ندوہ اور دیوبند، علی گڑھ اور ملیہ عثمانیہ اور مظاہر العلوم سب جگہ کے جیالے اپنے اپنے طور پر ناموس رسالتﷺ کے لیے مؤثر کوششیں کریں، اور ملی تنظیمیں چونکہ ملی تنظیمیں ہیں اسلیے وہ ہتک رسولﷺ کے خلاف بھارت بند کا اعلان کردیں،""کیونکہ اب یہی عین حکمت و مصلحت ہوگی، اس جذبے کو جس قدر دباؤگے یہ اسی قدر ابھرے گا۔کیونکہ
.
""جب ذات سلاسل بجتے تھے ہم اپنے لہو میں سجتے تھے""
""وہ ریت ابھی تک جاری ہے وہ رسم ابھی تک زندہ ہے""
@۔۔سمیع اللّٰہ خان
ksamikhann@gmail.com
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں