دینی تعلیم اور ہمارا منفی رویہ
ماضی قریب کے مصر کے ایک مشہور عالم اور محقق شیخ محمد غزالی رح اپنی کتاب.. تاءملات فی الدین والحیاة.. میں لکھتے ہیں :
مصر میں ایک نہایت ہی امیر اور مالدار شخص کا بیٹا ضعف بصر(نگاہ کی کمزوری اور روشنی کی کمی )کا شکار تھا -اس کا علاج شروع ہوا مگر ڈاکٹروں کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس کی آنکھ کی بینائی کم ہوتی چلی گئی -- وہ وقت بھی آیا کہ اس کی بینائی اتنی کمزور ہو گئ کہ وہ روشنی اور اندھیرے میں تمیزوفرق نہیں کرسکتا تھا --والدین کے دل پر جو گزرتی ہو گی اس کا اندازہ قارئین اچھی طرح کرسکتے ہیں --
اس بچہ کا والد ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا - آس پاس کافی لوگ جمع تھے - گفتگو کا رخ بچے کی بینائی کی طرف مڑ گیا - بچے کے باپ نے کہا میں نے اس بچے کو دین کے لئے وقف کر دیا ہے - اسے اب قرآن مجید حفظ کروائیں گے اور حفظ کے بعد عالم دین بنانے کے لئے اسے یونیورسٹی میں داخل کروائیں گے - لوگوں نے اس شخص کی خوب تعریف وتحسین کی کہ ان کو اسلام سے کتنی محبت ہے کہ اپنے بیٹے کو اسلام کے لئے وقف کر دیا ہے - بچے کے لئے ایک مشہور قاری وحافظ کا بندوبست اور انتظام کیا گیا جو صبح و شام بچے کو حفظ کرواتا اور قراءت سکھاتا - کچھ ہی مدت میں بچے نے کافی سورتیں حفظ کرلیں اور تلاوت میں تو اس کا کوئی ثانی نہ تھا -یعنی اس کے مقابلے میں کوئی نہ تھا -
ادھر اللہ تعالی کا کرنا ایسا ہوا کہ اس کی آنکھیں ٹیھک ہونا شروع ہو گیئں - ڈاکٹروں نے ایک مرتبہ پھر اس پر بھرپور توجہ دی، قدرت الہی بھی مہربان ہوگئی - چنانچہ بچے کی بینائی دھیرے دھیرے واپس آگئی اور اب وہ بالکل تندرست تھا اس کی آنکھیں ٹیھک کام کرنے لگیں، اس کو اب چشمہ کی ضرورت بھی نہ تھی - ادھر بچے کے باپ نے مختلف انداز سے سوچنا شروع کردیا - وہ سوچنے لگا کہ اس نے تو اپنے بیٹے کو جامع ازہر (مصر کی سب سے بڑی یونیورسٹی)کے لئے وقف کیا تھا کہ وہ بڑی حد تک نابینا تھا - دراصل اس نے دینی تعلیم دلانے کا اہتمام تو ضعف بصر یعنی نگاہ کی کمزوری کی وجہ سے کیا تھا -بالکل اللہ تعالی کے اس فرمان کے مطابق.. ویجعلون للہ مایکرھون.. (النحل آیت 62).. اللہ تعالی کے لئے اس چیز کی نسبت کردیتے ہیں جسے خود اپنے لئے ناپسند کرتےہیں -..
اب وہ مسلسل سوچتا رہا کہ اسے کیا کرنا چاہئے. اور پھر وہی ہوا جو دنیا دار لوگ کرتے ہیں -- اس نے اپنے بیٹے کو دینی تعلیم سے نکال کر انگلش میڈیم اسکول میں داخل کردیا -
شیخ محمد غزالی رح لکھتے ہیں کہ یہ ہے مسلمانوں کا اپنے دین کے ساتھ تعلق اور رابطہ - دین کو حاصل کرنے کے لئے لوگوں کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ جو خدا نخواستہ بہرے کانے اور نابینا بچے ہیں ان کو دینی مدارس میں داخل کردیا جائے اور جو نہایت قابل اور ذہین بچے ہیں ان کو اسکول کالجوں میں داخل کردیا جائے -حالانکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ذہین اور سمجھ دار بچے دین کے عالم بنیں اور اسلام کی روشنی کو پھیلائیں اور عام کریں --
(سنہرے اوراق از عبد الملک مجاہد)
محترم قارئین باتمکین!
آج اس منفی سوچ اور رویہ کو بدلنے کی ضرورت ہے، دینی تعلیم کی قدرومنزلت اور اہمیت وفضیلت کو سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہے، اور اس احساس کو جگانا ہے کہ دنیا میں سب سے بہتر انسان وہ ہےجو قرآن اور تعلیمات قرآن کو خود پڑھے اور دوسروں کو پڑھائے، دوسری ضروری چیز یہ ہے کہ اعلی، معززاور مالدار خاندانوں کے افراد اپنے بچوں کو دین کی تعلیم کے لئے وقف کریں - صدقات وخیرات اور زکوة کے بجائے ان کے اخراجات خود اٹھائیں دینی تعلیم کے اتالیق اور اساتذہ کو اعلی تنخواہ اور مشاہرہ دیں اور پھر مستقبل میں اس کا مثبت نتائج اور بہتر انجام دیکھیں --
محترم قارئین!
آج بھی بہت سے علاقے اور خطے ہندوستان میں ایسے ہیں جہاں دینی تعلیم کی قدر ومنزلت دنیاوی تعلیم سے زیادہ ہے لوگ اپنے بچوں کو پہلے دینی تعلیم سے آراستہ کرتے ہیں -- انہیں حافظ وعالم بناتے ہیں پھر انہیں عصری تعلیم دلاتے ہیں جسکا نتیجہ یہ ہے کہ وہاں دینی ماحول اور دینی فضا ہے -- خود راقم السطور کے علاقے میں دینی تعلیم کی ناقدری بلکل نہیں ہے آپ کو ایک ایک گھر میں کئی کئی حافظ اور عالم مل جائیں گے بلکہ بغض خاندان میں دس دس حافظ اور عالم مل جائیں گے -- تحدیث نعمت کے طور پر اس کا تذکرہ کرتا ہوں کے میرے گاوں (دگھی گڈا جہارکہنڈ) میں تقریبا حفاظ کی تعداد سو سے زیادہ ہے، دارالعلوم دیوبند، مظاہرالعلوم شاہی مرادآباد اور دارالعلوم ندوةالعلماء کے فارغین کی تعداد سینکڑوں میں ہے- خود راقم نے اس لائن کا اختیار اپنی مرضی سے کیا ہے ورنہ اگر میں چاہتا تو ندوہ سے فراغت کے بعد عصری تعلیم حاصل کرکے سرکاری ملازمت آسانی سے حاصل کرسکتا تھا -- اور آج بھی میرے لئے راستے کھلے ہیں -- لیکن خدا گواہ ہے کہ میں نے اس راستے کو اپنایا دین وملت کی خدمت کے لئے میرا یہ فیصلہ اضطراری نہیں بلکہ اختیاری تھا -- اور میں جانتا ہوں کہ اس میدان میں امتحان ہے آزمائش ہے دقتیں ہیں زحمتیں ہیں اور پریشانیاں ہیں لیکن ساتھ ساتھ سکون ہے عزت ہے اور صحیح جذبہ اور اخلاص ہو تو انشاءاللہ آخرت کی کامیابی بھی یقینی ہے -- اس لئے اس راہ میں قدم رکھنے والے کو اپنا حوصلہ بلند رکھنا چاہئے اور اس مصرع کو سامنے رکھنا چاہئے کہ
جس کو ہو جان و دل عزیز وہ اس گلی میں آئے کیوں
ترتیب و پیشکش محمد نوازاختر متعلم نورالاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ ی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں