طارق فتح کے فتوے کے خلاف مقدمہ دائر. شرانگیز پروگرام روکنے کا مطالبہ
ممبئی ،۹فروری :(پیغام میڈیا /ممبئی اردونیوز )اسلامی تعلیمات اورخلفائے راشدین کی توہین کرنے والے 'زی نیوز' پر طارق فتح کےپروگرام '' فتح کا فتویٰ '' کے خلاف علماءکرام نے محاذ سنبھال لیاہے۔
گذشتہ ایک مہینے سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والے اس شرانگیز پروگرام کے خلاف غریب نواز فاؤنڈیشن کے صدر مولانا انصاررضانے دہلی ہائی کورٹ میں ایک عرضداشت داخل کرتے ہوئے اس پروگرام کی تمام آئندہ قسطوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کیاہے ۔
انصاررضانے کہا کہ طارق فتح اپنے پروگرام میں یہ غلط فہمی پھیلارہاہے کہ مسلم حکمرانوں نے بڑے پیمانے پر ہندولڑکیوں کو اغواکرکے ان کی عصمت دری کی اور ان کاقتل کیا۔ان تمام باتوں سے ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلنے کاخطرہ پیداہوگیاہے ،مولاناانصاررضانے مزید کہا کہ زی نیوز کے ذریعے 'فتح کا فتوی'پروگرام شروع کرنے کامقصد اترپردیش کے الیکشن میں کوئی چھپاہوامقصد حاصل کرناہے ۔اس پروگرام سے ملک کے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے ۔وہیں مفتی منظور ضیائی نے ایک مکتوب صدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کو ایک ای میل ارسال کیا ہے جس میں یہ تحریر ہے کہ فتح کا فتوی نامی پروگرام سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا جارہا ہے اور یہ پاکستانی شہری کینڈا کی شہریت بھی حاصل کر چکا ہے طارق فتح اسلامی تعلیمات کو توڑ مروڑ کر پیش کر نے کے ساتھ اسلام سے متعلق غلط بیانی بھی اس پروگرام میں کرتا ہے جس سے فرقہ وارانہ تشدد اور مذہبی منافرت پھیلنے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اس کے علاوہ راشٹریہ علماءکونسل نے بھی الیکشن کمیشن کو خط لکھ کرشکایت کی ہے کہ 'فتح کا فتویٰ 'نامی پروگرام الیکشن کے وقت ملک میں منافرت پھیلانے اور سماج کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کرنے کا کام کررہاہے۔ جس سےہندومسلمانوں میں کشیدگی پھیلنے کا خدشہ ہے ۔مفتی منظور ضیائی کی جانب سےصدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کو لکھے گئے مکتوب لکھاگیاہے ہے کہ ملک میںایک بڑا مسئلہ ہے بڑھتی ہوئی فرقہ واریت جس سے ملک میں قائم صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب یعنی فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا ملی جلی ثقافت کو ختم کر نے کی سازش کی جارہی ہے فرقہ وارانہ طاقتیں نت نئے طریقوں کے ساتھ ملک میں نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہیں تاکہ ملک کا امن و چین اور بھائی چارہ ختم ہو جائے ۔اس مکتوب میں مزید تحریر ہے کہ فرقہ وارانہ طاقتیں نئے نئے مکھوٹو ںکے ساتھ سامنے آرہی ہیں ۔ ایک ٹی وی چینل اپنے پروگرام کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس کیوں پہنچا رہا ہے ؟ زی نیوز نامی ایک ٹی وی چینل پر' فتح کا فتویٰ' کے نام سے ایک پروگرام جاری ہے اور اس پروگرام کی میزبان طارق فتح نامی ایک غیر ملکی مصنف ہے ۔ اس پروگرام میں اسلام اور اسلام کی تواریخ کے بارے میں طارق فتح جم کر غلط بیانی کرتا ہے ۔ فتوی ایک مقدس لفظ ہے جسے صرف مفتیان کرام ( مقدس قرآن اور حدیث کا گہرائی سے مطالعہ کر نے اور سمجھنے والے اعلی سطحی اسلامی اسکالر ) کسی کے سوال پوچھنے پر دیتے ہیں ، طارق فتح اور زی نیوز چینل کی طرف سے غلط اور نفرت پھیلانے والی چیزوں کے لئے فتوی کا لفظ استعمال کر نا مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے ۔مکتوب کے آخر میںصدرپرنب مکھرجی سے درخواست کی گئی ہےکہ وہ اس چینل کے خلاف سخت کارروائی کر وانے کی ہدایت دیتے ہوئے اس پروگرام کی نشر یات بند کروائیں اور طارق فتح کا ویزا منسوخ کروا کر جلد سے جلد ہندوستان سے باہرکریں ۔ جس سےہندومسلمانوں میں کشیدگی پھیلنے کا خدشہ ہے ۔مفتی منظور ضیائی کی جانب سےصدر جمہوریہ ہند پرنب مکھرجی کو لکھے گئے مکتوب لکھاگیاہے ہے کہ ملک میںایک بڑا مسئلہ ہے بڑھتی ہوئی فرقہ واریت جس سے ملک میں قائم صدیوں پرانی گنگا جمنی تہذیب یعنی فرقہ وارانہ ہم آہنگی یا ملی جلی ثقافت کو ختم کر نے کی سازش کی جارہی ہے فرقہ وارانہ طاقتیں نت نئے طریقوں کے ساتھ ملک میں نفرت پھیلانے کا کام کر رہی ہیں تاکہ ملک کا امن و چین اور بھائی چارہ ختم ہو جائے ۔اس مکتوب میں مزید تحریر ہے کہ فرقہ وارانہ طاقتیں نئے نئے مکھوٹو ںکے ساتھ سامنے آرہی ہیں ۔ ایک ٹی وی چینل اپنے پروگرام کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس کیوں پہنچا رہا ہے ؟ زی نیوز نامی ایک ٹی وی چینل پر' فتح کا فتویٰ' کے نام سے ایک پروگرام جاری ہے اور اس پروگرام کی میزبان طارق فتح نامی ایک غیر ملکی مصنف ہے ۔ اس پروگرام میں اسلام اور اسلام کی تواریخ کے بارے میں طارق فتح جم کر غلط بیانی کرتا ہے ۔ فتوی ایک مقدس لفظ ہے جسے صرف مفتیان کرام ( مقدس قرآن اور حدیث کا گہرائی سے مطالعہ کر نے اور سمجھنے والے اعلی سطحی اسلامی اسکالر ) کسی کے سوال پوچھنے پر دیتے ہیں ، طارق فتح اور زی نیوز چینل کی طرف سے غلط اور نفرت پھیلانے والی چیزوں کے لئے فتوی کا لفظ استعمال کر نا مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے ۔مکتوب کے آخر میںصدرپرنب مکھرجی سے درخواست کی گئی ہےکہ وہ اس چینل کے خلاف سخت کارروائی کر وانے کی ہدایت دیتے ہوئے اس پروگرام کی نشر یات بند کروائیں اور طارق فتح کا ویزا منسوخ کروا کر جلد سے جلد ہندوستان سے باہرکریں ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں