ملی رہنماؤں کی بے توجہی سے دلبرداشتہ ہوکر نورصبا نے یہودی مذہب اختیار کرنے کا اعلان کیا
مسلسل یاد دہانی کے باوجود ملی رہنماؤں نے ان کے مسائل حل نہیں کئے ،ریاستی حکومت اور سماجی لیڈران بھی انصاف نہ دلانے کے جرم میں برابر کے شریک
.
2015 سے حق وانصاف کی جنگ لڑنے کیلئے جنتر منتر پر دھرنا دینے والی 74 سالہ معمر خاتون نورصبا نے ملی رہنماؤں ،سیاسی قائدین اور سماجی لیڈروں کو انصاف نہ ملنے کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ اب و ہ مذہب اسلام پر برقرار نہیں رہیں گی ،دہلی سے شائع ہونے والے روزنامہ خبریں کے مطابق اتر پردیش کے رامپور کی رہنے والی 74 سالہ معمرخاتون نورصبا نے حق وانصاف نہ ملنے سے دلبرداشتہ ہوکر تبدیلی مذہب اور بیرو ن ملک میں پناہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیاہے اس سلسلے میں انہوں نے تقریبا 43 ملکوں کے سربراہان کو اپنے ملک میں پناہ دینے کی درخواست لکھی ہے ،انہوں نے عیسائی یا یہودی مذہب اختیا رکرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور اس تعلق سے انہوں نے دہلی میں واقع اسرائیلی سفارت خانہ کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے ۔
نورصبا کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے شوہر رامپور سرکاری اسکول میں ٹیچرتھے ،شوہر کے انتقال کے بعد ریاستی حکومت نے پنشن ،بیمہ گریجویٹی اور دیگر حقوق ادا نہیں کئے ،معاملہ لیکر وہ سپریم کورٹ پہونچیں جہاں جوابدہی سے بچنے کیلئے ریاستی حکومت نے چیف سکریٹری پرشانت کمار،جاوید عثمانی اور انوپم مشرا کے ذریعہ سپریم کورٹ میں جعلی دستاویز داخل کی گئی جس پر چیف جسٹس سد اشیوم نے فیصلہ سنایاکہ نورصبا کو تمام واجبات کی ادائیگی 1989 میں ہی کی جاچکی ہیں۔
2015کے بعد مسلسل انصاف کیلئے دھرنے پر بیٹھی محترمہ نور صبا
اس فیصلہ کے بعد 2015 سے وہ دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل بیٹھی ہوئی ہیں ،اس دوران انہوں نے جمعیۃ علماء ہند ،جماعت اسلامی ہند اور دیگر اہم تنظیموں اور ان کے رہنماؤں سمیت مولانا احمد بخاری صاحب سے ملاقات کرکے ان سے مددکی اپیل کی لیکن ان کی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔سرکاری رہنماؤں نے بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی ،دلبرداشتہ نورصبا نے یہ اعلان کیا ہے کہ 8 مارچ کو وہ اپنے شوہر کو ملے ایوارڈ کو وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے آگ لگائیں گی ۔
بشکریہ ملت ٹائمز
2015 سے حق وانصاف کی جنگ لڑنے کیلئے جنتر منتر پر دھرنا دینے والی 74 سالہ معمر خاتون نورصبا نے ملی رہنماؤں ،سیاسی قائدین اور سماجی لیڈروں کو انصاف نہ ملنے کیلئے ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے یہ اعلان کیا ہے کہ اب و ہ مذہب اسلام پر برقرار نہیں رہیں گی ،دہلی سے شائع ہونے والے روزنامہ خبریں کے مطابق اتر پردیش کے رامپور کی رہنے والی 74 سالہ معمرخاتون نورصبا نے حق وانصاف نہ ملنے سے دلبرداشتہ ہوکر تبدیلی مذہب اور بیرو ن ملک میں پناہ حاصل کرنے کا فیصلہ کیاہے اس سلسلے میں انہوں نے تقریبا 43 ملکوں کے سربراہان کو اپنے ملک میں پناہ دینے کی درخواست لکھی ہے ،انہوں نے عیسائی یا یہودی مذہب اختیا رکرنے کی دھمکی بھی دی ہے اور اس تعلق سے انہوں نے دہلی میں واقع اسرائیلی سفارت خانہ کو ایک خط بھی ارسال کیا ہے ۔
نورصبا کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے شوہر رامپور سرکاری اسکول میں ٹیچرتھے ،شوہر کے انتقال کے بعد ریاستی حکومت نے پنشن ،بیمہ گریجویٹی اور دیگر حقوق ادا نہیں کئے ،معاملہ لیکر وہ سپریم کورٹ پہونچیں جہاں جوابدہی سے بچنے کیلئے ریاستی حکومت نے چیف سکریٹری پرشانت کمار،جاوید عثمانی اور انوپم مشرا کے ذریعہ سپریم کورٹ میں جعلی دستاویز داخل کی گئی جس پر چیف جسٹس سد اشیوم نے فیصلہ سنایاکہ نورصبا کو تمام واجبات کی ادائیگی 1989 میں ہی کی جاچکی ہیں۔
2015کے بعد مسلسل انصاف کیلئے دھرنے پر بیٹھی محترمہ نور صبا
اس فیصلہ کے بعد 2015 سے وہ دہلی کے جنتر منتر پر مسلسل بیٹھی ہوئی ہیں ،اس دوران انہوں نے جمعیۃ علماء ہند ،جماعت اسلامی ہند اور دیگر اہم تنظیموں اور ان کے رہنماؤں سمیت مولانا احمد بخاری صاحب سے ملاقات کرکے ان سے مددکی اپیل کی لیکن ان کی درخواست پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔سرکاری رہنماؤں نے بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی ،دلبرداشتہ نورصبا نے یہ اعلان کیا ہے کہ 8 مارچ کو وہ اپنے شوہر کو ملے ایوارڈ کو وزیر اعظم ہاؤس کے سامنے آگ لگائیں گی ۔
بشکریہ ملت ٹائمز
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں