عاشقان مصطفی نے ٹیوٹر پر تاریخ رقم دی
اور ٹویٹر پر تاریخ رقم ہوگئی۔
یاسر ندیم الواجدی
14 فروری شام 7 بجے ہم نے ایک ایسا پروگرام بنایا تھا جس کا نہ ہمیں تجربہ تھا اور نہی ہمارے احباب میں کسی کو۔ ہم نے ارادہ کیا کہ طارق فتح چونکہ ٹویٹر کی آڑ میں چھپا رہتا ہے اس لیے اس پر اسی گھر میں اسی کی زبان میں اور اسی کے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے احتجاج درج کرایا جائے۔ باوجودیکہ ہمارے ساتھ ایسے بہت سے افراد جڑے ہوے تھے جنھوں نے کبھی ٹویٹر استعمال نہیں کیا تھا (مگر ناموس رسالت پر وہ کسی سمجھوتے کے لیے تیار نہیں تھے) ہمارے غیور نوجوانوں نے ایک تاریخ رقم کردی۔ وہ فتح کے فتوی کے خلاف ٹرینڈ کو کامیاب کرتے ہوے اس کو نمبر 6 پر لے گئے جس سے میڈیا کی توجہ فورا اس جانب مبذول ہوئی اور اس موضوع پر گفتگو کا آغاز ہوگیا۔ گو کہ اس مہم میں ہر طبقے کے افراد شریک تھے مگر ابنائے مدارس نے اس مہم کی قیادت کر کے جہاں ایک تاریخ مرتب کی ہے وہیں مسلمانوں کو منظم اور مہذب احتجاج کا درس بھی دیا ہے۔ الحمدللہ ترانوے ہزار ٹویٹس کے ساتھ یہ ٹرینڈ رات کے دو بجے تک نمبر 6 پر رہا۔
مگر ابھی احتجاج ختم نہیں ہوا ہے۔ ابھی یہ ٹرینڈ ٹویٹر پر رجسٹرڈ ہے اس لیے ہم ٹھیک 9 بجے اپنی مہم کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔ دعا کریں کہ آج ہم اس کو ملک کا نمبر ایک ٹرینڈ بنادیں، تاکہ ملک میں سنجیدگی کے ساتھ اس بحث کا آغاز ہو کہ کیا طارق فتح جیسے گستاخ رسول اور غدار قوم ومذہب کو اس بات کی اجازت دی جاسکتی ہے کہ وہ ملک کی دوسری اکثریت کی دل آزاری کرتا رہے۔
گزشتہ رات ٹویٹ کرتے ہوے ہم سے کچھ تکنیکی غلطیاں بھی ہوئی ہیں اس لیے میں تمام حضرات سے درخواست کروں گا کہ میری ٹائم لائن پر جو تازہ ترین ویڈیو موجود ہے اس کو دیکھیں اور بقیہ افراد کی بھی اس مہم میں شریک ہونے کے لیے تشکیل کریں۔
یاد رکھیں یہ مسئلہ ناموس رسالت سے جڑا ہوا ہے یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ اس میں شرکت ہماری دینی بیداری اور اسلامی غیرت کا ثبوت ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں