تاریخ انسانی کا ایک اہم عجوبہ

اگر تاریخ انسانی کے عجائبات اور حیرت انگیز واقعات کو مرتب کیا جائے تو میری نظر میں تاریخ کے عجوبہ اور حیرت انگیز واقعات میں سے ایک یہ بھی ہوگا کہ غزوئہ بدر میں سترمشرکین اہل مکہ مسلمانوں کے ہاتھ گرفتار کئے گئے، اس وقت مسلمان سخت دشواری اور معاشی و اقتصادی مشکلات اور مسائل سے گزر رہے تھے، مسلمان ناں شبینہ کے محتاج تھے، ان کو مناسب اور معقول غذا تک میسر نہ تھی اور نہ ہی ضرورت کے بقدر لباس وپوشاک وغیرہ کا انتظام تھا، مدینہ منورہ میں مہاجرین کی ایک بڑی تعداد سیلاب کے مانند اپنے دین وایمان کی حفاظت کی غرض سے امڈ آئی تھی، ان سب کے لئے مناسب رہائش کا انتظام بھی ایک اہم مسئلہ تھا، خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں ان دنوں خاص طور پر کئی کئی دن چولہا جلنے کی نوبت نہیں آتی تھی، اکثر مسلمان فاقہ کا شکار تھے - یہ موقع تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مکہ سے فدیہ کے طور پرزیادہ سے زیادہ رقمیں اور درھم و دینار حاصل کرسکتے تھے --
لیکن تاریخ گواہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا نہیں کیا بلکہ ان اسیران بدر(بدر کے قیدیوں )کا فدیہ جس کے اندر فدیہ ادا کرنے کی صلاحیت نہیں تھی یہ طے کیا کہ وہ دس مسلمانوں کو پڑھنا لکھنا سکھادیں -
اس واقعہ سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ میں تعلیم کی کتنی اہمیت و وقعت تھی، اور اس سلسلے میں کتنی فکر تھی، ہجرت سے پہلے مکہ مکرمہ میں ہر طرح کی پریشانی اور دشواری کے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے.. دارارقم.. کو مرکز دعوت و علم بنایا اور اول دن سے ہی اپنے رفقاء اور صحابہ کی تعلیم وتربیت کی طرف متوجہ رہے، دار راقم کے محل وقوع کے بارے میں بتایا جاتاہے کے وہ پہاڑکے دامن اور ترائ میں اس طرح واقع تھا کہ اندر کے لوگ باہر والوں کی سرگرمیوں اور نقل و حرکت سے واقف رہتے تھے، لیکن باہر والوں کو اندر کی سرگرمیوں سے واقفیت نہیں ہوپاتی تھی، اور بھی کئی خصوصیات اور مرکزیت  اس مقام کو حاصل تھی جسکی تفصیلات مستقل ایک عنوان کے تحت.. دارارقم کی عصری معنویت.. کے نام سے آگے کے پیغام میں پیش کروں گا.دارارقم سے سینکڑوں طالبان نبوت مستفید ہوئے، مکہ سے ایمان والوں کا لٹا پٹا قافلہ جب کسم پرسی کی حالت میں خانماں برباد ہو کر مدینہ منورہ آیا تو اس میں سینکڑوں بے گھر تھے ان کے لئے مستقل رہنے کا کوئی نظم نہ تھا انصار صحابہ کے گھروں میں عارضی طور پر رہائش اختیار کئے ہوئے تھے -- آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خود بھی رہائش کا مسئلہ تھا آپ حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر میں مہمان تھے ایسے حالات میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے ایک عبادت گاہ یعنی مسجد کی بنیاد رکھی اور اس کو دینی مرکز کی حیثیت دی اور مسجد نبوی کی تعمیر فرمائ اور پہلی باضابطہ درسگاہ چبوترہ کی شکل میں قائم کی جسے.. صفہ .. کہا جاتا تھا --یہی مختصر سی جگہ جزیرہ عرب کے کونے کونے سے آنے والے مسلمانوں کی تعلیم وتربیت کا مرکز تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود اس کے منتظم نگران مربی سرپرست مہتمم استاد اور معلم تھے -
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمل اور اسوہ سے ہم مسلمانوں کو یہ سبق اور پیغام ملتا ہے کہ ہم مسلمان گھر بار اور دوسرے اسباب آسائش سے بڑھ کر اپنے بچوں کی تعلیم وتربیت پر سب سے زیادہ توجہ دیں - ہمیں بھوکا رہنا پڑے، ہماری کروٹیں فاقوں سے بے سکون ہوں اور اسباب راحت و آسائش کم سے کم میسر ہوں لیکن ہم اپنی اولاد کو تعلیم سے ضرور آراستہ کریں -
بدرکے قیدیوں کے اس فدیہ سے  یہ بات بھی بالکل واضح ہوگی کہ اسلام میں تعلیم کے سلسلے میں کسی تنگ ذہنی اور تعصب کا دخل نہیں ہے، علم کا حصول بہر حال ایک نعمت ہے چاہے وہ غیر مسلموں سے حاصل ہو، بشرطیکہ ایمان وعقیدہ کے بگڑنےکا کوئ خطرہ نہ ہو - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا 'حکمت مومن کی گمشدہ دولت ہے جہاں کہیں ملے مومن بندہ اس کا زیادہ حق دار ہے -
آج ضرورت ہے کہ قوم کے اصحاب حل وعقد اور ملت کے سربرآوردہ لوگ پوری ملت کے لئے اپنے اندر درداورکسک پیدا کریں، پوری قوم مسلم کو تعلیم یافتہ بنانے کی فکر کریں - ارباب مدارس تعلیمی اداروں کے ذمہ داران عمارتوں کی تعمیر سے زیادہ انسان کی تعمیر کی طرف متوجہ ہوں اور ایک ایک فرد کے ذہن ودماغ میں اس بات کو بٹھایئں کہ تعلیم ہی سے ہماری تقدیر وابستہ ہے، یہ ہمارے لئے شہ رگ ہے اور اس سے محرومی کے بعد کسی قوم کے لئے عزت وخودداری کے ساتھ زندہ رہنا نا ممکمن ہے - کاش ہمارے رہبران قوم وملت وقت کی نزاکت کو سمجھ لیں اور ہمارا خوابیدہ نصیب جگ جائے اور ملت کو وہی سربلندی پھر حاصل ہو جائے جو ہمارے اسلاف کو حاصل تھی -

محمد قمر الزماں ندوی
مدرسہ نور الاسلام کنڈہ پرتاپ گڑھ