حکومت کے بغیر مکمل شریعت پر عمل ممکن نہیں !!
ايک نہايت ہی اہم بات يہ ہے كہ شرعی حکومت کے بغير شريعت پر پورا عمل بھی نہيں ہوسکتا ، اسلام کے نظامِ عمل کا ايک مستقل حصہ ايسا ہے جو حکومت پر موقوف ہے - حکومت کے بغير قرآن مجيد کا ايک پورا حصہ ناقابل عمل ره جاتا ہے - خود اسلام كی حفاظت بھی قوت کے بغير ممکن نہيں ، مثال کے طور پر اسلام کا پورا نظام مالی و ديوانی و فوجداری معطل ہوجاتا ہے - اسی لیے قرآن غلبہ و عزت کے حصول پر زور ديتا ہے اور اسی لیے خلافت اسلامی بہت اہم اور مقدس چیز سمجهی گئی اور اس کو اكابر صحابہ رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ عليہ وسلم كی تجہيز و تکفین پر مقدم رکھا جسے بہت سے کوتاه نظر نہيں سمجھتے ، اور اسی كی حفاظت کے لیے حضرت حسين رضی اللہ عنہ نے اپنی قربانی پیش كی تاكہ اس کا مقصد ضائع نہ ہو اور وه نااہل ہاتھوں ميں جانے نہ پائے - "امر بالمعروف" اور " نہی عن المنکر " اسلام ميں جس قدر اہم فريضہ ہے وه اس سے ظاہر ہے كہ امت كی
بعثت کا مقصد يہی بتايا گيا ہے :
" كنتم خير امة اخرجت للناس تامرون بالمعروف و تنهون عن المنکر ( سورة آل عمران ۱۱۰)
تم بہترين قوم ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر كی گئی ہے ، تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو -
اور قيامت تک کے لیے مسلمانوں کا يہی فرض قرار دیا گيا ہے :
" ولتكن منكم امة يدعون الی الخير و يامرون بالمعروف و ينهون عن المنکر ( سورة آل عمران ۱۰۳ )
" تم ميں ايک ايسی جماعت رہنی چائيے جو بھلائی كی طرف دعوت دیتی رہے ، نیکی کا حکم کرتی رہے ، اور برائی سے روکتی رہے " -
ليكن يہ ياد رہے كہ اس کے لیے أمر ( حکم) اور نهی ( ممانعت ) کے الفاظ استعمال کیے گئے ہيں ، اہل علم جانتے ہيں كہ امر و نہی کے لفظ اقتدار اور تحكم كی شان ہے ، يہ نہيں فرمايا كہ وه بھلائی اختیار کرنے کے لیے درخواست کریں گے ، پس امر و نہی کے لئے سیاسی اقتدار اور مادی قوت كی ضرورت ہے اور امت کا فریضہ ہے كہ وه اس کا انتظام کرے -
حضرت مولانا سيد ابو الحسن علی ندوی رحمتہ اللہ عليہ
سيرت سيد احمد شہيد (جلد اول )
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں