تاریخ مدارس دینیہ

آجکل علوم دینیہ اور مدارس دینیہ کی طرف سے مسلمانوں میں عام طور پرجو بے اعتنائی اور بے توجہی پائی جارہی ہے وہ تو قابل شکایت ہے ہی، مگر زیادہ تر افسوس اس کا ہے کہ اب بعض ایسے حضرات بھی دینی مدارس کو عموماً بے کار اور عضوِ معطل کی طرح ہی سمجھنے لگے ہیں، جن کا ذہن دینی اور تبلیغی ہے اور ان کے اکابر واسلاف نے ہمیشہ ان مدارس دینیہ کی سرپرستی فرمائی اور گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔
اس مضمون کے پڑھنے کے بعد عہد نبوت اور زمانہ خلافت راشدہ سے لے کر ایسٹ انڈیا کمپنی کے ہندوستان پر قبضہ کر لینے تک عام مسلمانوں اور سلاطین اور امراء اسلام کے علوم دینیہ اور مدارس دینیہ کے ساتھ تعلق اور شغف کے حالات اور چیدہ چیدہ واقعات معلوم ہوکر ان حضرات کی غلط فہمی دور ہوگی۔
امید ہے کہ مدارس دینیہ کی طرف رغبت وشوق اور علوم دینیہ کے بقاء وتحفظ کی ضرورت واہمیت کا احساس پیدا ہوگا۔
قارئین کو اس مضمون کے مطالعہ سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ قدیم زمانہ میں دینی مدارس کی ضرورت کے پورا کرنے کے لئے بڑی بڑی زمینیں وقف ہوتی تھیں اور امراء اسلام اس نیک مقصد کے لئے اپنی املاک کو وقف کرنا بڑی سعادت سمجھتے تھے، اسی لئے زمانہ قدیم میں دینی مدارس کے لئے تحصیل چندہ کا موجودہ طریقہ رائج نہیں تھا۔
اور اس سے یہ سوال بھی حل ہوجائے گا کہ جب قدیم زمانہ سے دینی مدارس کی کفالت کا سامان بڑی بڑی جائیدادوں اور اوقاف کی آمدنیوں کی صورت میں موجود تھا تو پھر انگریزی حکومت کے دور میں مدارس دینیہ کے احیاء اور علوم دینیہ کے تحفظ وبقاء کے لئے تحصیل چندہ کا موجودہ طریقہ کیوں اختیار کیا گیا تھا، جس کو اس وقت عام طور پر سطحی نظر سے دیکھنے والے نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ حالانکہ ابتداء اسلام میں جس وقت تک سلاطین اور امراء کے ایسے اوقاف معرض وجود میں نہیں آئے تھے جن سے دینی ضروریات کو پورا کیا جاتا تھا تو علوم دینیہ اور تمام امور خیر کی انجام دہی مسلمانوں کے عمومی چندہ سے ہی ہوتی تھی، خود آنحضور سرور کائنات ا نے بعض امور خیر کے لئے اصحاب خیر کو چندہ کی رغبت دلائی ہے اور آج بھی قومی اور ملکی ضروریات کے لئے چندہ کرنے کو نہ صرف یہ کہ عیب نہیں سمجھا جاتا بلکہ اس کو بہت بڑی قومی اور ملکی خدمت سمجھا جاتا ہے۔
مگر افسوس کہ علوم دینیہ کے لئے تحصیل چندہ جس سے ”ملت اسلام،،کی حفاظت ہوتی ہے جو بنیاد ہے ”ملک اسلام،، کی حفاظت کی، شرفاء اسلام اور معززین قوم کی نگاہ میں خار ہے۔
چندہ کا رائج الوقت طریقہ تو شرفاء اسلام کی نگاہ میں قابل ترک ہے مگر وہ اس پر غور نہیں فرماتے کہ اگر یہ طریقہ اس وقت اختیار نہ کیا جاتا یا،اور اب اس کو ترک کردیا جائے تو دین اور علوم دینیہ کی حفاظت کی اس وقت اور کیا صورت تھی یا اب کیا صورت ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ طریقہ اختیار کرکے علمائے کرام نے ملت اسلام کو مٹنے سے بچالیا۔کیا یہی وہ گناہ عظیم ہے جس کی پاداش میں علوم دینیہ کے حاملین اور ملت اسلامیہ کے ان محافظین کو قوم کی نگاہ میں عضو معطل کی طرح سمجھا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ یہ گروہ اور دینی مدارس قوم پر بلاوجہ کا ایک بوجھ ہے اور ان پر قوم کا روپیہ خرچ کرنا اپنے سرمایہ کو ضائع کرنا ہے، فالی اللہ المشتکی۔
بہرحال اس مضمون سے معلوم ہوگا کہ کن ضرورتوں اور مجبور کن حالات میں علماء کرام نے چندہ کے اس مروجہ طریقہ کو اختیار اور برداشت کر کے علوم دینیہ کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا تھا اور اب بھی اس فرض کی انجام دہی میں مشغول ہیں۔ یہ بات بھی اہل نظر کے لئے قابل غور ہے کہ کیا اب وہ اسباب اور حالات باقی نہیں رہے جن کی وجہ سے چندہ کا یہ مروجہ طریقہ اختیار کیا گیا تھا؟ اللہ تعالیٰ احقر کی دینی مدارس کی اس ناچیز خدمت کو قبول فرماکر نافع اور مفید فرماویں، آمین۔
قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم: ”انما بعثت معلماً،،۔
ترجمہ:…”میں تو صرف معلم واستاذ کی حیثیت سے آیا ہوں،،۔
نبی کریم اکے ارشاد بالا سے معلوم ہوا کہ آنحضور ا کی بعثت اور دنیا میں تشریف آوری کا مقصد ہی انسانی دل ودماغ میں ایسی دینی تعلیم کی روشنی کا پیدا کرنا ہے جس کے ذریعہ سے انسان دنیا میں اپنے مالک حقیقی خداوند عالم کی مرضی کے موافق زندگی بسر کر سکے اور وہ تعلیم انفرادی، اجتماعی، دنیاوی واخروی تمام حالات میں اس کی راہنمائی اور ہدایت کر سکے، اسلامی تعلیم کی اس ہمہ گیر جامعیت کے پیش نظر فطری اور طبعی طور پر اسلام میں تعلیم وتعلم سیکھنے اور سکھلانے کو جتنی اہمیت حاصل ہے اتنی کسی مذہب میں نہیں ہے ۔اس اہمیت کا اندازہ لگانے کے لئے اسلام کے ابتدائی دور سے لے کر حکومت اسلامیہ کے ترقی اور عروج کے زمانہ تک کے عام مسلمانوں کی اسلامی تعلیم کے ساتھ دلچسپی اور وابستگی کے چیدہ چیدہ مختصر حالات اور امراء اور حکام اسلام کی علوم دینیہ کے اندر سعی اور کوشش کے چند واقعات پر ایک نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
عہد رسالت اور مکی زندگی
رسول اللہ ا کی نبوت کے بعد کی بارہ سالہ مکی زندگی میں صحابہ کرام اور مددگارانِ سول ا پر اگرچہ رات دن حوادث وافکار کا ہجوم رہتا تھا، لیکن اس آزمائشی دور میں بھی جس قدر پُر سکون لمحے مسلمانوں کو مل جاتے تھے ان میں بھی وہ قرآن پاک کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کرلیا کرتے تھے، اس دور کے ایسے تمام مقامات کو جن میں مسلمانوں نے (خواہ تھوڑے عرصے کے لئے ہو) بیٹھ کر پڑھنے پڑھانے کا خصوصی انتظام کیا تھا، ہم ان کو ”دینی مدرسہ،، سے موسوم کرتے ہیں۔
مدرسہ صحن ابی بکر رضی اللہ عنہ
سب سے پہلے جس مقام کو ہم اس دور میں تعلیم کا مرکز اور مدرسہ کہہ سکتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق کا وہ چبوترہ ہے جو آپ کے گھر کے سامنے تھا جس پر آپ نماز اور قرآن پڑھا کرتے تھے اور کفار کے لڑکے اور عورتیں آپ کے گرد جمع ہوجاتے اور قرآن کو سنتے تھے،یہ بات کفار مکہ کو ناگوار ہوئی اور انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق کو اس جگہ کے چھوڑنے پر مجبور کیا ۔ (بخاری،کتاب بدء الخلق)
مدرسہ دار ارقم
مکی زندگی میں ایسی خاص مرکزی جگہ جس میں مسلمان تعلیم کے لئے بلاروک ٹوک آتے جاتے ہوں اور اس میں طلبہ کے لئے خورد ونوش کھانے پینے اور قیام کا بھی انتظام ہو، اس پریشانی اور بے سروسامانی کے دور میں بظاہر اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا مگر حیرت کی کوئی انتہاء نہیں رہتی،جب ہم ارباب تاریخ وسیر کی دار ارقم کے متعلق بتلائی ہوئی تفصیلات کو دیکھتے اور پڑھتے ہیں۔ یہ مقام کوہ صفا کے دامن میں تھا، جس میں رسول اللہ ا تقریباً چالیس صحابہ کرام کے ساتھ قیام پذیر تھے، جن میں مرد اور عورتیں سب ہی شامل تھے، اس گھر کے زمانہ قیام میں حضرت عمر بن الخطاب نے اسلام کو قبول کیا تھا۔ اس مکان میں حضور ا مع صحابہ کرام قیام پذیر تھے اور باقاعدہ تعلیم وتعلم میں مشغول رہے۔ حضرت ابوبکر، حضرت حمزہ، حضرت علی وغیرہم جیسے جلیل القدر صحابہ کرام اس مکان میں رہتے تھے اور رسول اللہ ا سے ان کا تعلیمی مشغلہ جاری تھا، اس مدرسہ دار ارقم کے نظام پر حضرت عمر کے بیان سے بھی روشنی پڑتی ہے ۔ان کے فرمان کا ترجمہ حسب ذیل ہے:
”مسلمان ہونے والوں کو ایک ایک دو دو کرکے رسول اللہ ا کسی صاحب حیثیت کے پاس بھیج دیتے تھے اور یہ لوگ اس کے پاس رہ کر کھا نا کھاتے تھے، چنانچہ میرے بہنوئی کے گھر بھی دو آدمی موجود تھے، ان میں سے ایک خباب بن ارت تھے۔ خباب میرے بہنوئی اور بہن کے پاس جاجا کر قرآن کریم تعلیم دیا کرتے تھے،، یہ مدرسہ دار ارقم حضرت عثمان بن ارقع کے مکان میں قائم تھا، یہ مکان اس زمانہ میں دار ارقم کی بجائے اسلام کا مرکز تعلیمی مقام ہونے کی وجہ سے دار الاسلام کے نام سے مشہور ہو گیا تھا،،۔ (سیرت حلبیہ)
اسلام کے ابتدائی دورکے اس مختصر مدرسہ کا نظام ناظرین کرام کے سامنے ہے کہ:
۱…طلبہ کی تعداد چالیس کے لگ بھگ تھی۔
۲…یہی جگہ پڑھنے کی بھی تھی اور رہائش کی بھی۔
۳…طعام کا انتظام یہ تھا کہ طلبہ مالدار صحابہ کے گھروں پر بطور وظیفہ کے کھانا کھایا کرتے تھے۔
اس دور ابتلاء اور آزمائش کے زمانہ میں تعلیم کے اس قدر انتظام اور اہتمام سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اسلام میں تعلیمی مراکز اور مدارس دینیہ کے قیام کی کتنی ضرورت اور اہمیت ہے۔
مدرسہ شعب ابی طالب ومدرسہ بیت فاطمہ
اس کے علاوہ مکہ معظمہ میں ہجرت سے قبل حضرت عمر کے بہنوئی اور بہن کے مکان پر بھی حضرت خباب کے قرآن پڑھانے کا ذکر اوپر آچکا ہے، نیز ”مدرسہ بیت فاطمہ،، اور مدرسہ شعب ابی طالب،، (جس میں رسول اللہ انے مع اپنے ساتھیوں کے ۷/نبوی سے لے کر ۱۰/ نبوی تک قریش مکہ کے ظالمانہ مقاطعہ کی وجہ سے تین سال کا زمانہ اسارت گذرا ہے) وغیرہا میں بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رہا،اس کے نتیجہ میں فضلاء مکہ کی ایک جماعت تیار ہوگئی اور دوسرے مقامات پر بھی وہ تعلیمی کام کرنے لگی۔
مدرسہ حبشہ
جب کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر بعض صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کرنی پڑی تو انہوں نے وہاں پر بھی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا، اس کو مدرسہ ارض حبشہ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔
مدنی زندگی
اور حضرت رسول اللہ انے اپنی ہجرت سے بھی پہلے تعلیم دینے کے لئے حضرت مصعب بن عمیر کو مدینہ منورہ روانہ فرمایا، انہوں نے سعد بن ضرارہ کے مکان پر تعلیم قرآن کا باقاعدہ سلسلہ جاری فرمایا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ معدودے چند کے علاوہ تقریباً تمام انصار مدینہ مسلمان ہوگئے اور اپنے بت توڑ دیئے اور جب مصعب مدینہ سے لوٹ کر رسول اللہ ا کے پاس آئے تو ان کا خطاب مقری یعنی معلم پڑ چکا تھا۔ (جمع الفوائد)
صحابہ میں سب سے پہلے مقری استاد کا لقب حضرت مصعب کے نصیب میں تھا، جس سے وہ معزز ہوئے اور انصار مدینہ کی مسجد بنی زریق میں حضرت رافع بن مالک اور مسجد بنی بیاضہ میں حضرت سعد بن ضرارہ پڑھایا کرتے تھے اور دار سعد بن خیثمہ نیز بنو نجار، بنو عبد الاشہل، بنو ظفر اور بنو عمرو بن عوف وغیرہم کے محلوں میں حضور اکی ہجرت سے پہلے ہی تعلیمی مراکز اور مدارس قائم ہوچکے تھے۔
مدرسہ قبا
اور مدرسہ قبا کا تو ایک مستقل نظام تھا جو حضرت ا کی ہجرت سے بھی پہلے ہی قائم ہوچکا تھا، کیونکہ رسول اللہ اکی مدینہ منورہ میں تشریف آوری سے پہلے ہی صحابہ کرام کی ہجرت کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا اور مہاجرین عموماً قبا ہی میں قیام پذیر ہوتے تھے۔
مدرسہ صفہ
رسول اللہ ا کے مدینہ منورہ تشریف لانے کے بعد مسجد نبوی کی بنا رکھی اور حجرہ شریف کی پشت پر جانب شمال باب جبریل علیہ السلام اور باب النساء کے درمیان وسیع چبوترہ ”دکة الاغوات،، کے نام سے موسوم تھا، اس پر جو حضرات فروکش ہوتے تھے وہ ”اصحاب صفہ،، کہلاتے تھے اور یہی چبوترہ کبھی ”اصحاب صفہ،، کا ”صفہ،، تھا یہاں پر طلبہ کا ہجوم رہتا، بعض اوقات سینکڑوں کی تعداد ہوجاتی تمام اصحاب صفہ کی مجموعی تعداد چار سو تک پہنچتی ہے مختلف اوقات میں اس صفہ کے طالب علموں کی تعداد ستر، اسی تک پہنچ جاتی تھی، حضرت معاذ بن جبل کو یہ کام سپرد تھا کہ جو امداد اصحاب ثروت کی طرف سے ان طلبہ کے لئے آوے اس کی حفاظت کریں اور بحصہ مساوی اس کو ان پر تقسیم کردیں۔ حضرت ابوہریرہ کے ذمہ طعام کا انتظام ہوتا تھا کھانے کے سلسلہ میں ایسا بھی ہوتا تھا کہ کھجوروں کے گچھے مالدار صحابہ بھیج دیا کرتے تھے اور بعض مالدار صحابہ ان طلبہ کو اپنے ساتھ لے جاتے اور انہیں کھانا کھلادیتے۔ ان میں حضرت سعد بن عبادہ نہایت فیاضی سے کام لیتے تھے، حتی کہ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا کہ اسی، اسی طلباء کو اپنے ہمراہ گھر لے جاکر ان کو کھانا کھلاتے۔ (زرقانی)
جامعہ صفہ کے فاضلین قراء کہلاتے تھے، یہیں کے طلباء نے دنیا میں اسلام کے علوم کو پھیلا یا اور وہی حضرات باہر تعلیمی خدمات کے لئے بھیجے جاتے تھے، عہد رسالت میں جامعہ صفہ کے علاوہ مدینہ منورہ کے اندر دوسرے مدارس کا ذکر بھی علامہ سمہودی نے کیا ہے، بعض کا ذکر اوپراجمالی طور پر ہو بھی چکا ہے۔
عہد خلافت راشدہ
عہد رسالت کے بعد خصوصیت سے حضرت عمر نے اپنے عہد خلافت میں حجاز اور ہر اسلامی آبادی میں قرآن مجید کی تعلیم کے لئے مستقل حلقے اور مکاتب قائم فرمائے، حضرت ابو الدرداء کو دمشق شام کی جامع مسجد میں قرآن پاک کی تعلیم کے لئے مقرر فرمایا۔ ایک مرتبہ طلبہ کا شمار کرایا گیا تو معلوم ہوا کہ سولہ سو(۱۶۰۰) طالب علم ان کے حلقہ درس میں شریک ہیں۔(طبقات القراء للذہبی ص:۶۰۶)
قرآن مجید کے ساتھ حضرت عمر نے درس حدیث کے حلقے بھی قائم فرمائے، اس کام کے لئے حضرت عبد اللہ بن مسعود کو ایک گروہ کے ساتھ کوفہ اورحضرت معقل بن یسار، حضرت عبد اللہ بن معقل اور حضرت عمران بن حصین کو بصرہ اورحضرت عبادہ بن صامت اورحضرت ابودرداء کو شام میں مقرر فرمایا اور لوگوں کو تاکید کی کہ ان سے حدیث کی تحصیل کریں۔(ازالة الخفاء)
علامہ ابن جوزی نے سیرة العمرین میں لکھا ہے کہ حضرت عمر نے جو مکاتب قائم کئے تھے، ان میں معلمین کی تنخواہیں مقرر تھیں اور ہر معلم کو پندرہ پندرہ درہم بیت المال سے ملتے تھے۔ حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں ان مدارس کو اور زیادہ وسعت حاصل ہوئی اور تمام ممالک مفتوحہ میں جابجا مکاتب اور مدارس قائم ہوگئے۔
عہد خلفاء وامراء اسلام
عہد رسالت اور خلافت راشدہ کے بعد اسلامی آبادی اور فتوحات میں اضافہ ہونے کے ساتھ تعلیمی مکاتب میں بھی ترقی ہوتی گئی، یہاں تک کہ خلفاء اور امراء اور ارباب ثروت نے اپنے اپنے گھروں پر بھی تعلیمی انتظام کیا اور کوئی قابل ذکر اسلامی آبادی ایسی نہیں ملتی جس میں درس وتدریس کا انتظام نہ ہو۔ تعلیم مفت ہوتی تھی، غریب طلبہ کے کھانے کپڑے اور لکھنے ،پڑھنے کی ضروریات بغیر کسی معاوضہ کے پوری کی جاتی تھیں۔
عہد قدیم کے علمی حلقوں کی اب صرف دو یادگاریں باقی ہیں: پہلی ٹیونس کی جامع زیتون ہے جو تیسری صدی ہجری میں قائم ہوئی تھی، یہ درس گاہ اس زمانہ کے عام طرز کے مطابق ٹیونس کی جامع اعظم میں قائم ہے اور شروع سے اب تک خاص عظمت وشہادت کی مالک ہے۔
دوسری یادگار مصر کا جامع ازہر ہے، یہ عظیم الشان جامع مسجد فاطمی سلاطین مصر کے زمانہ کی یادگار ہے ، جامع ازہر کی تکمیل ۳۶۱ھ میں ہوئی ہے، مگر اس کی علمی زندگی کی ابتداء چوتھی صدی اواخر سے ہوئی ہے، مسجد کا وسیع صحن اور اندرونی حصہ قدیم طرز کے علمی حلقوں کی درگاہوں کے طور پر کام آتا ہے، جامع ازہر اسلامی دنیا کی سب سے بڑی اور قدیم یونیورسٹی ہے جو ایک ہزار سال سے جاری ہے اور آج جبکہ تقریباً تمام قدیمی مدارس صفحہ ہستی سے محو ہوچکے ہیں، یہ یونیورسٹی اپنی اسی قدیم شان وشوکت کے ساتھ باقی ہے، دس، پندرہ ہزار طلباء اس کے اندر تعلیم حاصل کرنے والے اور سینکڑوں اساتذہ اس میں تعلیم دینے کے لئے موجود رہتے ہیں۔
جامع ازہر کے مصارف واخراجات کے لئے مصر کے مختلف سلاطین نے جو جاگیریں وقف کی ہیں، ان کی سالانہ آمدنی لاکھوں پونڈ ہے۔ ابھی قریبی زمانہ میں دوسری جنگ سے کچھ پہلے کی بات ہے کہ مصر کے سابق شاہ فاروق نے اپنی جیب خاص سے ساٹھ ہزار مصری پونڈ جامع ازہر کو عطا کئے تھے، حکومت کی سرپرستی اور اوقاف کی آمدنی کی بدولت آج بھی یہ جامع ازہر اپنے اقتدار اور عظمت کے لحاظ سے اس درجہ اونچا اور بلند ہے کہ شیخ الازہرکے منصب کو مصر کی وزارت عظمیٰ سے بڑھ کر سمجھا جاتا ہے۔علامہ مقریزی نے لکھا ہے کہ:
”مدرسے کے بانی اول اہل نیشاپور ہیں، جہاں سب سے پہلے مدرسہ بیہقیہ کی بنیاد ڈالی گئی(ج:۲،ص:۳۶۲) اور تاریخ فرشتہ میں ہے کہ ”۴۱۰ھ میں سلطان محمود غزنوینے اپنے پایہ تخت غزنی میں ایک جامع مسجد عروس الفلک کے نام سے تعمیر کروائی اور اس کے ساتھ ایک عظیم الشان مدرسہ بھی تعمیر کرایا تھا، مدرسہ کے ساتھ کتب خانہ بھی تھا جو نادر الوجود کتب سے معمور تھا، مسجد ومدرسہ کے اخراجات کے لئے سلطان نے بہت سے دیہات کی آمدنی وقف کردی تھی،،۔
سلطان محمود کی اس مثال سے تھوڑے ہی دنوں میں غزنی کے اطراف وجوانب میں بے شمار مدرسے قائم ہوگئے اور سلطان کے فرزند سلطان مسعود نے تو اپنے عہد سلطنت میں اس کثرت سے مدرسے قائم کئے کہ تاریخ فرشتہ کے بیان کے مطابق زبان ان کا شمار کرنے سے عاجز وقاصر ہے۔ اسی زمانہ میں ابن خلکان کی روایت کے مطابق علامہ ابواسحاق اسفرائنی (المتوفی ۴۱۸ھ) کے لئے نیشاپور میں ایک مدرسہ قائم ہوا۔
ان مدارس کے قیام کے کچھ عرصہ کے بعد دولت سلجوقیہ کے مشہور علم دوست وزیر نظام الملک طوسی (المتوفی ۴۸۵ھ) نے نیشاپور اور بغداد میں دو دار العلوم قائم کئے جن کو تاریخ کے اوراق میں نظامیہ کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ اس دار العلوم کے لئے جو بغداد ۴۵۹ھ میں قائم ہوا تھا چھ لاکھ دینار (تیس لاکھ روپے) کی گرانقدر رقم تو شاہی خزانہ سے مقرر تھی اور نظام الملک نے خود اپنی جاگیر کا دسواں حصہ اس کے لئے وقف کردیا تھا، طلباء کے لئے وظائف کا انتظام کیا گیا اور اساتذہ کے لئے بیش قرار مشاہرے مقرر کئے گئے۔
نظام الملک نے نہ صرف نیشاپور اور بغداد ہی میں دارالعلوم قائم کئے بلکہ اس نے حکم دے دیاکہ تمام ملک کے اندر جس جگہ بھی کوئی ممتاز عالم موجود ہو، وہاں اس کے لئے ایک مدرسہ اور مدرسہ کے ساتھ ایک کتب خانہ قائم کردیا جاوے، چنانچہ اس کے زمانہ میں ہزاروں مدارس اور کتب خانے قائم ہوئے، اس سے قبل سلطان محمود غزنویاور اس کے بیٹے سلطان مسعود غزنوی نے اپنے اپنے عہد میں بکثرت مدرسے قائم کئے تھے، نظامیہ کے قیام سے قبل بھی اسی نیشاپور میں سعدیہ اور بیہقیہ کے نام سے دو بڑے دار العلوم موجود تھے، سعدیہ سلطان محمود غزنوی کے بھائی امیر نصرنے قائم کیا تھا، امام الحرمین(امام غزالی کے استاد) نے بیہقیہ میں تعلیم پائی تھی، جب نظامیہ قائم ہوا تو امام الحرمین کو اس کا صدر بنادیا گیا۔
امام غزالی جیسے یکتائے زمانہ نظامیہ کے خوشہ چینوں میں ہیں، نظامیہ کے علاوہ بغداد میں تیس اور بڑے بڑے دارالعلوم قائم تھے، جن کے متعلق علامہ ابن جریر نے لکھا ہے کہ ”ہر مدرسہ بجائے خود ایک مستقل آبادی معلوم ہوتا ہے،،اور نظام الملک کے بعد خلیفہ مستنصر باللہ عباسی نے بغداد میں ۶۳۱ھ میں ایک دارالعلوم المصتنصریہ کے نام سے قائم کیا، طلباء کے قیام وطعام، کاغذ، قلم، دوات وغیرہ اشیاء بھی مدرسہ سے ملتی تھیں، اس کے علاوہ ایک ایک دینار (تقریباً پانچ روپے) ہرطالب علم کو ماہانہ وظیفہ ملتا تھا، خلیفہ مستنصر باللہ نے ان مصارف کے لئے جو وقف کیا تھا، اس کی آمدنی آجکل کے حساب سے تقریباً چار لاکھ روپیہ سالانہ تھی۔
ہندوستان
ہندوستان میں اسلامی حکومت کا مستقل قیام ساتویں صدی کے شروع میں قطب الدین ایبک (۶۰۲ھ/۶۰۶ھ) سے شروع ہوتا ہے، اس پر بمشکل ایک صدی گذری تھی کہ ہندوستان علوم وفنون کا گہوارہ بن چکا تھا۔
علامہ مقریزی نے کتاب الخطط میں سلطان محمد تغلق کے زمانہ کی دہلی کی نسبت لکھا ہے کہ:
”سلطان محمد تغلق کے عہد میں دہلی کے اندر ایک ہزار اسلامی مدارس قائم تھے، جن میں مدرسین کے لئے شاہی خزانہ سے تنخواہیں مقرر تھیں، تعلیم اس قدر عام تھی کہ کنیزیں تک حافظ قرآن اور عالم ہوتی تھیں،،۔
فیروزشاہ تغلق کے تعمیر کرائے مدرسہ فیروز شاہی کے متعلق ضیاء برنی نے لکھا ہے:
”مدرسہ کی عمارت نہایت وسیع ہے اور ایک بہت بڑے باغ کے اندر تالاب کے کنارہ پر واقع ہے، ہر وقت سینکڑوں طلبہ اور علماء وفضلاء یہاں موجود رہتے ہیں، باغ کے کنجوں میں سنگ مرمر کے فرش پر نہایت آزادی کے ساتھ علمی مشاغل میں منہمک نظر آتے ہیں،،۔
عالمگیر اورنگزیب کے عہد کے متعلق ایک مغربی سیاح نے اپنے سفرنامہ میں لکھا ہے:
”سندھ کے ایک مشہور شہر ٹھٹھہ میں مختلف علوم وفنون کے چار سو مدرسے قائم تھے،،۔
حضرت شاہ عبد العزیز صاحب دہلوی فرماتے ہیں کہ:
”نواب نجیب الدولہ کی سرکار سے نو سو علماء کو وظائف ملتے تھے،، (ملفوظات) روہیل کھنڈ جیسے غیر معروف خطہ میں پانچ ہزار علماء مختلف مدارس میں درس دیتے تھے اور حافظ رحمت اللہ علی خان کی ریاست سے تنخواہ پاتے تھے۔
مختصر یہ کہ ہرزمانہ میں مسلمانوں نے علم کی گرانقدر خدمات انجام دی ہیں اور سلاطین اور امراء بھی علمی فیاضی اور علماء وطلباء کی خدمت کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کو نجات اخروی کا ذریعہ سمجھتے تھے، سلاطین وامراء کی جانب سے علمأ وطلبأ کے لئے جائیدادیں وقف تھیں، ان کی آمدنی، ان کے خورد ونوش اور تعلیمی مصارف کے لئے کفیل تھی اور اس طرح ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم عام اور مفت ہوتی تھی اور علمأ اور طلبأ بھی اپنے اپنے متعلقین کے لئے کسب معاش سے مطمئن ہوکر فراغت وسکون خاطر کے ساتھ درس وتدریس میں مشغول رہتے تھے۔ نہ تو منتظمین مدارس کو چندوں کی اپیل کرنے کی ضرورت پیش آتی تھی، نہ ہی طلباء کودست نگر سمجھ کر طالب علمی کو عزت نفس کے خلاف سمجھا جاتا تھا۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کے آنے سے پہلے تک یہی نظام تعلیم جاری تھا، دہلی، آگرہ، لاہور، ملتان، جونپور، لکھنو، خیر آباد ،پٹنہ، اجمیر، سورت، دکن، مدراس، بنگال اور گجرات وغیرہ کے بہت سے مقامات علم وفن کے مرکز تھے، صرف ایک صوبہ بنگال کے متعلق انگریز مصنف کبیری ہارڈی نے بیکس مولر کے حوالہ سے یہ کیفیت بیان کی ہے۔
”انگریزی عملداری سے قبل بنگال میں اسی ہزار مدارس تھے، اس طرح ہر چار سو آدمیوں پر ایک مدرسہ کا اوسط نکلتا ہے۔ اسی صوبہ بنگال میں سلاطین وامراء نے مدارس کے لئے جو جائیداد یں وقف کی تھیں، ان اوقاف کا مجموعی رقبہ مسٹر جیمز گرانٹ کے بیان کے مطابق بنگال کے چوتھائی رقبہ سے کم نہ تھا، اوقاف کے علاوہ سلاطین وامراء نقد وظائف کے ذریعہ سے بھی اہل علم کی اعانت کرتے تھے، مدارس اور درسگاہوں کا ملک میں پھیلاہوا یہ عظیم الشان سلسلہ کیونکر ٹوٹا اور یہ مدارس ومکاتب کیونکر تباہ کئے گئے؟ اس سوال کے جواب کے لئے بارہویں صدی ہجری اور اٹھارہویں صدی عیسوی کی ہندوستانی سیاسی تاریخ کا جاننا ضروری ہے۔
ہندوستانی سیاسی تاریخ
ایسٹ انڈیا کمپنی جو ابتداء میں صرف تجارتی اغراض ومقاصد لے کر ہندوستان میں داخل ہوئی تھی۔ ۱۷۵۷ء میں پلاسی کی مشہور جنگ نے اس کو ایک نئی اور زبردست طاقت میں تبدیل کردیا۔ یہ نئی طاقت جس زمانہ میں ظہور پذیر ہوئی، اس وقت بدقسمتی سے ہندوستان کی مرکزی طاقت پارہ پارہ ہوچکی تھی اور ملک میں طوائف الملوکی کا دور دورہ تھا، ہندوستان کی اسی سیاسی کمزوری سے ایسٹ انڈیا کمپنی نے خاطر خواہ فائدہ اٹھایا اور وہ آہستہ آہستہ اپنی دسیسہ کاریوں اور ریشہ دوانیوں سے ملک پر قابض ہوتی چلی گئی، تاآنکہ انیسویں صدی عیسوی کے اوائل تک پنجاب کے علاوہ پورے ہندوستان پر اپنا تسلط قائم کرلیا۔ پرانے قانون اور قدیم نظام تعلیم وتہذیب کو منسوخ کردیا، جن قدیم مصارف کے لئے سلاطین وامراء نے طویل مدت سے بڑے بڑے اوقاف مقرر کئے تھے (جن کی کچھ تفصیل اوراق گذشتہ میں گذر چکی ہے) کمپنی کی حکومت نے ان تمام اوقاف کو ۱۸۳۸ء میں ضبط کرلیا، وظائف حکومت کی تبدیلی کے ساتھ ہی موقوف ہو چکے تھے، اس وقت تعلیم کا تمام تر دار ومدار ان ہی اوقاف پر تھا جو اس مقصد کے لئے مخصوص کئے گئے تھے، ڈبلیوڈبلیو ہنٹر نے جو بنگال میں ایک بڑے سول عہدے پر فائز تھا ۱۸۷۱ء میں ”ہمارے ہندوستانی مسلمان،، نامی کتاب لکھ کر اس سلسلہ کے تاریخی حقائق کو سرکاری کاغذات سے واشگاف کیا ہے، ہنٹر لکھتا ہے کہ:
”صوبہ بنگال پر جب ہم نے قبضہ کیا تو اس وقت کے قابل ترین افسر مال جیمز گرانٹ کا بیان ہے کہ اس وقت صوبہ کی آمدنی کا تخمیناً ایک چوتھائی حصہ جو معافیات کا تھا، حکومت کے ہاتھ میں نہیں تھا،،۔
۱۷۷۲ء وارن ہٹینگر نے اور ۱۷۹۲ء میں لارڈ کالونو اس نے ان معافیات کی واپسی کی مہم شروع کی مگر ناکامی رہی ،۱۸۱۵ء میں حکومت نے پھر اس معاملے کو زور سے اٹھایا مگر عمل کی جرأت نہ ہوسکی، آخر ۱۸۳۸ء میں آٹھ لاکھ (۸۰۰۰۰۰) پونڈ کے خرچ سے مقدمات چلا کر ان معافیات اوراوقاف پر حکومت نے قبضہ پالیا۔ صرف ان معافیات کی آمدنی سے حکومت کی آمدنی میں تین لاکھ پونڈ یعنی تقریباً ۴۵ لاکھ روپے کا اضافہ ہوگیا۔ اس کاروائی کا مسلمانوں کی علمی زندگی پر کیا اثر پڑا ،اس کی نسبت ہنٹر لکھتا ہے کہ:
”سینکڑوں پرانے خاندان تباہ ہوگئے اور مسلمانوں کا تعلیمی نظام جس کادار ومدار ان ہی معافیات پر تھا، تہ وبالاہوگیا، مسلمانوں کے تعلیمی ادارے ۱۸ سال کی مسلسل لوٹ کھسوٹ کے بعد یک قلم مٹ گئے،،۔
اندازہ کیجئے کہ جب ایک دور افتادہ صوبہ بنگال میں جس کوا س زمانہ کے لحاظ سے کوئی خاص تعلیمی فوقیت اور مرکزیت حاصل نہ تھی، تعلیمی اخراجات کے لئے پینتالیس لاکھ روپے سالانہ آمدنی کے اوقاف موجود تھے تو ہندوستان کے دوسرے صوبوں میں بالخصوص ان مقامات میں جن کو تعلیمی مرکزیت اور تفوق حاصل تھا، کس قدر اوقاف ہوں گے۔
اوقاف کی ضبطی نے مسلمانوں کے نظام تعلیم پر ایک ضرب کاری کا کام کیا، علمأ اور اساتذہ جواب تک ان ہی اوقاف کی آمدنی کی بدولت فکر معاش سے مطمئن اور بے فکر ہو کر درس وتدریس میں مصروف تھے، وہ منتشر اور پراگندہ ہوگئے، مدارس اور درس گاہوں پر سناٹا چھا گیا، چنانچہ برک اپنی اس یادداشت میں جوبرطانوی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی تھی، لکھتا ہے:
”ان مقامات میں جہاں علم کا چرچا تھا اور جہاں دور دور سے طالب علم پڑھنے کے لئے آتے تھے، آج وہاں علم کا بازار ٹھنڈا پڑ گیا،،۔
مگر ان حوادثات زمانہ اور گردش ایام کے باوجود بھی ہندوستان میں کچھ ایسے سخت جان علمأ موجود تھے جن کا علمی فیضان کسی مالی اعانت وامداد کا چنداں محتاج نہ تھا۔ دہلی میں حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب دہلوی رحمہ اللہ کا خاندان اور لکھنو میں ملا نظام الدین کا گھرانہ اور خیر آباد کا مشہور علمی خانوادہ سینکڑوں میں چند ممتاز مثالیں ہیں، ایسے حضرات ہرقسم کے حوادثات ومصائب کو برداشت کرکے اپنے کام میں مصروف اور علمی خدمت میں ہمہ تن لگے ہوئے تھے کہ ۱۸۵۷ء کی دار وگیر کا قیامت خیز ہنگامہ پیش آگیا۔ گنے چنے جو علماء باقی رہ گئے تھے، ان پر برطانوی گورنمنٹ نے بغاوت کا جرم عائد کردیا، ان میں سے بعض کو پھانسیاں دی گئی گئیں، بعض کالے پانی بھیج دیئے گئے اور کسی کو جلاوطن کردیا گیا، جو بچے ان میں سے اکثر ممالک اسلامیہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ حضرت شاہ عبد الغنی صاحب دہلوی جو اس وقت ولی اللّہی مسند علم کے جانشین تھے، مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرکے چلے گئے، ۱۸۳۸ء میں اوقاف کی ضبطی نے جو قدیم مدارس کو نقصان عظیم پہنچایا تھا، انیس سال کے بعد ۱۸۵۷ء کے حادثہ نے اس کی تکمیل کردی، اب رہا سہا تعلیمی نظام بھی درہم برہم ہوگیا۔
قدیم مدارس اور مذہبی تعلیم کے ذرائع آمدنی اور اس کے متعلقہ لاکھوں روپیوں کے ان اوقاف کے تباہ اور برباد کرنے کے علاوہ (جن پر مذہبی تعلیم کا دار ومدار تھا) کمپنی کی حکومت کے ۱۸۱۳ء کے ایک قانون کے ذریعہ یورپ کے پادریوں کو ہندوستان میں عیسائیت کی تبلیغ واشاعت کے لئے مشن اسکول کھولنے کا موقع ہاتھ آگیا، پادریوں کی سرگرمیاں جاری تھیں، مشن اسکول کھولے جارہے تھے جن میں حصول تعلیم کے لئے سہولتیں مہیا کی جارہی تھیں، کمپنی کے حکام پشت پناہ تھے اور ہرقسم کی امداد واعانت بہم پہنچاتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ملازمتوں کا لالچ تھا۔ دوسری طرف کمپنی کی اسکیم یہ تھی کہ ہندوستان کے بسنے والوں، بالخصوص مسلمانوں کو مفلس بناکر اور ملازمتوں کے حصول کی ترغیب دلاکر مشن اسکولوں میں تعلیم پانے پر مجبور کردیا جاوے، جو اس وقت عیسائیت کی تبلیغ کے لئے سب سے بڑے ذریعے سمجھے جاتے تھے، اس راہ کی سب سے بڑی رکاوٹیں مسلمانوں کے علوم اور ان کا دینی شعور اور مذہبی شغف تھا۔
اس لئے ۱۸۳۵ء کا تعلیمی نظام مرتب کیا گیا جس کی روح اور مقصد لارڈمیکالے (جو کہ ۱۸۳۵ء کی تعلیمی کمیٹی کے صدر تھے) کے نزدیک یہ ہے وہ لکھتا ہے:
”ہمیں ایک ایسی جماعت بنانی چاہئے جو ہمارے اور ہماری رعایا کے درمیان مترجم کا کام دے سکے اور ایسی جماعت ہونی چاہئے جو خون اوررنگ کے اعتبار سے تو ہندوستانی ہو مگر مذاق، رائے، الفاظ اور سمجھ کے اعتبار سے انگریز ہو،،۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کمپنی کی یہ سکیم اور اس کا یہ نظام تعلیم مسلمانوں کی مذہبی زندگی، قومی روایات اور علوم وفنون کے لئے سخت تباہ کن اور مہلک ترین حربہ تھا، اسی دوران میں ۱۸۵۷ء کا ہنگامہ پیش آگیا، جس کی بے پناہ تباہ کاریوں ، ہولناکیوں نے دلوں کو ہیبت زدہ، دماغوں کو ماؤف اور روحوں کو پژمردہ اور پوری قوم کو مفلوج کردیا، حالت یہ ہوگئی تھی کہ مسلمانوں کو ذرائع معاش سے یکسر محروم کردیا گیا تھا، تعلیم سے بے رغبتی اور مذہب سے بیگانگی میں روز افزوں ترقی اور اضافہ ہورہا تھا اور یہ وقت قریب تھا کہ علمأ کی وہ نسل جو سابقہ درسگاہوں کی تعلیم یافتہ اور مذہبی شعور واحساس اپنے اندر رکھتی تھی، رفتہ رفتہ ختم ہوجائے، ایسے حالات تھے جن کی وجہ سے ملک کے ارباب علم وفضل نے یہ محسوس کیا کہ سیاسی زوال وانحطاط اور حکومت سے محرومی کے ساتھ اب مستقبل میں مسلمانوں کا علم ، مذہب اور قومی زندگی بھی سخت خطرہ میں ہے، ان کی دور بین نگاہیں دیکھ رہی تھیں کہ فاتح قوم کے اثرات اور اس کے خصائص مفتوح قوم کے دل ودماغ اور علم وفکر پر اثر انداز ہوکر اس کے ملی شعائر، قومی خصائص اور فکر وعمل کی صلاحیتوں کو مٹا کر رکھ دیں گے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ اسلامی روایات اور اسلامی طور وطریقہ سے نفرت کرنے لگے گی اور اس کے لئے صرف فاتح قوم کی نقالی اور کورانہ تقلید واتباع ہی سرمایہ افتخار واعزاز بن کر رہ جائے گی۔ اس وقت مذہبی تعلیم کے سوا اور کوئی چیز فائدہ مند اور کارگر نہ تھی، جس سے اس خطرہ کا سد باب ہو سکے۔ ایک یہی ایسی چیز تھی جس کے ذریعہ سے مسلمان اپنے مذہبی شعائر اور قومی خصائص کا تحفظ کرسکتے تھے اور مغلوب ومحکوم ہونے کے باوجود وہ بحیثیت مسلمان قوم کے زندہ رہ سکتے تھے، اسی لئے اس وقت علماء کرام اور مذہبی رہنماؤں نے گرد وپیش کے غیر مساعد حالات اور زمانہ کے دنیوی تقاضوں سے بے نیاز ہوکر فاتح قوم کے ارادوں اور سکیموں کے علی الرغم مسلمانوں کو اسلامی علوم وفنون کی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دلائی، جس کے ذریعہ ان میں آئندہ مذہبی شعور کو برقرار رکھا جاسکتا تھا اور اس کے لئے قدیم مذہبی مدارس کی نشأة ثانیہ کو ضروری سمجھا گیا اور اس مقصد کے حصول کے لئے مدارس عربیہ قائم کئے گئے۔
مدارس عربیہ کی نشأة ثانیہ کا یہ کام ایسے ماحول اور دور میں شروع ہوا جبکہ قوم مسلم بحیثیت قوم مفلس ونادار اور حکومت متسلطہ کی دست نگر تھی اور وہ تمام اوقاف وغیرہ پہلے ہی ضبط کر لئے گئے تھے جن پر دینی تعلیم کی کفالت کا مدار تھا، اسی مفلسی اور ناداری سے متأثر ہوکر بعض ہمدردان قوم نے محض دنیوی خیر خواہی کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت متسلطہ کی زبان اور علوم وفنون کے پڑھنے کو ضروری سمجھا، تاکہ اس کے ذریعہ سے ملک میں منصب وعہدے بھی حاصل کئے جاسکیں اور اس سے معاشی ضروریات بھی پوری کی جاسکیں، اسی لئے انہوں نے اس مقصد کے لئے لارڈمیکالے کی تجویز کردہ تعلیمی سکیم کی ہمنوائی کرتے ہوئے ایسے سکولوں اور کالجوں کی طرف رخ کیا جن کی ڈگریوں اور سارٹیفیکیٹوں کے حصول پر ہی ملازمتوں اور عہدوں کے ملنے کا مدار تھا۔ مگر اس کس مپرسی، بے بسی اور بے سروسامانی کی حالت میں بعض اہل دل اللہ والوں کے قلوب میں مدارس دینیہ کے احیاء کا داعیہ پیدا ہوا اور ایک مرد حق آگاہ اور درویش کامل، عالم ربانی حجة الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی قدس سرہ نے ۱۸۶۷ء میں توکلاً علی اللہ دیوبند ضلع سہارنپور کی تاریخی مسجد چھتہ میں دارالعلوم کی بنیاد رکھ دی اور تعلیم وتبلیغ کا نبوی نظام پھر سے قائم کردیا۔
الحمد للہ !ایک مسجد میں شروع ہونے والا یہ دار العلوم بہت جلد دنیائے اسلام کی بہت بڑی دینی درسگاہ بن گئی اور دو ر دراز ممالک اور ہندوستان کے گوشہ گوشہ سے نہ صرف یہ کہ لوگ جوق درجوق علوم دینیہ اور فنون علمیہ کے حاصل کرنے کے لئے یہاں جمع ہونے لگے بلکہ ملک کے کونے کونے ، شہر شہر ، قریہ قریہ میں اس کی شاخیں قائم ہوگئیں اور شجرہ طوبی کی شاخوں کی طرح ہر طرف پھیل گئیں۔ اس دارالعلوم دیوبند کے فارغ التحصیل حضرات میں سے بہت سے حضرات آسمان علم پر مہر وماہ کی طرح چمکے، جیسے حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب، شیخ المحدثین حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوری، حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی رحمة واسعة وغیرہم۔
ان میں سے صرف حضرت تھانوی رحمہ اللہ کی دینی خدمات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ پرانے قصبہ تھانہ بھون کی پرانی مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھ کر اس زندہ دل درویش نے اصلاح امت کے لئے تعلیمی اور تبلیغی کتنا عظیم الشان کام کیا ہے۔ حضرت والا کی تقریباً نوسو (۹۰۰) تصنیفات وتالیفات، مواعظ اور ملفوظات کے اوراق کو اگر آپ کے ایام زندگی پر پھیلایا جائے تو اوراق کی تعداد ایام زندگی سے بڑھ جاتی ہے۔
ہندوستان میں ان دینی مدارس سے کیسے کیسے علماء حق پیدا ہوئے اور انہوں نے مذہب وملک کی کیا کیا گرانقدر خدمات انجام دیں، یہ ہمارے موضوع میں داخل نہیں، اس وقت صرف اتنی بات کا عرض کردینا ضروری سمجھا گیا کہ علماء حق نے یہ دینی مدارس ایسے وقت میں قائم کئے جس وقت ان مدارس کے نظام تعلیم وتبلیغ کو نہ کسی حکومت کی سرپرستی حاصل تھی اور نہ قومی خوانے کی پشت پناہی اور نہ ہی ملک کے لاکھوں روپیوں کی اوقاف کی آمدنی سے ان کو امداد حاصل ہوتی تھی، بلکہ یہ نظام بظاہر صرف ملک کے دینی شعور واحساس رکھنے والے اہل خیر کی مالی امداد وتعاون اور چندہ کے موجودہ طریقہ پر چل رہا تھا اور درحقیقت بے سروسامانی اور محض اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اس نظام کی بنیاد تھی۔ غرضیکہ چندہ کے موجودہ مروج طریقہ کی بنیاد پر مدارس کاقیام کیا گیا اور ملک میں جابجا مدارس قائم کردیئے گئے، اس وقت سے یہ نیا نظام مدارس کے لئے جاری ہوگیا۔
علماء نے قوم کے سامنے دست سوال دراز کیا، مدارس کے لئے چندے مانگے، ہر طرح کے طعنے سنے، کئی قسم کے اعتراضات برداشت کئے مگر تعلیم مذہب کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور فاتح قوم انگریز کے منصوبے کو کامیاب نہ ہونے دیا۔ مدارس نے نہ صرف یہ کہ کمپنی کی تجویز کردہ لامذہب بنانے والی مذکورہ تباہ کن سکیم اور مہلک ترین حربہ کی زد سے علم ومذہب کو بچالیا اور عیسائیت کے تیز وتندطوفان اور بڑھتے ہوئے سیلاب عظیم کی لپیٹ سے ملک کو محفوظ کرلیا، بلکہ مسلمانوں کو بحیثیت قوم مسلم کے مٹنے اور ختم ہونے سے بھی بچالیا، ورنہ یہ نظام تعلیم اور مشن اسکول اور عیسائیت کی اشاعت کے لئے پادریوں کی سرگرمیاں جس کے پیچھے حکومت وقت کی بے پناہ قوت کام کررہی تھی، ہندوستان کے مسلمانوں کو اسی طرح اپنی لپیٹ میں لے لیتے.