اسلام مخالف سائبر وار سے مقابلہ کرنے کے لئے عصری تعلیم ضروری

سید اسحاق گورا
اگرمدارس اسلامیہ میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کا بھی انتظام ہو ، تو یہ بھی مذہب اسلام کے لیے تر قی کا باعث ہوگا۔آج ہمارے مدارس کے طلبہ مذہب کی تمام تعلیم حاصل کر لیتے ہیں،مگر دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیوی تعلیم سے غافل رہتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ آج انٹرنیٹ کے ذریعہ نہ جانے کتنے ایسے بدبخت لوگ  بیٹھے ہیں جنھوں نے مذہب اسلام کو بدنام کرنا اپنا پیشہ سمجھ رکھا ہے اور نہ جانے ایسے ایسے گستاخانہ کارنامے کرتے رہتے ہیںجو مذہب اسلام کے لیے چیلنج ہیں۔ وہ دنیوی تعلیم سے غافل ہونے کی وجہ سے بے خبر ر ہتے ہیں ۔ اگر ہم کچھ دیر کے لیے مان لیں کہ مدارس سے فارغ ایک طالب علم جو مذہب کی تمام تعلیم سے وابستہ ہے اور وہ کسی ایسے محکمے میں جائے جہاں اس کو کوئی فارم بھرنا پڑے،جیسے ریلوے ریزرویشن وغیرہ، تو ایسے میں وہ کیا کرے گا؟ ظاہر ہے وہ ہر ایک کے آگے اس فارم کو لیکر جائے گا ۔ یقینا بہت سے کچھ بد اخلاق اس کو دھتکار بھی دیں گے۔تو یہ اس کے لیے ایک بڑی توہین ہے۔
اب یہ کہنے میں کوئی پس وپیش نہیں ہونا چاہیے کہ انفارمیشن ٹیکنا لوجی کے زمانے میں مغرب کے اسلام دشمن طبقے نے اسلام کے خلاف سائبر وارڈکلیئر کردی ہے۔ لہٰذا عالم اسلام کو چاہیے کہ اس سائبر وار کا مقابلہ سوجھ بوجھ اور ہوش مندی کے ذریعہ کس طرح کیا جائے، اس کی حکمت عملی تیار کرے ۔ ایک بات واضح ہوچکی ہے کہ انٹر نیٹ کی مختلف ویب سائٹس یا سوشل ورکنگ نیٹ ورک یا سروس پرووائیڈنگ نیٹ ورک کو اسلام دشمن یلغار کے لیے کچھ عناصر کی جانب سے استعمال کیا جاتا ہے اور اس کے لیے جب عالم اسلام انٹر نیٹ پر پاپندی جیسے اقدامات کرنے پر مجبور ہوتا ہے تو اس کارروائی کو غیر جمہوری قرار دے کر مذہب اسلام کے خلاف پروپیگنڈا کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ اس لیے عالم اسلام اس اسلام دشمن سائبر وار کے خلاف کیا حکمت عملی اختیار کرتا ہے جو مناسب اور موثر ہو ، اس پر غور وخوض ہونا چاہیے ۔ انٹر نیٹ کے ذریعہ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی جو کوشش جاری ہیں ،وہ اکثر کمیاب اس لیے ہواکرتی ہیں کہ مسلمان زبردست ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔ مسلمانوں کی اس فطرت کو عالم اسلام کے دشمنوں نے اچھی طرح بھانپ لیا ہے ۔عالم اسلام کے خلاف ،سائبر وار میں اسلام دشمن طاقتوں نے جو بنیادی حکمت عملی اپنائی ہے اس کا بنیادی نکتہ ہے اشتعال (provocation)۔ بے شک جس قسم کی بے ہودہ اور اشتعال انگیزحرکتیں اسلام دشمن عناصر کی جانب سے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے اختیار کی جاتی ہیں،ان کے مد نظر مسلمانوں کا مشتعل ہونا فطری ہے ۔اگر مسلمانوں کے ساتھ کی جانے والی گھنائونی اور اشتعال انگیز حرکتیں جن کا مغرب کی جانب سے آزادی اظہار ( freedom of speech) کے نام پر زبر دست طریقے سے دفاع کیا جاتا ہے ۔کسی دوسرے مذہب کے افراد کے ساتھ کی جائے تو ا ن کا ردوعمل بھی اس قدر ہی شدید ہوگا۔یہ بات اور ہے کہ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لیے جس طرح  اہانت آمیز کارٹون یا اہانت آمیز ناول یا گستاخانہ ڈاکیو مینٹری فلم کا سہارا لیا جاتا ہے اور پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کی جاتی ہے، اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کے لیے مسلمان ایسی گستاخی ،عیسائی یا یہودی فرقہ کے ساتھ نہیں کرسکتے کیوںکہ مسلمان تو ان تمام انبیائے اکرام اور رسولوں کا بھی احترام کرتے ہیں،جو عیسائیوں اور یہودیوں کے لیے بھی محترم ہیں۔لیکن مغرب کے اسلام دشمن عیسائی اور یہودی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا احترم نہیں کرتے۔مسلمانوں کے صبر و برداشت (Tolerence) کا یہ سب سے بڑاثبوت ہے کہ مسلمان احتجاج تو کرتے ہیں لیکن عیسائی اور یہودیوں کی شر انگیزی کا جواب اس انداز میں نہیں دیتے۔ ہاں، مغرب نے مسلمانوں کے احتجاج کو فوری طور پر عدم برداشت  (Intolerence) قرار دے دیا ہے اور احتجاجی ردعمل کو انتہا پسندی (Extremeism) قرار دیا جاتا ہے اور پھر مسلمانوں کی اسٹیریوٹائپ امیج بنا کر غیر مسلموں کے نظروں میں انہیں بدنام کیا جاتا ہے ۔خلاصہ یہ ہے کہ سائبر ورلڈ میںعالم اسلام کے خلاف اسلام دشمن عناصر نے جو سائبر وار (Cyber War) چھیڑ رکھی ہے وہ زیادہ تر تفسیاتی جنگ(Psychological Warfare)کا حصہ ہے، اس لیے ہمیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے حکمت سے کام لینا ہوگا۔ حکمت سے کام لینے کے ساتھ ساتھ سب سے بڑی ضرورت یہ بھی ہے کہ ہمارے مدارس اسلامیہ میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی تعلیم کی بھی نہایت ضرورت ہے۔
ْٔ آج انٹرنیٹ پرجاری سائبر وار کی بنیاد کیا ہے ؟ اگر ہم تجزیہ کریںتو یہ پتہ چلتا ہے کہ عمل اور ردعمل(Action & Reaction) کے ساتھ یہ کہوں تو غلط نہ ہوگا کہ مدارس اسلامیہ میں دنیوی تعلیم طلبہ کو حاصل نہ کرنا بھی اس سائبر وار کی بنیاد ہے، جو آئے دن کوئی اسلام دشمن فتنہ یا اسلام دشمن تنازعہ پیدا کرتی ہے اور پوری دنیا جنگ کا میدان بن جاتی ہے۔وہ عالم اسلام کو مشتعل کرنے کے لیے کوئی عمل کرتے ہیںتا کہ ہم ردعمل کریں۔ یاد رہے کہ اس طرح کے عمل روزانہ، ہر گھنٹے،ہر منٹ،ہزاروں لاکھوں ویب سائیٹس،بلاگس،سوشل نیٹ ورکس پر جاری رہتے ہیں۔ اس طرح کے عمل کے ذریعے اسلام دشمن، قرآن دشمن اور گستاخانہ مواد انٹرنیٹ پر ہر منٹ ،ہر لمحہ لوڈکیا جاتا ہے ۔لیکن کیا سارے مسلمان یہ مواد (Material)پڑھتے ہیں ؟ جی نہیں، البتہ ان میں سے کوئی ایک ایسا مواد ہوتا ہے جیسا کہ گزشتہ دنوں فیس بک نامی سوشل نیٹ ورک پر بنایا گیا صفحہ (Everybody-Draw-Mohammed-Day)مسلمانوں کی توجہ حاصل کر گیا۔مسلمانوں نے ری ایکٹ کیا۔
یعنی اسلام دشمن طاقتوں کا یہ ایک کامیاب حربہ تھا، جو کامیاب ہو گیا۔ ایک ایسا عمل تھاجس نے مطلوبہ ردعمل (Required Reaction)حاصل کر لیا ۔سائبر ورلڈ میں مذہب اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جاری سائبر وار میں مطلوبہ ردعمل حاصل کر لینا ہی اسلامی دشمن طاقتوں کی بڑی کامیابی ہے ۔فیس بک پر اگر مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی غرض سے Everybody-Draw- Mohammed -Day نامی صفحہ بنایا گیا،تو مسلمانوں کا حکمت اور سوجھ بوجھ کے مطابق اس کا جواب یہ تھا کہ اس صفحہ کے خلاف فیس بک پر نئے صفحات بناتے،اور اس صفحہ کے خلاف نئی کمیونٹی بنا کر مہم چلاتے۔ایسا کئی مسلم دانشوروں نے کیا ،انہوں نے اہانت آمیز کارٹون سازی کے دن کے خلاف بھی کئی سائبر کمیونٹی بنائیں لیکن جس طرح ردعمل اہانت آمیز کارٹون کا دن منانے والے فیس بک صفحہ کے خلاف ظاہر کیا گیااس نے اس اہانت آمیز صفحہ کو مزیدمقبول اور موضوع بحث بنا دیا۔اس سے شر پسندوں کا مقصد حل ہو گیا،اور سائبر وار میں انہوں نے مزید ایک مورچہ جیت لیا۔مسلمانوں کو اگر سائبر ورلڈمیں جاری سائبر وار کو جیتنا ہے ،تو4-2 اہم نکات پر کام کرنا ہوگا۔ایک مسلمانوں کو اشتعال دلانے والے مواد کو چاہے وہ ویب سائٹس ہوں،بلاگس ہوں،سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس ہوں،یا ان پر شروع کی جانے والی کمیونیٹیز ہوں،بالکل نظر انداز کر دیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ انٹر نیٹ پر ہر طرح کا مواد ہر لمحہ بڑی تعداد میں موجود رہتا ہے ،اور ہر لمحہ اپ لوڈ کیا جاتا ہے ،اگر آپ گوگل یا کسی سرچ انجن میں Anti Muslim یا Anti islam لفظ ٹائپ کر کے کلک کردیں، تو لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں نتائج مل جائیں گے۔یعنی سائبر ورلڈ میں ڈھیروں اسلام دشمن ، قرآن دشمن مواد موجود ہے جسے ہم نظرانداز کرنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے ۔ یہ بھی سچ ہے کہ اسی گوگل ، یاہو یا کسی سرچ انجن پر قرآن واسلام کے بارے میں دو لفظ ٹائپ کرنے پر لاکھوں کی تعداد میں ایسے نتائج سامنے آئیں گے جس کے ذریعہ ہمیں ڈھیروں اسلامی ، دینی ، تبلیغی اور معلوماتی مواد بھی ملتا ہے ۔ اس لیے ہم جو مواد چاہتے ہیں اس پر کلک کریں ۔ مخالف منفی مواد کو نظر انداز کردیں ۔جس طرح ٹیلی ویژن کا کارو بار ٹی آر پی پر چلتا ہے کہ جس ٹیلی ویژن کو جتنے زیادہ لوگ دیکھیں گے اس کی اتنی  ٹی آر پی بڑھے گی اور اس کا اتنا زیادہ  بزنس ہوگا ۔
اسی طرح سائبر ورلڈ میں زیادہ تر کارو بار ہٹس (Hits)پر چلتا ہے ۔ جس انٹرنیٹ سائٹ پر جس قدر زیادہ ہٹس (Hits) ہوںگی ، جس ویب سائٹس پر جتنے زیادہ لوگ وزٹ(Visit)کریں گے ، وہ سائٹ مقبول ہوگی اور اتنا ہی زیادہ بزنس کرے گی ۔ ان ویب سائٹس کو ہٹس (Hits)کی تعداد کے حساب سے آمدنی (Revenue) ملتی ہے تو ہم اگر مشتعل ہو کر اسلام دشمن ، پیغمبر اسلام دشمن ، قرآن دشمن انٹر نیٹ سائٹس ، بلاگس اور سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی مقبولیت بڑھا رہے ہیں، ان کی ہٹس (Hits)کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں،  احتجاج کر کے نا دانستہ طور پر انہیں پروموٹ (Promote)کر رہے ہیں، ان ویب سائٹس پر وزٹ(Visit)کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ کر رہے ہیں تو ہم ایک طرح سے ان کی فتح آسان بنارہے ہیں، ان کا کام آسان کر رہے ہیں۔ وہ جو چاہتے ہیں ہم وہی کر رہے ہیں ۔ ہمیں کیا کر نا چاہیے ؟ہم وہ نہیں کر رہے ہیں (1)ہم ایسی اشتعال دلانے اور ردعمل پر اکسانے والی سائٹس کو با لکل نظر انداز کر دیں۔  (2) اگر ہمارے کچھ Hackers ہوںجو اس کام میں ماہر ہوںتو وہ ایسی ویب سائٹس کو (Hack)کر دیں۔ (3)حکو متیں اپنا کام کریںاور اس طرح کی ویب سائٹس کی مسلسل نگرانی کرکے انہیں بلاک کرنے کا کام جاری رکھیں۔ (4) مندرجہ بالا میں سے جو کام ہوں،زیادہ شور شرابہ نہ کیا جائے،یہ کام خاموشی سے انجام دے دیے جائیں۔ (5) اسلام پسند اور تبلیغی مواد اپ لوڈ کیا جائے اور اسے کس طرح مقبول عام کیا جائے اس کی حکمت عملی تیار کی جائے۔ (6) مدارس اسلامیہ میں مذہبی تعلیم کے ساتھ دنیوی تعلیم بھی حاصل کرائی جائے۔عالم اسلام کے خلاف سائبر وار شروع کی گئی ہے ۔اسے جیتنے کے لیے مندرجہ بالا سطور میں کچھ باتیں لکھی گئی ہیں،جنہیں ہم اپنی حکمت عملی کا حصہ بنا سکتے ہیں۔رہی انٹر نیٹ پر پابندی ،سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر پابندی یا فیس بک ،ٹوئیٹر ،یو ٹیوب جیسی مقبول سائٹس پر پابندی تو بار بار اس طرح کے اقدامات کے دیر پا نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔یہ سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس تو ڈش اینٹنا کی طرح ہیں۔جس طرح ڈش اینٹنا میں سینکڑوں ٹی وی چینل ہوتے ہیں،آپ ریموٹ کنٹرول کے ذریعہ من پسندٹی وی چینل دیکھتے ہیں ،جسے نہیں دیکھنا ہوتا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں (آپ کی توجہ اور زیادہ سے زیادہ TRPکے لیے ٹی وی چینل کیسے کیسے کھیل کھیلتے ہیں، یاد رہے) اسی طرح سوشل ورکنگ سائٹس اور انٹر نیٹ پر کروڑوں کی تعداد میں صفحات روزانہ بنتے رہتے ہیں،اپ لوڈ ہوتے رہتے ہیں،ہم جسے چاہیں نظر انداز کر دیں ،جس پر چاہیں توجہ دیں ۔یہ بات اگر ہم نے اپنے اختیار میں رکھی اور جو مذکورہ باتیں کہی گئی ہیں، اس کو بھی اختیار میں رکھیں، تو ہم کامیاب رہیں گے۔ اگر ہم اسلام دشمن عناصر کے ذریعے اشتعال میں آگئے، ان کے ایکشن پر مناسب ری ایکشن کر دیا،ان کے ریموٹ کنٹرول کا شکار بن گئے تو وہ کامیاب ہو جائیں گے۔ اس لیے سائبر ورلڈ میں جاری سائبر وار سے نمٹنے کے لیے ہمیں اپنا مزاج بنانا پڑے گا اور اس جنگ میں کامیابی کے حربے اختیار کرنے ہوں گے۔واضح ہو کہ ہم نے کچھ مورچے ضرور ہارے ہیں،لیکن سائبر وار اب بھی جاری ہے۔ہمیں اس کے لیے پختہ انتظام کرنا چاہیے۔
اردو چوتھی دنیا