خوارج کی تکفیر اور وجوب قتل پر ائمۂ دین کی تصریحات"

امام نووی ’’شرح صحیح مسلم‘‘ میں لکھتے ہیں
قوله صلی الله عليه وآله وسلم : ’’فإذا لقيتموهم فاقتلوهم، فإن فی قتلهم أجرا‘‘ هذا تصريح بوجوب قتال الخوارج والبغاة وهو إجماع العلماء. قال القاضی : أجمع العلماء علی أن الخوارج وأشباههم من أهل البدع والبغی متی خرجوا علی الإمام وخالفوا رأی الجماعة، وشقوا العصا وجب قتالهم بعد إنذارهم والإعتذار إليهم.
وهذا کله ما لم يکفروا ببدعتهم فان کانت البدعة مما يکفرون به جرت عليهم أحکام المرتدين، وأما البغاة الذين لا يکفرون فيرثون ويورثون ودمهم فی حال القتال هدر، وکذا أموالهم التی تتلف فی القتال.(2)
(2) نووی، شرح صحيح مسلم، 7 : 169، 170
’’حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ گرامی ۔ ’’اگر تم انہیں ملو تو ان کے خلاف کارروائی کرکے انہیں قتل کر دو کہ یقینا ان کو قتل کرنے میں اجر ہے‘‘ ۔ خوارج اور باغی دہشت گردوں کے ساتھ جنگ کے واجب ہونے پر صراحت ہے اور اسی پر علماء کا اجماع ہے۔ قاضی ابو بکر بن عربی نے فرمایا : تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ خوارج اور ان جیسے دیگر اہلِ بدعت دہشت گرد، اگر حکومت وقت کے خلاف خروج کریں، اجتماعی رائے کی مخالفت کریں اور ہتھیار اٹھا لیں تو ان کو ڈرانے اور راہ راست پر لانے کے لئے سمجھانے کے بعد ان سے قتال واجب ہے۔
’’یہ سب کچھ اس وقت تک ہے جب تک وہ اپنی بدعات کے سبب کافر قرار نہ دیے جائیں۔ لیکن اگر ان کے کرتوت ایسے ہوں جن کی بناء پر انہیں کافر قرار دیا گیا ہے تو ان پر مرتدین کے احکام لاگو ہوں گے۔ البتہ وہ باغی جن کو کافر قرار نہیں دیا گیا تو وہ خود بھی وارث بنیں گے اور دوسرے بھی ان کے وارث بنیں گے البتہ حالت جنگ میں ان کا خون رائیگاں جائے گا اور ان کے اموال پر بھی کوئی ضمان نہیں ہوگی۔‘‘
قاضی عیاض ’’الشفا (834 ۔ 836)‘‘ میں فرماتے ہیں :
وَاخْتَلَفَ قَوْلُ مَالِکٍ وَأَصْحَابِهِ فِی ذَلِکَ، وَلَمْ يَخْتَلِفُوا فِی قِتَالِهِمْ إِذَا تَحَيَّزُوا فِئَةً، وَأَنَّهُمْ يُسْتَتَابُونَ، فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا قُتِلُوا. وَإِنَّمَا اخْتَلَفُوا فِی الْمُنْفَرِدِ مِنْهُمْ. وَهَذَا قَوْلُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمَوَّازِ فِی الْخَوَارِجِ، وَعَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ الْمَاجِشُونِ، وَقَوْلُ سُحْنُونٍ. وَبِهِ فُسِّرَ قَوْلُ مَالِکٍ فِی الْمُوَطَّأ، وَمَا رَوَاهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ : يُسْتَتَابُونَ، فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا قُتِلُوا. وَقَالَ عِيسَی عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ : فَإِنْ تَابُوا وَإِلَّا قُتِلُوا، وَمِثْلُهُ لَهُ فِی الْمَبْسُوطِ قَالَ : وَهُمْ مُسْلِمُونَ، وَإِنَّمَا قُتِلُوا لِرَأْيِهِمُ السُّوءِ، وَبِهَذَا عَمِلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ. وَابْنُ حَبِيبٍ، وَغَيْرُهُ مِنْ أَصْحَابِنَا يَرَی تَکْفِيرَهُمْ.
’’خوارج کے بارے میں امام مالک اور ان کے تلامذہ کا قول اگر چہ مختلف ہے مگر ان کا اس بات پر اجماع ہے کہ اگر وہ جماعت سے علیحدگی اختیار کریں تو ان کے ساتھ جنگ کی جائے گی، اور وہ اس طرح کہ پہلے انہیں توبہ کرنے کی دعوت دی جائے گی، اگر وہ توبہ کر لیں تو بہت خوب ورنہ انہیں قتل کیا جائے گا۔ البتہ اختلاف ان میں سے صرف ایک فرد کے حکم کے بارے میں ہے، اگر وہ اکیلا ہو (تو کیا کیا جائے)؟ خوارج کے بارے میں یہ قول محمد بن الموّاز، عبدالمالک بن الماجشون اور امام سحنون کا ہے۔ اور یہ قول موطا میں امام مالک کے قول اور آپ سے مروی حضرت عمر بن عبد العزیزکی روایت (ان سے توبہ کے لئے کہا جائے، اگر وہ توبہ کر لیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کیا جائے) کی وضاحت کرتا ہے۔ امام عیسيٰ، امام ابن القاسم سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں : اگر وہ توبہ کر لیں تو انہیں چھوڑ دیا جائے ورنہ قتل کر دیا جائے۔ اور ان سے مروی اسی طرح کی روایت المبسوط میں بھی ہے۔ فرمایا : یہ اصلاً مسلمان تھے، مگر انہیں فتنہ و شرارت پر مبنی موقف رکھنے کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور عمر بن عبدالعزیز اور ابن حبیب نے بھی ان کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے۔ ان کے علاوہ ہمارے بہت سے مقتدر اکابر ان کے بارے میں تکفیر کا موقف رکھتے ہیں۔‘‘
قاضی عیاض مزید فرماتے ہیں :
وَقَوْلُهُ صلی الله عليه وآله وسلم فِی الْخَوَارِجِ : هُمْ مِنْ شَرِّ الْبَرِيَّةِ، وَهَذِهِ صِفَةُ الْکُفَّارِ. وَقَالَ : شَرُّ قَبِيلٍ تَحْتَ أَدِيمِ السَّمَاءِ، طُوبَی لِمَنْ قَتَلَهُمْ أَوْ قَتَلُوهُ. وَقَالَ : فَإِذَا وَجَدْتُمُوهُمْ فَاقْتُلُوهُمْ قَتْلَ عَادٍ. وَظَاهِرُ هَذَا الْکُفْرِ لَا سَيِّمَا مَعَ تَشْبِيهِهِمْ بِعَادٍ، فَيَحْتَجُّ بِهِ مَنْ يَرَی تَکْفِيرَهُمْ، فَيَقُولُ لَهُ الْآخَرُ : إِنَّمَا ذَلِکَ مِنْ قَتْلِهِمْ لِخُرُوجِهِمْ عَلَی الْمُسْلِمِينَ، وَبَغْيِهِم