ایک عورت کی خاموش چیخ !!

قلندر کی بات
                    ———متین خان ———

جج ... تمہارا نام کیا ہے...
عورت.. حضور والا ۔جسم پر لگے زخموں کے نشانات  میرے تعارف کے لئے اگر نا کافی ہیں تو آپکو سمجھانے کے لئے میرے پاس الفاظ بھی نہیں ہیں اس سے کیا فرق پڑتا ہے  کہ میرا نام کیا ہے میں کون ہوں کس کی اور کس قوم کی بیٹی ہوں، میں یہ بھی نہیں جانتی کہ جو مجھے اپنی بیٹی کہتے ہیں میں ان کی کیا لگتی ہوں۔
مجھے اب یہ بھی یاد نہیں رہا کہ میرے خریداروں نے مجھے کتنی بار فروخت کیا اس خریدو فروخت کے اذیت ناک مرحلے سے میں کتنی بار گزری ہوں.
لیکن یہاں سے جانے کے بعد مجھے وہی کام پھرکرنا ہے، برتن مانجھنے ہیں، جھاڑو دینا ہے۔ ہر ٹوٹتے برتن کا خمیازہ جاڑو کی مار میری قسمت میں لکھی ہے جسے آپ بدل نہیں سکتے ہیں
جج صاحب مجھے ہرشام روتے ہوئے دل کے ساتھ لبوں پر تبسم سجائے کسی کی رات روشن کرنا ہے.
حضور والا اگر آپ میرے لئے  کچھ کرنا چاہتے ہیں تو مجھ جیسی بدنصیبوں کو پیدا ہونے سے روکیں۔
میں اِس روشن خیال معاشرے کے تاریک گوشے سے تعلق رکھنے والے اُس خاندان  میں پیدا ہوئ ہوں جنکے بھائی اور باپ غربت سے تنگ آکر بچوں کا گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ موت اور پیدائش ہمارے قبیلے میں ایک واقعہ سے زیادہ اہمت نہیں رکھتی.
پیدا ئش کے بعد ہمارے پیدا کرنے والوں کو ہمیں کام پر لگانے کی جلدی ہوتی ہے تاکہ وہ پیدا کرنے کی قیمت  وصول کرسکیں اور ہم اپنی پیدائش کا قرض جلدی چکاسکیں
ہمارے یہاں شرابی شوہر ہمارے جسم کی دلالی کرکے  نان و نفقہ سے دس گنا ذیادہ  قیمت وصول کرتا ہے۔
حضور والا ۔ آپ کے شہرکے قحبہ خانے بھی مجھ جیسی بدنصیوں کے دم خم سے ہی آباد ہیں  کبھی کبھار آپکی پولس ان بدنام جگہوں پر چھاپے  مارتی ہے اور ان بکنے والے جسموں کو تھانے میں لاکر بند کر دیتی ہے اور آپکے سامنے پیش کرتی ہے جن کو عدالت سے ان کے خریدار ضمانت پر چھڑا لےجاتے ہیں
حج صاحب اتنا تو آپکو بھی معلوم ہے کون کس کی ضمانت کیوں دے رہاہے؟

جج صاحب ہمارے علاقے میں فلاحی ٹیمیں بھی حفظان صحت کے اصولوں کے پیمانے لیکر آتی ہیں ہم سے ہمدرری اسی حد تک ہے کہ ہم وہ طریقے اپنائیں جو مہذب معاشرے کی بقا اور تحفظ اور یہاں پر آنے والے شرفا کے بدنما چہرے چھپانے کے لئے ضروری ہیں تاکہ یہاں کی کوئ مذموم بیماری غفلت کے نتیجے میں انکے گھروں تک نہ پہنچ جائے اسلئے گناہ  کو محفوظ بنانے بنانے کے لئے تمام ضروری چیزیں  ہمیں مفت فراہم کی جاتی ہیں تاکہ انکے اعمال ہمارے کوٹھوں کی نالیوں سے بہہ کر سمندر میں جاملیں.

ہمارے بھائیوں کی قسمت بھی ہم سے بہتر نہیں ہوتی جن کا جسمانی اور نفسیاتی ا ستحصال ہماری ہی طرح ہوتا ہے ۔ آپ نے سنا ہوگا اونٹوں کے ساتھ دوڑ میں چھوٹے چھوٹے بچوں کی نکلتی چیخوں سے پاسبان حرم کس طرح لطف اندوز ہوتے ہیں۔

حضور ۔آپ تو معاشرہ کے شرفاء کے بچوں کی بنتی فحش فلموں اور جنسی استحصال کو نہیں روک سکے کمپنیوں اور دفتروں میں کام کرنے والی شریف عورتوں اور لڑکیوں کا استحصال نہیں روک سکے بچہ مزدوری کا مکمل خاتمہ کرکے پوری طرح صحیح تعلیم تربیت کا انتظام نہیں کرسکے  تو ہم جیسے رینگتے کیڑے مکوڑوں کی اوقات ہی کیا ہے

حضور ۔ میں نے سنا ہے پڑوسی ملک کے تبلیغی جماعت کے مولانا طارق جمیل نے اپنے ملک کے ایک گندے اور بدنام بازار کی گندگی صاف کرکے وہاں کی بدنام عورتوں کو عزت کی زندگی بخشی ہے جو کام وہاں کی حکومت نہیں کرسکی ایک مولوی نے کر دکھایا ہے ان عورتوں کے نکاح کا انتظام کرکے انکو معاشرے میں باعزت جینے کا حق دیا ہے اللہ اس مرد مجاہد کو جزائے خیر دے
لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہمارے ملک میں پوری انسانیت کو جنت میں لے جانے کی فکر کرنے والے ان جنتیوں کا جنتی ٹولا  ہمارے علاقے میں کبھی نظر  نہیں آتا
ہر جمعرات کو گلے میں عقیق کے ہار پہنے ہاتھ میں مور پنکھ کا جھاڑو لئے  ہوئے ڈھونگی پیر فقیر لوبان کی دھونی دینے والے نظر آتے ہیں جو دو روپئے لیکر  کاروبار میں برکت کی دعا  دیکر چلے جاتے ہیں۔

حضور ! میرے لئے وقت ضائع نہ کریں  آپکا وقت بہت قیمتی ہے پہلے ہی عدالت میں کروڑوں اور اربوں کے اہم معاملات حل طلب ہیں ان پر توجہ دیں جو اس شریف معاشرے کو چلانے کے لئے ضروری ہیں۔

[Paigham Media پیغام میڈیا‎]
https://m.facebook.com/Paighammedia