علمائے اسلام اور جدیدیت کے چیلنچ!!
قلندر کی بات
———متین خان———
آج علماء اسلام کے سامنے سابقہ تمام مشکل ترین چیلنجز سے ذیادہ مشکل جدیدیت کا چیلنج درپیش ہے یہ چیلنچ اس لئے مشکل ترین ثابت ہو رہا ہے کہ آج اس چیلنج سے نبرد آزما ہونے کیلئے اہل علماء بہت کم دستیاب ہیں،
علماء اسلام کی اکثریت جمود پسند ہے اور اسے توڑے بغیر جدیدیت کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے اور جدیدیت، اسوقت علماء اسلام کیلئے ایک ڈراونے خواب کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔
ماضی میں یہی صورت حال عیسائیت کو بھی درپیش ہوئی تھی لیکن عیسائی راہنما اپنے مذہبی تعلیمات کی روشنی میں براہ راست امت کی رہنمائ کرنے میں ناکام ثابت ہوئے کیوں کہ مذہب کی کچھ حدیں ہیں ایک مقام وہ آتا ہے جب براہ راست مذہب کی روشنی میں اجتہاد کئے بغیر قوم کی رہنمائ ناممکن ہوجاتی ہے ایک طرف تو مسلمان یہودیت کو فتح کرتے جارہے تھے دوسری طرف یہودیوں کو مذہب سے سربلندی کے لئے کوئ رہنمائ نہیں مل رہی تھی اس فکری جمود کا نتجہ یہ ہوا کہ اس دبی کچلی قوم نے اپنی پستی اور ذلت کا سبب مذہب کو سمجھ لیا اور نتیجہ میں مذہبی راہنما اور مذہب سے دامن چھڑا لیا انکے یہاں مذہبی تصور برائے نام رہ گیا انہیں میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوئے جنہوں نے پوری طرح مذہب کو چھوڑ دیا اور مسلمانوں کی چاپلوسی کرنے لگے اور مسلمانوں سے علوم فنون کے حصول کو اپنا نصب العین بنایا پوری طرح مہارت حاصل کی اسکے بعد مسلمانوں کے مقابلے میں اترے اور مسلمانوں سے مفتوحہ علاقے دوبارہ حاصل کرلئے ۔
آج مسلمان بڑے فخر سے دنیا کو بتاتے ہیں کہ جدید سائنس جن بنیادوں پر قائم ہے مسلمانوں کی فراہم کردہ ہے ، اور مغرب نے سائنسی علوم مسلمانوں سے حاصل کئے ہیں اگر یہ حقیقت ہے تو آج مسلمان اپنے اجداد کی میراث سائینسی علوم کو اپنانے میں دنیا سے پیچھے کیوں ہیں؟
اگر آج مسلمانوں کو چارلس ڈارون، آئن اسٹائن، اسٹیفن ہاکنگ کے نظریات سے اختلاف ہے اور انہیں ہم غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں تو انکے پائے کے ہمیں مسلمان سائنسدان پیدا کرنا ہوں گا
ماضی میں علماء کو ایسے چیلیج کا سامنا اسوقت ہوا جب مسلمانوں کو عرب سے باہر کی ثقافتوں کے ساتھ میل جول کا موقع میسر آیا، تو ایسے مسائل درپیش ہوئے جن کے بارے میں قرآن و سنت میں کوئی واضح رہنمائی میسر نہیں تھی
لیکن اس زمانے کے فقہاء، علماء، اور محدثین نے اسلام کو جمود کا شکار ہونے سے بچایا اسلامی تعلیمات کی تشریحات کو زمانے کی ترجیحات سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی علماء اسلام نے اس بدلتی ہوئی صورت حال کے تقاضوں کے مطابق اسلام میں ایک نئی اصطلاح متعارف کرائی جسے “فقہ” کے نام سے جانا جاتا ہے۔اور اسطرح “کتاب و سنت” کے علاوہ “قیاس” اور “اجماع” کو اسلامی قانون سازی کے بنیادی مصادر میں شامل کرکے اسلام میں ایک نئی روح پھونک کر زمانے کی ترجیحات سے ہم آہنگ کردیا۔
موجودہ وقت میں یہ صورت حال بھی بڑی دلچسپ ہے کہ عالم اسلام کے کچھ ممتاز علماء کرام قرآن سے سائنس کو ثابت کرنے کی جہدو جہد کرہے ہیں اسکے برعسک کچھ ایسے علماء کرام بھی ہیں جو قرآن سے ہی سائنس کو غلط ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور یہ صورت حال اس وجہ سے ہے کہ مسلمانوں نے سائنس کے صحیح اور غلط ثابت کرنے کے لئے قرآن کو معیار بنا لیا ہے، جبکہ قرآن سائنس کی کتاب ہی نہیں ہے اور نہ ہی سائنس قرآن کے صحیح اور غلط ثابت کرنے کے نکتہ نظر سے کام کرتی ہے بلکہ سائنس کے اپنے وضع کردہ وصول ہیں
جس عمارت کی بنیادیں ہمارے اجداد کی فراہم کردہ ہیں وہ عمارت آج ایک بلند ترین خوشما عمارت میں ڈھل چکی ہے تو آج اس عمارت سے کفر و بدعت کی بدبو کیوں آنے لگی؟ اگر گذشتہ کل اہل مغرب آپ سے سائنسی علوم مستعار لے رہے تھے تو یہ گذرا ہوا ماضی آپ کیلئے اس حد تک قابل فخر ہے کہ اسے بیان کئے بغیر آپ کی عظمت رفتہ کی داستان مکمل نہیں ہوتی، اور آج اہل مغرب سے اپنی گم گشتہ میراث کو دوبارہ حاصل کرتے ہوئے آپ کو اپنا ایمان خطرے میں محسوس ہوتا ہے۔
علم مومن کی گم کشتہ میراث ہے جہاں سے ملے حاصل کرلو مطلوبہ صلاحیت کے افراد اگر آج عالم اسلام کو میسر آ جائیں، تو جدیدیت کے بھنور سے نکلنا بہت آسان ہے بلکہ امت مسلمہ کو تعلیم اور ترقی کی نئی راہیں دستیاب ہونگی جسکے نتجے میں مسلمان ، اقوام عالم کے شانہ بشانہ چلتے ہوئے مثبت کردار ادا کر سکتا ہے اور اسلام کی صحیح ترجمانی کرسکتا ہے ۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں