مجھے بھاجپا سے گلہ نہیں، کانگریس سے شکایت ہے
| پانچ ریاستوں کے انتخابی نتائج کا ملک کے عوام کو بڑی بےصبری سے انتظار تھا۔ ان انتخابات کو نریندرمودی کی حکومت کے لیے سیمی فائنل مانا جارہا تھا۔ بالآخر 11/دسمبر کو دوپہر تک مطلع صاف ہوگیا اور تین ریاستوں میں کانگریس پارٹی کی شاندار کامیابی کے ساتھ واپسی ہوئی اور پانچ ریاستوں میں بھاجپا کو بدترین ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا اور وہ چاروں شانے چت ہوکر رہ گئی، بھاجپا کے خیمے میں ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا اور دوسری طرف کانگریس پارٹی کے خیمے میں جشن کا ماحول تھا شادیانے بجائے جارہے تھے اور مٹھائیاں تقسیم کی جارہی تھی۔ ملک کے مسلمانوں کی اکثریت کانگریس پارٹی کی غیر معمولی شاندار کامیابی اور بھاجپا کی ذلت آمیز شکست کی وجہ سے بہت خوش نظر آرہی تھی۔ ہمیں کانگریس کو تین ریاستوں میں نئی زندگی ملنے سے بالکل خوشی نہیں ہوئی بلکہ ہمیں خوشی اس بات کی ہوئی کہ بھاجپا کے غرور کا سر سرعام ملک کی عوام کے سامنے نیچا ہوا۔ بی جے پی بدنام زمانہ فسطائی تنظیم آر ایس ایس کا سیاسی ونگ ہے اور اس کی بنیاد ہی اسلام اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہے۔ آر ایس ایس اس ملک سے اسلام اور مسلمانوں کا دیس نکالا چاہتی ہے، ملک کی آزادی سے پہلے سے وہ اس ایجنڈے پر مسلسل کام کررہی ہے۔ مودی حکومت کے برسراقتدار میں آنے کے بعد اس میں بڑی تیزی آئی ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کے آثار مٹانے کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ موب لینچینگ کے ذریعے مسلمانوں کو قتل کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت کی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہروں کے نام تبدیل کیے جارہے ہیں، مسلمانوں کی جان و مال اور عزت و آبرو سبھی داؤ پر لگے ہوئے ہیں اور یہ سب چیزیں ان کے ایجنڈے کا حصہ ہے اس لیے ہمیں ان سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ |
کانگریس پارٹی نے آزادی کے بعد سے اس ملک پر مسلسل حکومت کی ہے اور مسلمان کانگریس پارٹی کو ہی ووٹ دیتے ہوئے آئے ہیں اور اس پارٹی نے غیر محسوس طریقے سے مسلمانوں کو زہریلے ناگ کی طرح سے ڈسنے کا کام انجام دیا ہے اور پچھلے ساٹھ سالوں میں منصوبہ بند طریقے سے ہمیں دلتوں اور پچھڑی ذاتوں سے بھی نیچے دھکیل دیا ہے، سچر کمیٹی کی رپورٹ اس کی زندہ مثال ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں ہی فرقہ وارانہ فسادات کے ذریعے ہماری معیشت کو تباہ وبرباد کیا گیا، بابری مسجد کو متنازعہ بنانے میں بھی کانگریس کا ہاتھ تھا اور بابری مسجد کا تالہ کھولوانے سے لیکر بابری مسجد کی شہادت تک میں کانگریس کا نمایاں ہاتھ رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ کانگریس اس وقت سے لیکر آج تک سنبھل نہیں پائی ہے۔ کانگریس میں جو مسلمان لیڈر ہے وہ اپنا ضمیر ہائی کمان کے پاس گروی رکھ دیتے ہیں اور اس وجہ سے وہ مسلمانوں کے وفادار کم ہائی کمان کے وفادار زیادہ دیکھائی دیتے ہیں۔ سیکولر ازم کا لبادہ اوڑھ کر کانگریس پارٹی نے مسلمانوں کو مسلسل دھوکہ دیا ہے، کانگریس پارٹی میں شروع دن سے ہی آر ایس ایس نواز کروپ رہا ہے اور وہ کانگریس کی اعلیٰ قیادت پر ہاوی رہا ہے اور ڈسیزن میکنگ میں اسی کروپ کا نمایاں ہاتھ رہا ہے،اس کی زندہ مثال پی وی نرسمہا راؤ ہے جنہوں نے بابری مسجد کی شہادت میں اہم رول ادا کیا تھا۔
اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ ہماری ساری شکایت کانگریس پارٹی سے ہی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرے اور سب سے پہلے اپنے اندر موجود آر ایس ایس نواز کروپ کو باہر کا راستہ دکھائے اور مسلمانوں سے انتخابات سے قبل جو وعدے کیے ہیں وہ پورا کریں۔
محمد خالد داروگر* دولت نگر، سانتاکروز، ممبئی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں