ہائے ہائے! اِس عمر میں شاہ صاحب کو کیا شوق چڑھا ؟
کہتے ہیں، "پہلے تولو، پھر بولو۔۔!"
ویسے تو یہ کہاوت صدیوں پرانی ہے، لیکن اِس کے ایک عملی نمونے کا آنکھوں دیکھا حال آپکو سناتا ہوں۔! یہ تقریباً 1988ء کی بات ہے ہم فیصل آباد کے علاقے "لکڑ منڈی" میں رہتے تھے۔ ہمارے گھر سے دو گھر دور ہمارے ایک ماسٹر جی کا گھر تھا، اُن کا نام تو مجھے آج بھی نہیں معلوم، کبھی پوچھنے کی جرات ہی نہ ہو سکی، لیکن اسکول اسٹاف اور سبھی طلباء انہیں عزت اور پیار سے "شاہ جی" کہہ کر پکارتے تھے۔ ایک بار شاہ جی اپنی اہلیہ کے ساتھ بازار جانے کیلئے ٹانگے میں بیٹھے تو کچھ ہی دور اُنکی اہلیہ کی ایک سہیلی جسکا گھر بھی قریب ہی تھا، وہ بھی بازار ہی جا رہی تھی، سو شاہ جی کی اہلیہ نے انہیں بھی اپنے ساتھ ٹانگے میں آنے کی دعوت دے دی، چونکہ ہفتے کی دوپہر کا وقت تھا، اور اگلے دِن اتوار اسکول سے بھی چھٹی تھی تو اِس لیے شاہ صاحب، اُن کی اہلیہ اور اُنکی سہیلی نے بڑے آرام سے خریداری کی اور اُس کے بعد وہ بازار ہی میں واقع ایک ہوٹل میں کھانا بھی کھانے چلے گئے۔ رات گئے جب یہ تینوں لوگ ٹانگے پر واپس گھروں کو لوٹے تو ایک "بریکنگ نیوز" اِن کا انتظار کر رہی تھی۔ محلے میں داخل ہوتے ہی پہلے شخص نے شاہ صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، "شاہ جی! مبارک ہو۔۔!"، چونکہ ساتھ میں خواتین تھیں تو شاہ صاحب نے اُس سے بات کرنا مناسب نہ سمجھا اور اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔ اگلے دِن کا سورج طلوع ہوا تو محلے بھر کی عورتیں شاہ صاحب کے گھر موجود تھیں، جن میں سے کچھ تو "مبارک باد۔۔!" دے رہی تھیں، اور کچھ کہہ رہی تھیں، "ہائے ہائے! اِس عمر میں شاہ صاحب کو کیا شوق چڑھا تھا کہ دوسری شادی کر ڈالی۔۔!" شاہ صاحب اور اُنکی اہلیہ نے بڑا معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی کہ "ایسا ویسا کچھ نہیں ہے۔۔!" لیکن وہ سب عورتیں یہی کہہ رہی تھیں کہ ہمیں بڑی پکی خبر ہے آپ نے اُس فرزانہ (شاہ صاحب کی اہلیہ کی سہیلی) سے شادی کی ہے، جس کے شوہر کو فوت ہوئے ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے اور اُس کے تین جوان بچے بھی ہیں۔ جب یہ خبر ہر زبان زدِ عام ہوئی تو کہیں ناں کہیں شاہ صاحب کی اہلیہ کو بھی شک گزرا کہ "ہو نہ ہو کہیں یہ سچ ہی نہ ہو، کیونکہ یہ کیسا اتفاق تھا کہ اِدھر ہم خریداری کیلئے نکلے، اور اُدھر فرزانہ بھی نکل پڑی۔۔!" وہ کیا کہتے ہیں "یک نہ شد دو شد۔۔!" شاہ صاحب ابھی ایک مسئلہ نہیں حل نہیں کر پائے تھے کہ اُنکی اہلیہ نے اپنا سامان باندھ لیا اور میکے جانے کی دھمکی دے دی اور صاف صاف کہہ دیا کہ "جب تک یہ معاملہ حل نہیں ہوگا، میں اِس گھر میں قدم نہیں رکھوں گی۔۔!" "مرتے کیا نہ کرتے۔۔!" اب تو شاہ صاحب کیلئے یہ مسئلہ حل کرنا ضروری ہو گیا تھا، وگرنہ بنی بنائی عزت اور بنا بنایا گھر دونوں تباہ ہونے جا رہے تھے۔ آخر انہوں نے علاقے کی سبھی خواتین کو مسجد میں اکٹھا کیا اور سب سے باری باری پوچھا کہ "کس کو سب سے پہلے اِس "افواہ" کا علم ہوا تھا۔۔۔؟" اب کسی کے پاس کوئی جواب نہ تھا، کوئی کسی کا نام لینے لگی اور کوئی کسی کا۔ پھر شاہ صاحب نے بات کو دوسرے زاویے سے پوچھا، "اچھا آپ سب یہ بتاؤ! ہمارے گھر سب سے پہلے کون سی خاتون آئی تھی یہ خبر سنانے۔۔؟" تب ایک خاتون کھڑی ہوئی، وہ محلے کے سب سے بڑے "رانا کریانہ جنرل اسٹور" والے کی بیوی تھی، اُس سے پوچھا "آپ کو کس نے بتایا تھا۔۔؟"، وہ کہنے لگی، "اسلم سبزی والے کی اہلیہ نے ۔۔!" اسلم سبزی والے کی اہلیہ سے پوچھا تو وہ کہنے لگی، "بشیر حجام والے کی اہلیہ نے۔۔!" بشیر حجام والے کی اہلیہ سے پوچھا تو وہ کہنے لگی "تنور والے چھیمے (سلیم) کی اہلیہ نے۔۔!! چھیمے کی اہلیہ سے پوچھا تو وہ بولی، "اکرم درزی کی اہلیہ نے۔۔!" اور یوں کرتے کرتے جب ڈور سے ڈور ملی تو کچھ الجھن سلجھنے لگی اور آخر میں پتہ چلا کہ صادق ٹانگے والے کی بیوی کو سب سے پہلے پتہ چلا تھا۔ اور جب اُن سے پوچھا کہ آپ کو کس نے بتایا تو انہوں نے کہا "رات کو میرا منجھلا بیٹھا نور دین کام سے واپس آیا تھا تو اُس نے بتایا تھا۔۔! آخر نور دین کو مسجد میں حاضر کیا گیا تو اُس نے کہا، "میں دوپہر کو کام سے جلدی گھر آ گیا تھا، لیکن جب آپکو، آپکی اہلیہ کو اور باجی فرزانہ کو ایک ساتھ ٹانگے پر دیکھا تو مجھے شک ہوا کہ آپ نے دوسری شادی کر لی ہے، پھر میں آپ کے پیچھے پیچھے ہو لیا، آپ جس بھی دُکان پر گئے، میں آپ کے پیچھے ہی تھا، مجھے ایک پل کو بھی نہیں لگا کہ وہ عورت آپکے لیے اجنبی ہے، اور پھر جب آپ نے ہوٹل پر بیٹھ کے ایک ساتھ کھانا کھایا تو بس وہیں سے مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کی شادی ہو چکی ہے۔۔!!" اُس کے بعد شاہ صاحب نے بڑے پیار سے اُسے سمجھایا کہ "بیٹا! پہلے بات کو اچھی طرح تولو، پھر بولو۔ مجھے اپنی عزت کی اتنی پرواہ نہیں ہے، لیکن تیری وجہ سے فرزانہ بہن کی عزت پورے محلے میں بدنام ہونے والی تھی۔۔!" خیر بعد میں سب اہل محلہ نے شاہ صاحب سے اور باجی فرزانہ سے معافی مانگی اور نور دین کو کھری کھری سنائیں۔۔!
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں