اس سامان تباھی پر انساں کو فخر ھے کاش انسان ناکام ھوگیا ھوتا
اس سامان تباھی پر انساں کو فخر ھے کاش انسان ناکام ھوگیا ھوتا
ھائیڈروجن کا ایٹم سب سے چھوٹا ہوتا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اگر ھائیڈروجن کے ایٹموں کو ایک سیدھی قطار میں رکھا جائے تو ایک انچ میں 6 کروڑ ایٹم آجائینگے !! لیکن اگر ھائیڈروجن کے صرف ایک ایٹم کا نیوکلیئس ٹوٹ جائے تو اس سے ایک کلوگرام کوئلہ جلائے جانے کے مساوی توانائی اور حرارت حاصل ہوتی ہے ۔ جبکہ یورینیم کا نیوکلئس ٹوٹنے سے اس سے کئ گنا زیادہ توانائی اور حرارت پیدا ہوتی ہے ۔ اب اندازہ لگائیے کہ ایٹم بموں میں جتنی بڑی مقدار میں یورنئیم وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے ان سب کے ایک زنجیری عمل کے تحت ایٹم ٹوٹنے سے کتنی بڑی اور خوفناک مقدار میں توانائی اور حرارت پیدا ہوتی ہوگی ! ایٹم بم جب پھٹتا ہے تو سب سے پہلے اسکی دھماکے کی حرارت سے کئی کلو میٹر تک ہر چیز فوری طور پر راکھ ہو جاتی ہے ۔ اسکے بعد اسکی آواز اور اس کی خوفناک گمک اس سے بھی کئی کلو میٹر آگے تک ہر شے کو تہس نہس کر دیتی ہے ۔ پھر اس سے ایک سیاہ رنگ کی چھتری سی بن کر آسمان کی طرف جاتی ہے جو جدید ایٹم بموں میں کم از کم سو مربع کلو میٹر تک پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ اس چھتری کے نیچے زمین پر درجہ حرارت خوفناک حد تک بڑھ جاتا ہے ۔ آپ اس سے اندازہ لگائیے کہ اس چھتری کے آخری کناروں پر یعنی ایٹم بم پھٹنے کی جگہ سےکوئی 50 کلو میٹر دور تک بھی اسکے نیچے زمین پر درجہ حرارت ایک ہزار ڈگری سنٹی گریڈ ہوتا ہے جو لوہے کو پگھلا دیتا ہے ۔ ان سب کے آخر میں ایک بہت بڑے علاقے میں درجہ حرارت کی اس اچانک تبدیلی کی وجہ سے بہت تیز ہوائیں چلنا شروع ہو جاتی ہیں جو ایٹم بم سے اٹھنے والی نیوکلیئر ڈسٹ اور تابکاری اثرات کو مزید کئی سو کلو میٹر تک اگے پہنچا دیتی ہیں اور وہاں بھی موجود تمام جانداروں کو فنا کر دیتی ہے ۔ ایٹم بم جہاں پھٹتا ہے وہاں کئی عشروں تک اسکی تابکاری کی وجہ سے جاندار کے لیے زندہ رہنا یا کم از کم نارمل رہنا ممکن نہیں ہوتا ۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں