مدینہ منورہ سے آگ کا نکلنا

مدینہ منورہ سے آگ کا نکلنا
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ھیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "قیامت اس وقت تک نہیں آئیگی جب تک کہ حجاز سے ایک آگ نہ بھڑک اٹھے جو بصرا کے اونٹوں کی گردن روشن کردے گی (بخاری و مسلم) فائدہ: اس حدیث میں جس آگ کا ذکر آیا ہے اس آگ کے بارے میں حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ اور دیگر مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس آگ کے نمودار ھونیکا واقعہ پیش آچکا ھے یہ آگ جمادی الثانی 650ھ جمعہ کے دن مدینہ منورہ کی بعض وادیوں سے نمودار ھوئ اور تقریبا مہینہ تک چلی. راویوں نے اسکی کیفیت یہ لکھی ہے کہ اچانک حجاز کی جانب سے وہ آگ نمودار ہوئ اور ایسا معلوم ھوتا تھا کہ آگ کا پورا ایک شھر ہے اور اس میں قلع یا برج اور کنگورے جیسی چیزیں موجود ھیں اسکی لمبائ چار فرسخ اور چوڑائ چار میل تھی. آگ کا سلسلہ جس پہاڑ تک پہنچتا اسکو شیشے اور موم کیطرح پگھلا دیتا. اسکے شعلوں میں بجلی کی کڑک جیسی آواز اور دریا کی موجوں جیسا جوش تھا اور یہ محسوس ھورھا تھا جیسے اسکے اندر سے سرخ اور نیلے رنگ کے دریا نکل رہے ہوں وہ آگ اسی کیفیت کے ساتھ مدینہ منورہ پہنچی مگرعجیب بات یہ تھی کہ اس کے شعلوں کیطرف سے جو ہوا مدینہ منورہ کیطرف آرہی تھی وہ ٹھنڈی تھی. علماء نے لکھا ھے کہ اس آگ کی لپیٹیں مدینہ کے تمام جنگلوں کو روش کیۓ ھوۓ تھیں، یہاں تک کہ حرم نبوی اور مدینہ کے تمام گھروں میں سورج کی طرح روشنی پھیل گئ تھی، لوگ رات کے وقت اسکی روشنی میں اپنے سارے کام کاج کرتے تھے بلکہ ان دنوں میں اس علاقے کے اوپر سورج اور چاند کی روشنی ماند ہوگئ تھی مکہ مکرمہ کے بعض لوگوں نے یہ شھادت دی کہ وہ اس وقت یمامہ اور بصرا میں تھے تو وہ آگ انہوں نے وہاں بھی دیکھی. اس آگ کی عجیب خصوصیات میں سے ایک یہ تھی کہ یہ پتھروں کو جلا کرکوئلہ کردیتی تھی لیکن درختوں پر اسکا کوئ اثر نہیں ہوتا تھا. کہتے ہیں جنگل میں ایک بہت بڑا پتھر تھا جسکا آدھا حصہ حرم مدینہ کی حدود میں تھا اور آدھا حصہ حرم مدینہ سے باھر تھا. آگ نے اس آدھے حصے کو جلا کر کوئلہ کردیا جو حرم مدینہ سے باھرتھا لیکن جب آگ اس حصہ تک پہنچی جو حرم میں تھا تو ٹھنڈی پڑ گئ اور پتھر کا وہ آدھا حصہ بالکل محفوظ رھا. بصرا کے لوگوں نے اس بات کی گواھی دی کہ ھم نے اس رات آگ کی روشنی میں جو حجاز سے ظاھر ھورھی تھی بصرا کے اونٹوں کی گردنوں کو روشن دیکھا (البدایہ والنہایہ ابن کثیر) (بحوالہ تیسری جنگ عظیم اور دجال تالیف مولانا عاصم عمر حفظہ اللہ ) --------------------------------------------