آپ کے نبی کون ہیں؟ ج: میرے نبی، حضرت محمدﷺ

س ۔۹ :آپ کے نبی کون ہیں؟ ج: میرے نبی، حضرت محمدﷺ بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي بن كلاب بن مرة بن كعب بن لؤي بن غالب بن فهر بن مالك بن النضر بن كنانة بن خزيمة بن مدركة بن إلياس بن مضر بن نذار بن معد بن عدنان اور عدنان کا تعلق اسماعیل بن ابراہیم، سے اور ابراہیم کا حضرت نوح علیہ السلام سے ہے۔ س ۔۱۰ : آپ ﷺ کو کس چیز کے ذریعے نبی ورسول کا درجہ دیا گیا؟ ج: آپ کو لفظ اقرا کے ذریعے نبی بنایا گیا اور مدثر کےذریعے رسول۔ س ۔۱۱ : آپ ﷺ کے معجزے کونسے ہیں؟ ج: سب سے پہلا معجزہ قرآن ہے، جس نے ساری مخلوق کو صرف ایک آیت لانے سے عاجز کردیا، فصاحت وبلاغت اور شدت ذہانت وعداوت کے باوجود مخالفین قرآن کریم کے مثل ایک چھوٹی سی سورت بھی نہیں لاسکے، دلیل ارشاد باری تعالیٰ ہے: ]وَإِن كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُواْ شُهَدَاءكُم مِّن دُونِ اللّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ} [البقرة: 23[ ترجمہ: (اور اگر تم کو اس (کتاب) میں، جو ہم نے اپنے بندے (محمدﷺ عربی) پر نازل فرمائی ہے کچھ شک ہو تو اسی طرح کی ایک سورت تم بھی بنا لاؤ اور خدا کے سوا جو تمہارے مددگار ہوں ان کو بھی بلالو اگر تم سچے ہو) اور ارشاد ربانی ہے:: [قُل لَّئِنِ اجْتَمَعَتِ الإِنسُ وَالْجِنُّ عَلَى أَن يَأْتُواْ بِمِثْلِ هَـذَا الْقُرْآنِ لاَ يَأْتُونَ بِمِثْلِهِ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيراً} [الإسراء: 88] (کہہ دو کہ اگر انسان اور جن اس بات پر مجتمع ہوں کہ اس قرآن جیسا بنا لائیں تو اس جیسا نہ لاسکیں گے اگرچہ وہ ایک دوسرے کو مددگار ہوں) س ۔۱۲ :کیا دلیل ہے کہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں؟ ج: ارشاد ربانی ہے: [وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىَ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ اللّهَ شَيْئاً وَسَيَجْزِي اللّهُ الشَّاكِرِينَ} [آل عمران: 144[ (اور محمد (صلی الله علیہ وسلم) تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت سے پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مر جائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ؟ (یعنی مرتد ہو جاؤ؟) اور جو الٹے پاؤں پھر جائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہ کر سکے گا اور خدا شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعاً سُجَّداً} [الفتح: 29] (محمدﷺ خدا کے پیغمبر ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے حق میں سخت ہیں اور آپس میں رحم دل) س ۔۱۳: نبوت محمدی کی کیا دلیل ہے؟ ج : آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے نبی ہے جس کی دلیل ارشاد باری تعالیٰ ہے:] مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَكِن رَّسُولَ اللَّهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ} [الأحزاب: 40] (محمدﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے والد نہیں ہیں بلکہ خدا کے پیغمبر اور نبیوں (کی نبوت) کی مہر (یعنی اس کو ختم کردینے والے) ہیں اور خدا ہر چیز سے واقف ہے) س ۔۱۴ : اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو کس دعوت کے ساتھ مبعوث فرمایا؟ ج: اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنےکی دعوت کے ساتھ مبعوث فرمایا،نیز آپ ﷺ نے مخلوق میں سے فرشتوں، انبیاء، صالحین، حجروشجر یعنی کسی بھی چیز کی عبادت کرنے سے منع فرمایا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رَّسُولٍ إِلَّا نُوحِي إِلَيْهِ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا فَاعْبُدُونِ} [الأنبياء: 25] (ترجمہ: اور جو پیغمبر ہم نےتم سے پہلے بھیجے ان کی طرف یہی وحی بھیجی کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں تو میری ہی عبادت کرو) اور ارشاد ہے: [وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولاً أَنِ اعْبُدُواْ اللّهَ وَاجْتَنِبُواْ الطَّاغُوتَ] [طہ:36] (ترجمہ: اور ہم نے ہر جماعت میں پیغمبر بھیجا کہ خدا ہی کی عبادت کرو اور بتوں (کی پرستش) سے اجتناب کرو۔) نیز ارشاد ربانی ہے: [وَاسْأَلْ مَنْ أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ مِن رُّسُلِنَا أَجَعَلْنَا مِن دُونِ الرَّحْمَنِ آلِهَةً يُعْبَدُونَ[ [الزخرف: 45] (اور (اے محمدﷺ) جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو۔ کیا ہم نے (خدائے) رحمٰن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: [وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ [ [الذاريات: 56] (ترجمہ: اور میں نے جنوں اور انسانوں کو اس لئے پیدا کیا ہے کہ میری عبادت کریں) مذکورہ دلائل قرآنی سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کی تخلیق صرف اپنی عبادت کے لئے فرمائی ہے، اور رسولوں کو اپنے بندوں کے پاس بھیج کر خالص اپنی عبادت کا حکم دیا ہے۔