اٹھ اور اپنے اس ماضی سے رشتہ جوڑ...

اے میرے نوجوان بھائی!
اے بھائی تو کتنا خوش نصیب ھے..کتنا عظیم ھے..تیرے دل میں اسلام بسا ھوا ھے تو اسلام کے سوا کسی عقیدہ و تہذیب کو ماننے اور اس کا اپنانے اور اس کو ترقی ھوتے دیکھنے کا روادار نھیں.. تجھے جوانی ملی تا کہ اس تو لاالہ الا اللہ کو سربلند کرنے کے لیے خرچ کر سکے...ذھن ملا کہ اس کلمہ کی فقہ حاصل کر سکے ھاتھ ملے تاکہ اس کا پرچم تھام سکے پاؤں ملے تا کہ پر خار گھاٹیاں عبور کر سکے حوصلے ودیت ھوئے تاکہ اوروں کو ساتھ ملا سکے لوگ ملے تا کہ تو ان کو اسلام سے روشناس کروا سکے تجھے کفر کا شر دیکھنے کو ملا تا کہ تو اس کو مٹانے کے لیے جہاد کر سکے تجھے اشکلات و اضطراب ملے تا کہ تو اسلام پر استقامت دکھا سکے تجھے اللہ کے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا جذبہ ملا تا کہ اس کا اظہار کر سکے تجھے صدیق و فاروق عثمان و علی حسن امیر معاویہ رض کی خلافت ملی تا کہ تو جمہوریت کا انکار کر سکے تجھے معاذ و معوذ خالد و ضرار طلحہ و زبیر ابن وقاص کی شجاعت سے نسبت ملی تا کہ تو اس پر فخر کر سکے...زندگی ملی تا کہ شہادت کا لطف لے سکے گناہ ملے تا کہ نیکی کو جان سکے.
اے بھائی اٹھ اور اپنے اس ماضی سے رشتہ جوڑ...