بھگوا دہشت گرد وں کی گرفتاری پر میڈیاکی خاموشی !چہ معنیٰ دارد

 ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام، وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچانہیں ہوتا۔ اس مشہور شعر کے مفہوم سے ہم ملک کی عوام و میڈیا سے کہنا چاہتے ہیں کہ گذشتہ دنوں مدھیہ پردیش سے گرفتار ہوئے 11بھگوا دہشت گرد معاملے میں ا ب تک میڈیا خاموش کیوں ہے؟ اگر ان بھگوادہشت گردوں کی جگہ کسی مسلم کا نام آتا تو پھر ملک میں سیاست داں اور میڈیا کے ذریعہ کہرام مچادیا گیا ہوتا، بیان بازی کا دور جاری ہوتا اور نیوز چینلوں و اخبارات میں خبریں شائع ہوتیں کہ گرفتار اِن دہشت گردوں کا کسی نہ کسی مبینہ مسلم دہشت گرد تنظیم سے رابطہ ہے۔ لیکن ہمیشہ کی طرح متعصب میڈیا اور سیا ست داں خاموش ہے۔ میں انہی لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مدھیہ پردیش سے 11بھگوا دہشت گرد جو پاکستان کے لئے جاسوسی کرتے تھے اسے اے ٹی ایس نے مدھیہ پردیش سے حراست میں لیا ہے۔ حراست میں لئے گئے دھروسکسینہ، منیش گاندھی، موہت اگروال، بلرام پٹیل، برجیش پٹیل، راجیوپٹیل، کرشن پنڈت، جتندر ٹھاکر، رتیش کھلر، جتندر سنگھ یادو اور ترلوک سنگھ وہ نام ہیں جومبینہ طورپرپاکستان کے لئے جاسوسی کرتے تھے۔ ان میں ایک بھی مسلم نوجوان نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سیاست داں اور میڈیا کوسانپ سونگھ گیاہے اوران لوگوں نے چپی سادھ لی ہے ۔ حراست میں لئے گئے بھگوادہشت گرد میں سے دھروسکسینہ بی جے پی مدھیہ پردیش کے مقامی آئی ٹی سیل کے صدر عہدہ پر فائز تھے لیکن جیسے ہی اے ٹی ایس نے پاکستان کے لئے جاسوسی کا کام کرتے ہوئے اسے گرفتار کیا، فوری طور پر بی جے پی نے اس سے اپنا پلہ جھاڑلیا۔ لیکن دھرو کو بی جے پی کےکئی پروگرام خاص کر مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، مرکزی وزیر کیلاش وجے ورگیہ جیسے کئی قدآور لیڈران کے جلسوں میں دیکھا گیا اور بڑھ چڑھ کر وہ ایسے پروگرام میں کام کرتے تھے۔ میرا سوال ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی اور بی جے پی سینئررہنما لال کرشن اڈوانی سے ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کو دہشت گرد کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں۔ آج یہ لیڈران کیوں خاموش بنے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سچے محب وطن ہیں تو پھر بھگوا دہشت گردوں سے جڑے سوالات کھڑا کریں اور ملک کے عوام کو اس سے جڑے سبھی پہلوئوں کی جانکاری دیں۔ لال کرشن اڈوانی ہمیشہ اپنے بیانات میں بولتے رہتے ہیں کہ دہشت گرد مسلمان نہیں ہوتے ہیں لیکن گرفتاری دہشت گردی کے نام پر صرف مسلمانوں کی ہی ہوتی ہے۔ تو پھر آج لال کرشن اڈوانی صاحب بھی اپنا منھ کیوں نہیں کھول رہے ہیں اور اسی منھ سے کیوں نہیں بول رہے ہیں کہ ہندودہشت گرد نہیں ہوتے ہیں لیکن دہشت گردی کے نام پر گرفتاری ہندو کی ہی ہوتی ہے۔ وہ کیوں بولیںگے؟ یہاں سوال مسلم کا ہے نہ کہ ہندو طبقہ کا! ہم مالیگائوں بم دھماکہ پر روشنی ڈالیں تو 11/26 میں شہید ہوئے ہیمنت کرکرے مالیگائوں بم دھماکہ معاملے کی تحقیقات کررہے تھے لیکن انہیں 11/26 میں شہید کردیا گیا۔ مالیگائوں بم دھماکہ معاملے میں شہید ہیمنت کرکرے نے جو فائل تیار کی تھی اس میں سادھوی پرگیہ، پرشانت پروہت، شری کانت اُپادھیائے جیسے دہشت گردوں کا نام سرفہرست تھا۔ اگر ہیمنت کرکرے کا قتل نہیں کیا جاتا تو یقینی طور پر ایسے دہشت گرد اور اس سے جڑے نیٹ ورک کو پوری طرح بے نقاب کردیتے۔ سوال یہاں یہ اُٹھتا ہے کہ بھگوادہشت گرد نے جس طرح کا رُخ اختیار کیا ہے اس کا خلاصہ ابھی تک کسی الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا کے ذریعہ نہیں کیا جارہا ہے کہ یہ بھگوا دہشت گرد کتنے دنوں سے پاکستان کے لئے جاسوسی کررہے تھے اور ان کے پاس سے تقریباً ہزاروں سم کارڈ کے علاوہ کئی اے ٹی ایم وغیرہ برآمد ہوئے ہیں۔ اتناہی نہیں، اس کا نیٹ ورک ملک کی کئی ریاست میں چلایا جارہا تھا۔ ہمیں تو یقین ہورہا ہے کہ پاکستانی سرحد پر جتنی بھی دراندازی اور ملک میں ہوئے کئے ایسے دہشت گردانہ معاملات پیش آئے ہیں ان میں ان لوگوں کا بھی اہم رول رہا ہے اور انہی لوگوں کے ذریعہ مسلم نوجوانوں کو لالچ دے کر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اگر اے ٹی ایس ودیگر ایجنسیاں صحیح طریقے سے جانچ کرے تو ہمیں یقین ہے کہ کئی ایسے معاملات کا انکشاف ہوگا وہیں ملک کے کئی بڑے سیاسی چہرے بھی بے نقاب ہوںگے۔ ہمیں اپنے لوگوں (میڈیا) سے ہی شکایت ہے کہ ملک کو نقصان پہنچانے والا اتنا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے لیکن اسے ابھی تک ملک کی عوام کے سامنے نہیں رکھا جارہا ہے تاکہ ایک طبقہ کو جس نگاہ سے ملک کے عوام دیکھتے ہیں وہ حقائق کو سمجھ سکیں۔

محمدعاقل حسین
بیوروچیف قومی تنظیم مدھوبنی

(بصیرت فیچرس)