مدعا میرا نہیں آپ سے شکوہ کرنا

زبان و قلم کا غلط استعمال کرنے والوں سے....
مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کہ آج کل اکثر لوگوں نے طنز تمسخر اور کردار کشی کو "فنکارانہ مہارت" اور "ادب عالیہ" سمجھ رکھا ہے .......لوگوں کی ترقی و خوشحالی اور شہرت و عزت سے ایسے جلتے ہیں کہ انسانیت بھی شرمسار نظر آتی ہے ......حوصلہ افزائی قدر شناسی محبت پروری جیسے حسن اخلاق کے آئنہ دار "الفاظ محبت" ہماری لغت سے نسیا منسیا ہوتے جارہے ہیں .....شرافت دم توڑ رہی ہے ...الفت کا چراغ نفرت کی آندھیوں سے بجھ رہا ہے محبت کے گلشن خزاں کی زد میں ہیں ......اسلامی اخلاق و انسانی اقدار معاشرے سے بوریا بستر لپیٹ رہی ہیں .......
           میرے بھائیو ¡ اگر کسی سے ہمدردی کے دو بول نہیں سکتے تو کم ازکم زبان کے خنجر تو نہ چلائیں اگر دلنواز نہیں ہیں تو دلخراش بھی نہ بنیں اگر بھڑکتی پہ پانی نہیں ڈال سکتے تو تلی بھی نہ ڈالیں.......لکھنا کمال نہیں خاموشی اور عفو و درگزر کمال ہے روزانہ مشاہدہ کرتا رہتا ہوں  کہ شہرت کے حریص اپنے الفاظ کے نشتر سے نہ جانے کتنوں کے سینے کو چھلنی کرتے رہتے  ہیں......... 
    اگر آپ لوگوں کے دلوں میں اترنا چاہتے ہیں تو اپنی دو انچ کی زبان اور ایک بالشت کے قلم پر بندش لگالیں .....ہم آپ "مایلفظ من قول الا لدیہ رقیب عتید" کی لرزہ بر اندام کردینے والی دھمکی پر کیوں غور نہیں کرتے.......؟ ذخیرہ احادث پر نظر رکھنے اور اسلامی علوم و فنون میں ڈاکٹریٹ کی اعلی ڈگریاں لینے والے اصحاب علم کا علم اس وقت کہاں چلا جاتا ہے ؟ "حسن اخلاق" اور "کف لسان" پر لچھے دار تقریں کرنے والوں کی زبانیں کیوں آتش فشاں بن جاتی ہیں ......
       یاد رکھئیے ¡ اگر آپ کسی پر تضحیک آمیز تنقید کرینگے تو دوسرا بھی آپ کے دامن کو تار تار کردے گا ....خوبیوں پر نظر رکھیں خامیوں کو نظر انداز کریں ہمارا ظرف و حوصلہ تو یہ ہونا چاہئیے تھا کہ
  *یہ میرا فرض بنتا ہے میں اس کے ہاتھ دھلواؤں*
*سنا ہے اس نےمیری ذات پر کیچڑ اچھالا ہے*
*ہم تو پھولوں کی طرح اپنی عادت سے بے بس ہیں*
*توڑنے والوں کو بھی خوشبو کی سزا دیتے ہیں*
لیکن آئے دن ناموری کے لالچی دوسروں کی حیثیت عرفی پر ڈاکہ ڈالتے رہتے ہیں یا اسفا علیکم ¡¡¡
      یاران باصفا ¡ اگر دل کا آئنہ صاف و شفاف ہوگیا اور محبت نوازی کی اعلی صفت ہماری زندگی کا حصہ بن گئی تو جنت میں داخلہ سے پہلے دنیا ہی میں وہاں کی جانفزا بہار کے جھونکے محسوس ہونے لگینگے.......
     اور اگر خدانخواستہ ہماری منفی فکروں کا رشتہ جنت سے بھی قائم ہو جائے تو وہاں کی دلربا رعنائیاں بھی بیابان و صحرا ہی نظر آئینگی..........زندگی جہنم بن جائے گی ......دوسروں کی عزت و شہرت دیکھ کر انسان حسد کی آگ میں جل کر خاکستر ہوجائے گا......یقین مانئیے ایسا آدمی اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود جانوروں سے بد تر ہے .....
*ظفر آدمی اس کو نہ جانئیے گا ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا*
*جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا*
      اصلاح اور صالح تنقید ضرور کریں یہ مطلوب و مقصود ہے لیکن حکمت عملی محبت اور ادب و احترام کا رشتہ ہاتھ سے چھوٹنے نہ دیں یہ ایسا انداز ہے جو بڑے بڑے سنگ دل کو پگھلا دیتا ہے....."ادفع بالتی ھی احسن فاذا الذی بینک و بینہ عداوہ کانہ ولی حمیم"
  *شدت غم سے چھلک آئے ہیں آنسو ورنہ*
*مدعا  میرا  نہیں آپ  سے شکوہ کرنا*
        بقلم -     لاشئی زبیر احمد ناصری