بدنام زمانہ طارق فتح کی مناظرہ سے راہ فرار. مفتی یاسر ندیم الواجدی نے دیا تھا مناظرہ کا چیلنج
دیوبند ( سمیر چودھری) گزشتہ کئی سالوں سے ہندوستان میں مقیم سلمان رشدی کے پیروکار طارق فتح آج کل الیکٹرانک میڈیا میں کافی سرخیاں بٹور رہے ہیں۔ زی نیوز پر ان کا شو' فتح کا فتوی ٰ'کافی دنوں سے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان انتشار کا سبب بنا ہوا ہے، پاکستانی نژاد طارق فتح اس شو میں اسلام اور دینی اقدار کا مذاق اڑاتے ہوے نظر آتا ہے، اس کے اس طریقہ کار نے انھیں آر ایس ایس کے حلقوں میں کافی مقبول بنادیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند کے فاضل ڈاکٹر مفتی یاسر ندیم الواجدی نے جہاں ان کے شو میں اٹھائے گئے اعتراضات کا ویڈیو بنا کر یوٹیوب کے پلیٹ فارم پر جواب دیا وہیں انھوں نے طارق فتح کو بھی مناظرے کا چیلنج کیا۔ شگا گو سے اون لائن گفتگو کے دوران مفتی یاسر ندیم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طارق اپنے پروگرام میں ایسے مولوی نما لوگوں کو بحث کے لیے دعوت دیتا ہے جو اس کے اعتراضات کا جواب نہیں دے پاتے اور اگر کبھی دیتے بھی ہیں تو چینل والے اس کو کانٹ چھانٹ کر دکھلاتے ہیں جس سے لوگوں میں یہ پیغام جاتا ہے کہ طارق فتح سچ بول رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسی بنا پر طارق فتح کو علی الاعلان دہلی میں مباحثہ کا چیلنج کیا گیا۔ طارق فتح یہ جانتا ہے کہ اگر مناظرے کے بین الاقوامی اصولوں کو سامنے رکھ کر اس چیلنج کو قبول کر لیا گیا تو اس کی حقیقت آشکارا ہوجائے گی۔ مفتی یاسر نے کہا دیوبند کے فرزندوں نے ہمیشہ باطل کا مقابلہ کیا ہے اور کبھی اسلام پر آنچ نہیں آنے دی۔ طارق فتح نے چونکہ اسلامی شریعت اور نبی کی سنت کا مذاق اڑایا ہے اور برادران وطن کو مسلمانوں سے بد ظن کرنے کی کوشش کی ہے اس لیے اس کا تعاقب کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ مفتی یاسر ندیم الواجدی کو پہلی کامیابی اس وقت ملی جب انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے طارق فتح کو چیلنج کا جواب دینے پر مجبور کیا اور اس نے آخر کار مفتی یاسر سے مناظرہ کرنے سے انکار کردیا۔ معہد الفکر الاسلامی دیوبند کے چیرمین ڈاکٹر عاطف سہیل نے کہا کہ طارق کا راہ فرار اختیار کرنا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ میڈیا میں آکر وہ جو کچھ بھی کہتا ہے وہ سراسر جھوٹ ہے۔ اگر وہ مفتی یاسر ندیم جیسی شخصیت سے مناظرہ کرتا تو دنیا کے سامنے اس کا جھوٹ کھل جاتا اور اس کا شو فورا بند ہوجاتا۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں