ہلاکت کے خریدار

مولانا سید احمد ومیض ندوی صاحب
ہلاکت خریدی جاتی ہے‘ جی ہاں! موجودہ تہذیب و ترقی کے عروج کے زمانے میں ہلاکت خریدی جاتی ہے۔ موت کے منہ میں دھکیلنے والے خاموش زہر کو لوگ نہایت اونچے دام دے کر خریدتے ہیں اور اس احمقانہ حرکت میں سب شریک ہیں‘ امیر ہوں کہ غریب‘ پڑھے لکھے ہوں کہ ان پڑھ‘ آفیسر ہوں کہ ملازم‘ کسان ہوں کہ تاجر‘ سب تباہی کے خریدار اور موت کے سودا گر ہیں۔ آپ کو حیرت ہوگی کہ عقل و ہوش رکھنے والا انسان کیسے تباہی اور ہلاکت کا خریدار ہوسکتا ہے اور کوئی پیسے دے کر کیونکر موت کو گلے لگائے گا۔ لیکن آپ کی حیرت اس وقت کا فور ہوجائے گی جب آپ معاشرہ کی حقیقی صورتحال سے باخبر ہوں گے ۔ خودکشی یہی نہیں ہے کہ آدمی زہر پی کر جاں بحق ہوجائے یا فین سے لٹک کر اپنی زندگی ختم کرلے بلکہ یہ بھی خودکشی ہے کہ آدمی ایسی چیزوں کے استعمال کا عادی ہوجائے جو بتدریج انسان کو موت کے دہانے پر پہنچاتی ہے۔ یا ایسی بیماریوں کا شکار بنادیتی ہے جس کا انجام موت کے علاوہ کچھ نہیں۔ تمباکو نوشی‘ گٹکھا‘ سگریٹ اور دیگر تمباکو اشیاء کا استعمال دراصل موت کو دعوت دینا ہے۔ یہ وہ لت ہے جس نے سارے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ہر سال ۳۱ ؍مئی کو دنیابھر میں عالمی یومِ انسداد تمباکو منایاجاتا ہے اور تمباکو سے ہونے والے نقصان کے اعداد و شمار منظر عام پر لائے جاتے ہیں۔عالمی صحتِ تنظیم (W.H.O) کی جانب سے عالمی سطح پر صورتحال سے نمٹنے کے لئے دنیا کے تمام ممالک کے لئے رہنما خطوط جاری کرتی ہے۔ گزشتہ ۳۱؍مئی کوہمارے ملک میں بھی حکومتی سطح پر تمباکو نوشی کے خلاف مہم کے طورپر پروگراموں اور میٹنگوں کا انعقاد عمل میں آیا۔ تمباکو نوشی کے نقصانات کا اندازہ دنیا کو سب سے پہلے ۱۹۳۰ء میں ہوا اس وقت سے عالمی قائدین سماج کو اس لعنت سے آزاد کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگارہے ہیں۔ لیکن ۸۳ سالہ طویل جدوجہد کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر سال تمباکو نوشی سے ملک میں ہونے والی اموات کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔
ملکی وعالمی سطح پر تمباکو نوشی کی لت میں کس قدر اضافہ ہورہا ہے اس کا اندازہ عالمی صحت تنظیم اور مختلف اداروں کی جانب سے منظر عام پر لائے جانے والے سروے رپورٹوں اور اعداد و شمار سے ہوتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب افراد تمباکو نوشی میں مبتلا ہیں ایک اور سروے کے مطابق دنیا میں سگریٹ نوشوں کی تعداد ۱۵249۱ بلین ہے۔ یہ لت یوروپی ممالک میں بھی عام ہے۔ تمباکو نوشی کے خلاف اہلِ یوروپ نے بہت پہلے سے مہم شروع کررکھی ہے۔ اس کے باوجود اب بھی ۲۰ فیصد انگریز سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ عالمِ اسلام اور بالخصوص عرب ممالک میں بھی اس لت کا مناسب معمول نہیں ہے۔ بعض عرب ملکوں میں خواتین میں سگریٹ نوشی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ مردوں کے مقابلہ میں خواتین کی بڑی تعداد سگریٹ پیتی ہے۔ اس حوالہ سے سعودی عرب دنیا میں پانچویں نمبر پر ہے یہاں کی ۷۸ فیصد خواتین سگریٹ نوشی کرتی ہیں۔ تعلیمی اداروں، شاپنگ مالزاور گھروں کے اندر دھوئیں کے مرغولے اڑانا عرب دوشیزاؤں اور ادھیڑ عمر خواتین کا پسندیدہ مشغلہ ہے۔ سعودی ماہرین کا کہنا ہے کہ ۸۰ لاکھ سعودی شہری یومیہ چار کروڑ ریال کی سگریٹ پیتے ہیں‘‘ العربیۃ‘‘ کی رپورٹ کے مطابق سعودی تعلیم گاہوں میں کئے گئے سروے سے پتہ چلا ہے میٹرک کی طالبات میں سگریٹ نوشی کی شرح ۴۲ فیصد مڈل کی طالبات میں ۲۸ فیصد جبکہ معلمات میں یہ شرح ۵۵ فیصد ہے۔ سروے کے مطابق ۴۰ فیصد سے زاد سعودی طلبہ سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔ سعودی کی نجران یونیورسٹی کے ماہرین نے ایک سروے رپورٹ تیار کی ہے جس کے مطابق سالانہ ۱۴ ارب ریال سے زائد رقم سگریٹ کی خریداری پر خرچ ہوتی ہے۔۔ ۲۰۰۰ءء میں عالمی ادارۂ صحت کی جانب سے کئے گئے ایک سروے کے مطابق سگریٹ نوشی کے حوالے سے مشرق وسطی دنیامیں پانچویں نمبر پر ہے۔ جہاں تک سگریٹ نوشی اور تمباکو اشیاء کے استعمال سے ہوئی تباہی کا تعلق ہے تو دنیابھر میں تمباکو نوشی کے سبب ہر سال ۵۰ لاکھ اموات ہوتی ہیں اور ۹۰ فیصد افراد پھیپھڑوں کے کینسر سے موت ک شکارہوتے ہیں۔ خود ہندوستان میں ہرسال اس لت کی سبب ۱۰ لاکھ سے زاد افراد موت کا شکار ہوتے ہیں۔ خلیجی ممالک میں سالانہ ۳۰ ہزار افراد سگریٹ نوشی کے سبب موت کوگلے لگا تے ہیں۔ برطانیہ میں ۱۹۶۲ء سے اب تک ۶۰ لاکھ افراد سگریٹ نوشی کے سبب اپنی جاں گنواچکے ہیں۔ بہت سے لوگوں نے ڈاکٹروں کے مشورے پر سگریٹ نوشی کرنا بند کردیا ہے ۔ اس کے باوجود انگلینڈ میں امواتک کی سب سے بڑی تعداد کا جب سگریٹ نوشی ہے۔ عالمی صحت تنظیم نے پیشین گوئی کہ ہے کہ اگر حکومتوں نے لوگوں کی یہ لت چھڑانے میں مدد نہ کی تو ۲۰۳۰ءء تک ہر سال ۸۰ لاکھ افراد تمباکو نوشی سے ہلاک ہوں گے ۔یہ تو قدیم سروے ہے لیکن ایک تازہ جائزہ میں کہاگیا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں تمباکو نوشی کی وجہ سے ۸۰ لاکھ لوگ موت کا شکار ہوتے ہیں جائزے میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ اگر یہی صورت بدستور جاری رہی تو ۲۰۲۰ تک تمباکو نوشی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد ایک کروڑ سالانہ پہنچ جائے گی۔ تازہ سروے کے مطابق ہر سال پچاس ارب روپئے سگریٹ نوشی پر خرچ کئے جاتے ہیں۔
ایک قدرے قدیم جائزے میں تمباکو نوشی میں مسلمانوں کے تناسب کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ دنیا کی کل آبادی ۵249۶بلین ہے اور دنیا کی کل مسلم آبادی دو بلین ہے۔ دنیا میں سگریٹ نوشی کرنے والوں کی کل تعداد ۱۵249۱ بلین ہے جبکہ اس میں مسلم سگریٹ نوشوں کی تعداد ۴۰۰ ملین ہے یعنی دنیا کے ۳۵ فیصد مسلمان سگریٹ نوشی کرتے ہیں۔ سگریٹ نوشی میں مسلمانوں کا یہ تناسب انتہائی تشویشناک ہے۔ ایک ایسی امت جس لاکھوں نونہال تعلیم سے محروم ہوں اور جو شدید معاشی پسماندگی کا شکار ہو اس سے تعلق رکھنے والے افراد سگریٹ نوشی ‘ گٹکھا‘ پان مسالہ میں اپنا سرمایہ ضائع کریں اس پر جتنا بھی ماتم کیاجائے کم ہے۔ معروف داعی مولانا کلیم صدیقی اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ’’ اس وقت مسلمانوں کی آبادی ۲۰ کروڑ سے بہت زیادہ ہے اس ۲۰ کروڑ میں ماہرین آبادیات کے نزدیک کم ازکم ۱۲ کروڑ لوگ ۱۲ سال سے زائد عمر کے ہیں۔ ایک محتاط سروے کے مطابق امت کا ہر چوتھا فرد پان‘ بڑی‘ سگریٹ ‘ پان پراگ کا شوق رکھتا ہے۔ گویا تین کروڑ لوگ اس شوق میں مبتلا ہیں‘ پان‘ بیڑی اور سگریٹ پر سب سے کم خرچ کرنے والا مسلمان د روپئے یومیہ خرچ کرتا ہے اس طرح امت کی کمائی کے ۳۰ کروڑ روپئے یومیہ اور سال کے ۳۶۵ دن میں ایک کھرب نو ارب پچاس کروڑ روپئے امت کے اس لغو فضول اور خطرناک شوق پر صرف ہوتے ہیں۔
سگریٹ نوشی صحت انسانی کے لئے کس قدر تباہ کن ہے اس سے ہر شخص واقف ہے۔ سگریٹ نوشی دراصل ہلاکت اور تباہی کو دعوت دینا ہے ۔ یہ دراصل مہلک اور جن لیوا امراض کو پالنا ہے۔ دنیا بھر میں کینسرکی سب سے بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے۔ تمباکو کے مسلسل استعمال اور مستقل سگریٹ نوشی سے بہت سی جان لیوابیماریوں کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ عالمی صحت تنظیم کا کہنا ہے کہ سگریٹ نوشی صحت کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ اس سے پھیپھڑوں ا کینسر ہوتا ہے پھر یہ سانس کی بیماریوں کا سبب بنتی ہے۔ یہ امراض قلب اور فالج کے خطرات میں اضافہ کرتی ہے۔اس کے مسلسل استعمال سے دق کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔اس کے علاوہ حلق ‘ زخرے‘ غذا کی نالی‘ سانس کی نالی‘ جگر‘ گردہ اور معدہ وغیرہ تباہ ہوکر رہ جاتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی سے جوڑوں کو بھی کافی نقصان پہنچتا ہے۔ سگریٹ کا دھواں شریانوں اور ہڈیوں کی ’’مسکیولوسکلیٹن‘‘ نظام کو وسیع پیمانے پر متاثرکرتا ہے۔ ہڈی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آج کل نوجوانوں میں کولہے کی ہڈیوں کے امراض تیزی سے ہورہے ہیں۔ موجودہ دور میں نوجوانوں میں ’’اولیسکولر نیکروسس آف ہپ بون‘‘ کی پریشانی بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے کولہے بدلنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے۔ واقف کار جانتے ہیں کہ سگریٹ دھوئیں کے تین اجزاء خاص ہیں اس میں کلوٹین ہوتا ہے۔ جو ایک بار تمباکو نوشی کرے اسے بار بار طلب ہوتی ہے۔ دوسرا کاربن ڈائی آکسائیڈ ۷۰۲ ہوتا ہے۔ یہ کیس خون کے ذریعہ جس میں شامل ہوکر آکسیجن کو کم کردیتی ہے جبکہ زندہ رہنے کے لئے آکسیجن انتہائی ضروری ہے۔ ورنہ سانس لینے میں تکلیف ہوتی ہے تیسرا جز تار (TAR) ہوتا ہے۔ یہ سیاہ رنگ کا چمکدار مادہ خطرناک تو ہوتا ہی ہے پھیپھڑوں اور دل کی نالیوں میں بھی بیٹھ جاتا ہے اور طرح طرح کی بیماریاں پیدا کرتا ہے۔ تمباکو میں پایاجانے والا نکوٹین جسم میں زہریلا اثر چھوڑتا ہے جس کا اثر شریانوں‘ جوڑوں اور ہڈیوں پر پڑے اور سگریٹ کا دھواں زخم کے ٹھیک ہونے کے عمل کو انتہائی سست کردیتا ہے۔ ملک کے ایک ہندی سرجن کا کہناہے کہ نکوٹین ہڈیوں کو فریشر بھر نے کے عمل اور الیسٹروجن ہارمون کے اثر کو کم کرتا ہے اور یہ وٹامن سی اور ای سے ملنے والے اینٹی ایکٹ نٹ اجزا کو بے اثر کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کو کولہے کے فریشر کا زیادہ خطرہ رہتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی کرنے والی خواتین کے جسم میں الیسٹروجون ہارمون کے استعمال کے عمل کو متاثر کرکے ہڈی کے مرض میں اضافہ کرتا ہے۔ نیز تمباکونوشی خواتین کی ریڑھ میں فریشر کے خطرے کو بڑھاتی ہے۔ کیونکہ اس سے ہڈیوں کی موٹائی کم ہوجاتی ہے۔ کئی مطالعات سے معلوم ہوا ہے کہ تمباکو نوشی سے جلد میں مینو پاز ہوسکتا ہے۔ سگریٹ پینے سے اسپائن لیگا مینٹ کمزور ہوتا ہے اور ہڈی شریان کا بننا کم ہوجاتا ہے ۔ ان ساری بیماریوں سے ہٹ کر صرف ایک کینسر ہی ایسا مرض ہے جوسگریٹ نوشی کرنے والوں کے لئے کافی ہوجانا چاہئے۔ انسان کی صحت اور اس کی حیات اللہ کی امانت ہے۔ نقصان دہ چیزوں اور بیماریوں سے اس کی حفاظت کرنا ہر انسان کی ذمہ داری ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: ولا تلقوا بایدیکم الی التھلکۃ‘‘۔ (البقرۃ: ۱۹۵) ’’تم اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو‘‘۔ تمباکو نوشی دراصل خود کو ہلاکت کے قریب لے جانا ہے اور خودکشی شریعت میں حرام ہے۔ ’’ولا تقتلوا انفسکم‘‘۔ (النساء: ۲۹) تم اپنے آپ کو قتل نہ کرو‘‘۔ قرآن و حدیث کی رو سے اس چیز کا استعمال درست نہیں جو صحت انسانی کے لئے نقصان کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے پاکیزہ اور مفید چزوں کو حلال کیا اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے: ’’ویحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبآئث‘‘۔ (الاعراف :۱۵۷)
ان کے لیے وہ پاکیزہ چیزوں کو حلال کرتے ہیں اور خبیث چیزوں کو حرام۔ تمباکو اپنی بدبو اور ہلاکت خیز اثرات کے سبب خبیث چیزوں میں شامل ہے۔ تمباکو نوشی میں ایک طرح کا نشہ بھی ہوتا ہے اور وہعقل اسنانی کو نقصان پہنچاتی ہے اور نبی ﷺ نے ایسی چیزوں ے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں وارد ہے ۔ ابوداؤد میں ہے‘ آپ ﷺ نے ہر اس چیز سے جو نشہ پیدا کرنے والی ہے یا عقل میں فتور ڈالنے والی ہے منع فرمایا ہے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی سے آدمی کے منہ میں بدبو پیدا ہوتی ہے اور کچے لہسن اور پیاز کھاکر مساجد میں آنے سے بدبو ہی کی وجہ سے منع کیاگیا ہے۔ اس سے فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ سگریٹ نوشی میں بھی یہ علت بدرجہ اتم پائی جاتی ہے۔ سگریٹ نوشی میں مال کا بے جا اسراف ہے اور اسراف سے قرآن و حدیث میں منع کیاگیا ہے۔ اس سے ہٹ کر مسلمانوں کو سگریٹ نوشی کے معاملہ میں ایک اور پہلو سے بھی غور کرنا چاہئے ۔ وہ یہ کہ دنیاکی سب سے زیادہ سگریٹ بنانے والی کمپنی فلپ موریس اپنے منافع کا ۱۲ فیصد اسرائیل کو عطا کرتی ہے۔ اس کمپنی کے منافع کا اوسط دائرہ دس فیصد کی تعداد یومیہ ۱۰؍ملین ڈالر ہوتا ہے اس طرح ۸۰ ملین ڈالر یومیہ مسلمانوں کی جیب سے فلپ موریس کو جاتا ہے اور روزانہ ۶249۹ ملین ڈالر اسرائیل کو عطیہ دیتے ہیں۔ جسے اسرائیل فلسطینیوں پر مظالم ڈھانے کے لئے استعمال کرتا ہے۔
مولانا سید احمد ومیض ندوی صاحب
خلیفہ حضرت مولاناپیرذوالفقاراحمدنقشبندی