یہودیوں کا صیہونیت اور برہمنوں کا برہمن واد انسانیت کی تباہی ، بربادی ¡¡¡
خدا کی بنائ زمین پر ، برسہا برس سے ، ابن آدم پر کرتی آئے ہیں - افسوس ناک پہلو ہے کہ دنیا میں اور مادر وطن ہندوستان میں عام انسانوں کی تعداد ، صیہونیوں اور ہندوتواوادیوں سے کئ گناہ بڑھ کر ہے - اپنی بے پناہ مکاری ، عیاری کے ساتھ ، یہودی پورے امریکہ یوروپ پوری دنیا پر چھائے ہیں - تو کم وبیش یہی حال ہندوستان میں ہندوتواوادیوں کا ہے -
یہودیوں کی فلاح وبہبود کے لئے صیہونی تحریک کا قیام 1897 میں اور برہمنوں کی ہندوستان میں بالادستی فلاح و بہبودی کے لئے 1924 میں راشٹریہ سیوم سیوک سنگھ یعنی آر آیس ایس کا قیام ناگپور مہا راشٹرا میں ہوا - صیہونیت اور برہمن واد دونوں میں کم وبیش بہت سی باتیں مشترک ہیں - دونوں بھی مذہب اسلام مسلمانوں کے دشمن ہیں - کیا صیہونیت کے ماننے والے یہودیوں کو معلوم نہیں جسکی گواہی تاریخ عالم دیتی ہے کہ سینکڑوں سالہ مسلم دور حکومت میں مسمانون نے یہودیوں کے ساتھ منصفانہ مساویانہ سلوک کیا - مسلمانوں نے انگریز ، عیسائیوں کی طرح یہودیوں پر بربریت ظلم وستم نہیں کیا - یہ یہودیوں کی عیاری مکاریاں ہی تھیں کہ ان کے ساتھ ہٹلر جیسے ڈکٹیٹر نے جو ظلم وستم ڈھائے کہ انسانیت شرما جائے -
آج کا دور اک سائینسی دور ہے - دنیا اسقدر سمٹ گئ ہے کہ اک گاوں کی مانند ہے - اک موبائیل فون میں سکڑ کر آ گئ ہے - آج ملک میں آر ایس ایس کی نور نظر بی جے پی کی مرکز میں حکومت ہے - یہ ہندوتواودی حکومت آر ایس ایس کے اشاروں پر چلتی ہے - یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گاکہ آر ایس ایس کا قیام ہی مسلم ، دلت چھوٹے کسانوں ، پسماندہ طبقات اور درج فہرست قبائیل کے خلاف ہی ہوا - وہ ہندوستانی آئین ودستور کو نہیں مانتی - آر ایس ایس جمہوریت کو نہیں مانتی -دستور آئین انسانی اقدار سے بھرا پڑا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے - آج دنیا میں '' جمہوریت '' کو اک بہیترین طرز حکومت سمجھا جاتا ہے - عوام کی حکومت عوام کے لئے عوام کے ذریعے ، یہی جمہوریت کی تعریف ہے - ووٹ انتہاہی اہمیت وافادیت کا حامل ہوا کرتا ہے - یہ ہمیں حق دیتا ہے کہ ہم حکومت کرنے کے لئے اپنے نمائیندوں کو ووٹ کے ذریعہ چنیں - ووٹ گواہی ہے ، شہادت ہے کہ ہم جسے ووٹ دے رہے ہیں اس کے معیاری یا اوروں سے بہیتر ہونے کی شہادت اور گواہی دے رہے ہیں - انتہائ ایمانداری،دیانت داری کے ساتھ ہمیں اپنے ووٹوں کا استعمال کرنا ضروری ہے - ہمارے ووٹوں سے کامیاب ہونے والا معیاری نمائیندہ اپنی معیاری کارگذاری خدمت گذاری سماجی کارگذاری کی بناء پر وہ براہ راست اپنی اور ہماری نیک نامی کا باعث ہوا کرتا ہے کہ ہم نے اسے کامیاب کرنے میں ووٹ دیا - ہمارے نامہ اعمال میں یہ نیک عمل میں شمار ہونے کا باعث ہی - بناء سوچے سمجھے ، کسی بھی دباو میں آکر، ذات برادری مذہبی تعصب سے متاثر ہو کر ہم نے ووٹ دیا ، یہ انتہائ غیر معیاری حرکت ہے ایسا کرنے سے جو غیر معیاری امیدوار یا پارٹی آ گئ تو گویا اس کے ذمہ دار بھی ہیں - کہ ہم نے اس کی کامیابی میں ہم بھی شامل ہیں کہ ہم ، اسے ووٹ دے کر کامیاب بنانے میں شامل رہے - یہ ہماری بدنامی کا باعث نہیں بلکہ اس پر سزا یا عذاب بھی ہم پر ہوسکتا ہے -
کہتے ہیں یہودی سو فی صد ووٹ کرتے ہیں - ہندوتواوادی بھی ووٹ دینے کے معاملے میں سب سے بڑھ چڑھ کر ہیں - ہندوتواواد کو کامیاب بنانے میں وہ سب سے آگے ہی رہا کرتے ہیں - اتنا ہی پر اکتفا نہ کرے ہوئے مخالف ووٹوں کو یعنی سیکولر ووٹوں کی تقسیم کے لئے کوئ کسر کم نہیں چھوڑتے - ہندوتواوادیوں کے ووٹنگ کا تناسب ، غیر ہندوتواوادیوں اور سیکولر ووٹوں کے مقابلہ انتہائ زیادہ ہوا کرتا ہے - پہلے جن سنگھ اب بی جے پی ، بجرنگ دل ، وشو ہندو پریشد وغیرہ ، سارا سنگھ پریوار ہندوتواوادی اک ہو کر میدان انتخاب میں اترتے ہیں - بد قسمتی سے سیکولر جمہریت کو ماننے والی کمیونسٹ پارٹی ، کانگریس ، لالو پرساد کی پارٹی ، ڈی ایم کے ، شرد پوار کی راشٹروادی پارٹی وغیرہ وغیرہ الگ الگ الیکشن میں اتری ہیں تو کبھی بہن ماویا وتی کی بہوجن سماج پارٹی ،آر ایس ایس کی نور نظر بی جے پی کو ساتھ دیتے نظر آتی ہیں - بہن جی مودی جی کے ساتھ اسٹیج پرنظر آتی ہی نہیں بی جے پی کے ساتھ گجرات میں الیکشن لڑتی نظر آئی ہیں - کہیں چندرا بابو نائیڈو ، تو کہیں جے للیتا ، کہیں نتیش کمہارکی پارٹیاں بھی ہندوتواوادیوں کے یار دوست بنے رہے - سیکولر پارٹیوں کی نا اتفاقی ، سیکولر ووٹوں کی تقسیم ہی آج ہندوتوا وادی بی جے پی کے مرکز میں اقتدارکا باعث ہے - گذشتہ پارلیمانی الیکشن میزن تقریبا اکتیس فی صد ووٹ لے کر ہندوتواوادی بی جے پی کی سرکار ، آج دلی کے تخت پر براجمان ہے - جب گذشتہ بہار اسمبلی الیکشن میں لالو پرساد اور نتیش کمہار ، بہار اسمبلی الیکشن میں متحد ہو کر الیکشن لڑا تو مودی جی ان کے کابینی دوستوں اور آر ایس ایس سنگھی پریوار کی بے انتہا اٹھا پھٹک ، شور شرابہ کے باوجود ، بہار الیکشن میں ، بی جے پی زمین پر آ گری - شکست سے دو چار ہو گئ - لالو پرساد اور نتیش کمہار کے سیاسی اتحاد کو ، ہندوتواوادی پارٹیوں کے مقابلہ زبردست کامیابی ملی - ایسا ہی کچھ انشاء اللہ موجودہ یو پی اسمبلی الیکشن میں ، سماج وادی پارٹی اور کانگریس آئ کے ہاتھوں ، آر ایس ایس سنگھ پریوار کی نور نظر بی جے پی کے ساتھ ہوتا نظر آرہا ہے - بے وقعت ہوتا مسلم ووٹ یو پی ہی سے نہیں پورے ملک میں پھرسے بادشاہ نہیں تو بادشاہ گرہوتا نظر آرہا ہے - وہ اویسی برادران کی پارٹی کو '' ووٹ کٹوا '' سمجھ رہا ہے - وہ جانتا ہے کہ بہن مایا وتی میں ، ہندوتوا واد کو شکست دینے میں ، وہ دم خم نہیں ہے ، جو نوجوانوں اکھلیش یادو اور راہل گاندھی کی کانگریس اور سماج وادی پارٹی کے متحدہ انتخابی محاذ میں ہے - کانگریس اور سماج وادی کا سیاسی محاذ نہ بنا ہوتا تو یقینی طور بہن جی کی پارٹی کو ووٹ دیا جا سکتا تھا - یو پی کے عوام ترقی وکاس کی خاطر اور ہندوتوا کے جن کو بوتل میں بند کرنے کے لئے بے پناہ سائیکل نشان کی جانب اور ہاتھ کے انتخابی نشان پر مائیل ، کھینچے آتے دکھائ دے رہے ہیں - مسلمان بھی وہیں جاتا دکھائ دے رہا ہے- ہندوتوا کے خلاف ، وہ کسی بھی وقتوں سے زیادہ چوکنا نظر آ رہا ہے - سیاسی پختگی اس میں بے پناہ نظر آرہی ہے - اس میں ووٹنگ کرنے کا رجحان زیادہ ہی نظر آرہا ہے -
تو اک انقلاب کا ابھی انتطار نہ کر
جو ہو سکےتو اک انقلاب پیدا کر
-ہندوتواوادیوں میں دو نوجوان ، - اکھلیش یادو اور راہل گاندھی سے ،شکست وہ بھی اک بری شکست سے بے انتہا گھبراہٹ ہے - مودی جی اور آر ایس ایس و سارا سنگھی پریوار گھوم پھر کر فرقہ پرستی پر اتر آیا '' عید ، قبرستان ،بجلی ، دیوالی. .... ..'' جیسے بیانات دے رہا ہے ، کپڑے پھاڑ رہا ہے - بے پناہ اشتعال انگیزی پر اتر آیا تو ساکشی مہاراج جیسے لوگ بھی منہ سے نپھل نکال کر اپنی شتعال انگیزی کے ساتھ نفرتوں کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں یہ کوئ خلاف توقع نہیں - آم کے درخت سے آم ہی گرتے ہیں کیلے امرود نہیں - کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو قبرستان کے لئے جگہ دینے کی ضرورت نہیں - مرنے کے بعد مسلمانوں کو نذ آتش کر دیا جائے - یوگی آدتیہ ناتھ ، سوم دت بھی کہیں پیجھے رہ سکتے ہیں -- تو کوئ سر کاٹ کر لانے کی بات کررہا ہے - جمہوریت کی شان بان بڑھانے کے لئے یو پی اسمبلی چناو کی انتخابی مہم ، الیکشن کا آخری دور ختم ہونے میں ہے ، اک بڑی مہا بھارت میں تبدیل ہو چکی ہے - یو پی اسمبلی ہی سے ہو کر ملک میں ، مرکز پر حکمرانی کا راستہ جاتا ہے - اسی لئے ، ہمیں متحد ہو کر ہندوتواوادی بی جے پی کو ہرانا ضروری ہے - ہمارے نئے قائید ملت ، نئے شیر ہندوستان ، اویسی برادران ، تازہ تازہ ، ممبئ میونسپل کارپوریشن کی اہمیت وافادیت سے انکار کرتے ہوئے ، دوسو ستائیس سیٹوں والی میونسپل کارپوریشن میں صرف اور صرف دو سیٹوں پر کامیابی حاصل کر کے '' ووٹ کٹوا پارٹی کا مقام برقرار رکھا ، ان ہی کی وجہ سے مسلم ووٹوں کی تقسیم کاری ، بے پناہ ہوئ - شیو سینا اور بی جے پی پارٹی کے امیدوار پہلے سے زیادہ کامیاب ہوئے - پہلے کے مقابلہ میں ووٹ کٹوا اویسی برادران کی بناء پر بھگوا برادران بی جے پی اور شیوسینا کو زیادہ علاقوں میں کامیابی حاصل ہوئ ہے - اب ان علاقوں میں ، اقلیتوں مسلمانوں کو ، شہری مسائیل کے تدارک کے لئے بے انتہا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے - بی جے پی ، شیو دینا کے کامیاب کارپوریٹر مسلم علاقوں کے شہری مسائیل کے تدارک میں کھلم کھلا کوئ دلچسپی لیتے ہی نہیں بلکہ تدارک میں آڑے آتے ہیں - دوران انتخابی مہم ، مسلم علاقوں میں اویسی برادران کی مسلم مجلس اتحاد المسلمین کی جگہ جگہ آفس تھے - جو لوگوں سے بھرے پڑے رہا کرتے تھے - اویسی برادران ممبئ میں میونسپل کارپوریشن کی انتخابی مہم میں مسلمانوں کے جذبات ہھڑ کا کر ، ملت کو بالخصوص نوجوانوں کے ہاتھوں الفاظ کی تلوار تھما کر ہندوتوادیوں کو پہلے سے زیادہ کامیاب کر کے چلے گئے - الیکشن ہو گئے - اب اویسی برادران کی پارٹی مجلس اتحاد المسلمین کے آفس بند ہو گئے - دور تک نظر نہیں آتے - اویسی برادران ہندوتوا کو کامیاب بنانے آئے تھے -وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو کر چلے گئے - اب مسلمان بھگواوادیوں کو جھیلیں - اویسی برادران کو ، ممبئ میں بھی ، ہہار کی طرح مسلمانوں نے ٹھینگا بتلایا وہ بہار کی طرح ممبئ آئے اور چلے گئے ، الیکشن کے دوران ان کے ممبئ میں سینکڑوں آفس تھے ، لوگوں سے بھرے پڑے تھے - وہ تمام آفس گدھے کے سینگوں کی طرح غائیب ہیں - جبکہ اور سیاسی پارٹیون کے آفس ، شکست و ہار کے باوجود اپنی جگہ پر قائیم ہیں - قوم ملت شریعت کا بے انتہا راگ الاپنے والے اویسی برادران اور ان کی مجلس اتحادالمسلمین کا بہار سے ممبئ کارپوریشن تک کے الیکشن میں جو کجھ کردار رہا - وہ جگ ظائیر ہے - اب اویسی برادران ، قوم وملت کے نام پر یو پی کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے آئے ہیں - ہو پی کے مسلمانوں گمراہی سے بجنا ضروری ہے ورنہ اس سے ہندوتواوادیوں کو تقویت ہو گی - جس کا ٹھیکہ اور سپاری حیدرآباد کے اویسی برادران نے لیا ہے - یہ وہ حیدرآباد ہے، جہان شیر دکن ، شہید ملت ٹیپو سلطان رحمت اللہ علیہ کے ساتھ ، نظام حیدرآباد اور میر صادق نے ملک کی جنگ آزادی میں ، غداری نہ کی ہوتی تو ٹیپو سلطان رح کو جام شہادت نوش نہ کتنا پڑتا اور ملک کو آزادی حاصل کرنے میں تقریبا سو سال انتظار نہ کرنا پڑتا - بات ہی کچھ اور ہوتی - شاعر اسلام علامہ اقبال نے بنگال میں سراج الدولہ رح اور دکن میں میں ٹیپو سلطان رح کے ساتھ میر جعفر اور میر صادق کی غداری کو ، ملت اسلامیہ کے لئے انتہائ برا جانا اور ملت اسلامیہ کے لئے انتہائ برا مانتے ہوئے تا قیامت یہ پیغام ابدی دے گئے -
جعفر از بنگال صادق از دکن
ننگ دین ننگ ملت ننگ وطن
لگتا ہے کہ وقت کے غداروں ، میر جعفر میر صادق اور نظام شاہی حیدرآباد کی غلیظ روحیں ، اویسی برادران کے جسموں میں حلول کر گئ ہیں - ماضی میں لگے گندے داغوں کو آنے والی نسلیں اپنے معیاری کردار سے دھو کر صاف ستھرا کرتی ہیں -- - گندی بدنما لکیر کے سامنے صاف و شفاف لکیر کھینچ دیتی ہیں - مگر اویسی برادران ،نظام شاہی اور میر صادق جیسے ، اپنے پرکھوں اور بزرگوں کو ، جو تاریخ اسلام میں اپنے بد نما داغوں و کرتوتوں سے تاقیامت یاد رکھے جائیں گے - ان ہی کی اتباع کرنے ، دشمن اسلام و اانسانیت ، ہندوتواواد کو مضبوط کرنے نکلے ہیں -
ہمیں ملک کا وکاس ، ترقی ، قومی یکجہیتی ، فرقہ وارانہ اتحاد چائیے ان تمام باتوں کے پیش نطر یوپی کے مسلمانوں کو اپنے برادران قوم و ملت کے ساتھ ملک کر، ذات مذہب زبان اور کسی بھی تعصب سے بڑھ کر ، ہاتھ ، اور سائیکل کے انتخابی نشان کو ووٹ دینا ہے -
1924 کو اپنے روز قیام سے اب تک آر ایس ایس انتہائ منظم طریقہ سے پھل پھول رہی ہے - اسے دستور ہند قائیدے قانون سے کوئ لینا دینا نہیں ہے - آئین ہند کو نہیں مانتی - فرقہ واریت سے اسے بےحد پیار و محبت ہے - قومی یکجہیتی سے نفرت عداوت پرلے درجہ کی ہے - جو امن آشتی بین المذاہب دوستی کی بات کرے اس سے سخت نفرت ہے - اسے راہ سے ہٹا دینا وہ بہ خوبی جانتی ہے - اس کی مشال بابائے قوم مہاتما گاندھی کی زندگی ہے - آر ایس ایس کے جنونی نتھو رام گوڈسے نے انہیں جان سے مار دیا - آر ایس ایس کو کیا پتہ جسم کی موت ، نظریات کی موت نہیں !
صرف مسلمان ہی ہی نہیں دلتوں دیگر اقلیتوں اور اور متعدد پسماندہ طبقات سے بھی آر ایس ایس سے کو انتہائ نفرت و دشمنی ہے - انہیں وہ اک آنکھ نہیں بھاتی - چرچوں کو آگ لگانے میں اور ''فادر '' لوگون کو جان سے ماردینے میں وہ آگے ہے - دلتوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرتی آئ ہے - ان کی زندگی اور عزت وآبرو کے ساتھ کیا کچھ بے رحمانہ سلوک کرتی ہے - دلتوں کے لئے انہوں نے مندروں کے دروازے بند رکھے ہیں - یہ ہندوتواد ہی ہے کہ لاکھوں دلت تبدیلئ مذہب کرتے آئے ہیں - ہندستان کے عظیم لیڈر اور دلتوں کے بڑے رہنما ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر نے کہا تھا کہ میں ہندو پیدا ہوا ، مگر مرنا نہیں چاہتا اور اپنے لاکھوں معتقد کے ہمراہ بدھ مذہب قبول کر لیا - انسان اپنے اخلاق اور کرم سے چھوٹا یا بڑا مانا جاتا ہے - آر ایس ایس ذات پات کو پیدائشی مانتی آئ ہے - دلت،پیدائشی دلت ہیں ایسا وہ مانتی ہے - منو سمرتھی ویدوں ، ہندو مذہبی کتابوں میں لکھاہے اسے وہ مانتی ہے - سیکولر جمہوریت سے اسے نفرت ہے - ملک کے ترنگے جھنڈے سے اسے نفرت ہے - مسلمانوں کی شریعت سے اسے نفرت ہے - وہ انہیں دوسرے درجہ کا شہری بنا کر رکھ دینا چاہتی ہے - ووٹنگ کا اختیار چھین لینا چاہتی ہے - مسلمانوں ، دلتوں اقلیتوں کے تعلق سے ہندوتواوادی آر ایس ایس کے لیڈران کے خیالات نظریات کیسے ہیں یہ چھپے نہیں ان کی کتابوں میں چھپے ، درج ہیں - آر ایس ایس اک منطم cader پارٹی ہے - آر ایس ایس کے بانیان لیڈران پرچارکوں کی باتیں ان کے ممبران کے لئے انتہائ تقدس کا درجہ رکھتی ہیں - اسے ماننے اور اسے عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں - جس کی واضح مثال آر ایس ، ایس کے اک ہندوتواوای جنونی کے ہاتھوں بابائے قوم گاندھی جی کی شہادت ہی نہیں بلکہ - بلکہ پورے ملک میں آج تک ہونے والے فسادات میں آر ایس ایس اور اس کی ذیلی سنگھی پریوار کا شامل ہونا ہے - فسادات کے بعد ، سرکاری تحقیقاتی کمیشنوں کی رپورٹ چیخ چیخ کر چلا چلا کر کہتی ہیں کہ فسادات میں آر ایس ایس جن سنگھ ، بی جئ پی ، بجرنگ دل جیسے ہندوتواوادی شامل رہے - بے انتہا معصوموں کی جان و مال عزت و آبرو کی تباہی کا باعث رہے - آر ایس ایس پورے ملک کو ہندو راشٹرا بنانے پر تلی ہے -
ہندوتواوادیوں کو ہٹلر اور اور مسولینی جیسے ڈکٹیٹر فاشسٹوں سے بے حد پیار و محبت ہے - وہ ان کے آئیڈیل ہیں - ہندوتواوادی ، اپنے آپ کو سب سے اعلی اور سب سے زیادہ محب وطن قرار دیتے ہیں - مسلمانوں کو ملیچھ اور غدار وطن کہنے میں آگے ہے - مذہب اسلام کے خلاف آج یورپ اور امریکہ آگے آگے ہیں - جرمن ، فرانس ، انگلینڈ اس کے ہمنوا ہیں - امریکہ کے سابق صدور جارج بش سینئر اور جارج بش جونئیر اور موجودہ صدر ٹرمپ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں بولا ، کیا اور کر رہے ہیں - سابق صدر امریکہ بش نے اک نیا عالمی نظام دنیا میں لایا جس کا مقصد امن اور انسانیت کے نام پر ، خصوصی طور پر مشرق وسطی کے مسلمانوں کو تباہ وبرباد کرنے کے سوا کچھ نہ تھا - سابق امریکی صدر بش نے ، عراق پر جھوٹے بہانے کر کے جنگ کرتے وقت کہا تھا کہ ہم امن عالم کے لئے جنگ کررہے ہیں - جو ہمارا ساتھ دے وہ ہمارا جو ہمارا ساتھ نہ دے وہ ہمارا دشمن ، آر ایس ایس اور مودی جی بھی کم و بیش مسلمانوں کے تعلق سے اور انسانیت کی باتیں کرنے والوں کے تعلق سے یہی باتیں کر رہے ہیں - گوشت کھانے والے پاکستان چلے جاو - جو لوگ حکومت پر تنقیدیں کرتے ہیں انہیں ملک چھوڑنےاور غدار وطن کہکر معتوب کرتے ہیں - امریکی صدر ٹرمپ کی الیکشن میں ، کامیابی کے لئے ہندوتواوادیوں نے مذہبی عبادت '' ہون '' رکھا - امریکی صدر مسلمانوں کے لئے امریکہ میں طرح طرح کی پابندی لگا رہے ہیں - خدا کی زمیں کو اپنی ملکیت سمجھ کر اسے خدا کے بندوں کے لئے تنگ کررہے ہیں - دنیا میں یہودی صیہونی ارض فلسطین پر، جو کچھ ظلم وستم ، معصوم بے گناہ فلسطینی عربوں پر کررہے ہیں ، حکومت اسرائیل کی پست پناہی میں امریکہ کا ہاتھ نمایاں رہا - موجودہ صدر امریکہ کی طرح بیشتر سابق صدور مشرق وسطی میں ، عراق ، شام ، لیبیا ، عراق کی تباہی بربادی وہ اک نئے عالمی نظام کے نام پر کرتے آئے ہیں - ایسا ہی کچھ '' سب کا ساتھ سب کا وکاس '' کے نام پر ، ہندوتواوادی اور ہندوتواکے پرچارک رہے ، ملک کے وزیراعظم مودی جی بھی کم وبیش کررہے ہیں -
ملک کے متعدد صوبوں اور مرکز میں اقتدار میں آنے کے بعد ہندوتواوادیوان کےارادے اور خباثت ، پہلی بار بڑے پیمانے پر سامنے آئ ہیں - پورے ملک میں اس قدر '' عدم برداشت'' ایسا نہ تھا - دھرم کی ہوا ایسی گرم نہ تھی - ہندوتواوادی اس میں بڑھ چڑھ کے شامل ہیں - بڑے پیمانے پر ملک کے عوام جس میں ہمارے ہندو بھائ شامل ہیں ، ہندوتوا کے خلاف اجتجاج کر رہے ہیں - بطور اجتجاج بڑے پیمانے پر ادیبوں قلم کاروں فنکاروں نے اپنے سرکاری ایوارڈ واپس کئے - ریٹائیرڈ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس کاٹجو ، مہاتما گاندھی کے پوتے تشار گاندھی ، ٹریسٹا ستلواد ، گجرات کے سابق آئ پی ایس ہریش مندر اور بے شمار صحافی سرکردہ افراد ہندوتواواد کے خلاف میدان عمل میں ہیں -
صرف اور صرف سیاست میں بڑے پیمانے پر ہندوتواوادیوں کا عمل دخل بڑھ جانے پر ، ملک اک انتہائ پر آشوب دور سے گذر رہا ہے - اسے ختم کرنے کے لئے مناسب حکمت عملی برد باری کی اشد ضرورت ہے - ہندوتواواد کی گندی سیاست کو لگام دینے کے لئے مشبت سیاست کی ضرورت ہے - لوہے کو لوہے سے ہی کاٹا جا سکتا ہے - ورنہ مادر وطن ہندوستان جنت نشان کی بجائے مکمل طور پر جہنم زار بن جائے گا - ملک آئینی دستوری طور پر سیکولر جمہوریت پر مبنی ہے - ہندوتواوادی عناصر ، فاشزم آمریت کی جانب رواں دواں ہیں - ہزارون سالوں پرانا ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی گنگا جمنی تہذیب بکھرنے کو ہے - یہ سب کچھ ہندوتواود کی بناء پر ہو رہا ہے -
انتہائ اہمیت کے حامل یوپی الیکشن میں گیند پھر برسہا برس کے بعد مسلمانوں کے پالے میں ہے - اک زمانہ تھا کہ وہ بادشاہ گر تھا - پھر وہ بادشاہ گر بننے جا رہا ہے ، ہمارے یہا ں ووٹنگ کا فی صد کم ہوتاہے ، ممبئ میونسپل کے لیکشن میں مسلمانوں کا ووٹنگ فی صد ہمیشہ سے زیادہ رہا ہمیشہ سے زیادہ مسلمان کامیاب ہوئے ، حیدرآباد سے نام نہاد قوم وملت کے کاغذی شیر نہ آتے تو بات ہی کچھ اور ہوتی - ممبی میں یہاں کاغذی شیر ہی تھا جو مسلم علاقوں اور مساجد کے قریب ہی نظر آتا رہا - یہ کیسا شیر ہے کہ ہمارے غیر مسلم بھائیوں کے علاقوں میں نظر نہیں آیا - اب وہ یو پی کے مسلم علاقوں میں وہی کام کررہا ہے - یعنی مسلم ووٹوں کا بٹوارہ اور ممبئ کی طرح ہندوتواوادیوں کو تقویت دینا - اللہ کا فضل وکرم ہے کہ مسلمان اویسی برادران کے جھانسے میں نہیں آئے صرف ممبی میں دو ہی سیٹون پر مجلس اتحادالمسلمین کے امیدوار کامیاب ہوئے -
پورے ملک میں بڑھتے ہندوتواواد کو روکنے کے لئے مسلمانوں کو اہم رول ادا کرنا ضروری ہے - یہ مشبت و معیاری رول ماضی کی تاریخ میں شبت ہے - ملک کی آزادی کسی کے لئے ملکی فریضہ تھی - ہمارے علمائے دین نے اسے مذہبی فریضہ قرار دیتے ہوئے انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی کو جہاد قرار دیا -تقریبا پچاس ہزار علمائے دین نے ملک کی آزادی کے لئے جام شہادت نوش کیا -
ملک کو آزادی مل گئ - اچھا وپیارا انسانی اقدار سے ملک کا دستور ہونے کے باوجود ہمیں دستوری آزادی نہ مل سکی - آج مرکز اور ملک کے متعدد صوبوں میں ہندوتواوادیوں کی سرکار یں ہیں ، جو آئین اور دستور ہند کو نہیں مانتی - کہیں یو پی اسمبلی الیکشن میں کامیاب ہو کر ، عام آدمی باخصوص مسلمانوں کے لئے ہزیمتوں کا باعث نہ بن جائے ، اسے روکنے کے لئے ، ہندوتوادی بی جے پی کے خلاف ان سے ، سب سے بڑھ چڑھ کر مقابلہ
سماج وادی اور کانگریس پارٹی کےمتحدہ محاذ کو ہی ووٹ دینا بہیتر ہے -
کچھ نہ لکھنےسےبھی چھن جاتاہےاعجازسخن
چپ رہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے
کون روک سکتا ہے ہمیں زندان بلا سے مجروح
ہم تو آواز ہیں دیواروں سے بھی چھن جا تے ہیں
سبق پھرپڑھ لےطاقت کا شجاعت کا عدالت کا
لیا جائے گا تجھ سے کام دنیا کی امامت کا
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں